پگڑی اپنی سنبھالئے گا میر

معاف کیجئے گا بلکہ جان کی امان طلب کرتے ہوئے اگر عرض کر دیا جائے تو زیادہ بہتر ہے، اگرچہ اس پر ہماری جان کی امان طلبی کا کوئی جواز بھی نہیں بنتا کہ یہ بات تو ہم نہیں کہہ رہے بلکہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے ایک بیان میں کہی ہے کہ ”دنیا بھر میں کاروبار کھل رہے ہیں، یہاں الٹی گنگا بہتی ہے”۔ تاہم جان بخشی کی طلبی اس لطیفے کی وجہ سے بنتی ہے کہ دو اشخاص آپس میں کسی بات پر لڑ رہے تھے، ایک تیسرا شخص وہاں کھڑا یہ تماشا کر رہا تھا کہ لڑنے والوں میں سے ایک نے مدمقابل سے کہا، خاموش ہو جائو ورنہ میں تمہارے چونتیس (34) دانت توڑ دوں گا، تماشائی نے حیرت سے دھمکی دینے والے کو دیکھا اور کہا بھائی بندے کے منہ میں کل دانت32ہوتے ہیں آپ34کیسے توڑدیں گے تو اس نے جواب دیا، اس کے32دانتوں کیساتھ دو دانت تمہارے بھی میں نے شامل کر لئے تھے کیونکہ مجھے یقین تھا کہ تم اس معاملے میں خواہ مخواہ دخل اندازی کروگے، سو یہ جو سراج الحق کے فرمان پر ہم نے بھی دخل درمعقولات کرتے ہوئے توجہ دلانے کی کوشش کی ہے تو اس سے پہلے کہ ہمارے خلاف کوئی ”کارروائی” ہو، ہم نے جاں بخشی کی پہلے ہی اپیل کرنا ضروری سمجھا ہے، ویسے اس بیانیہ میں سراج الحق بھی اکیلے نہیں ہیں، ملک بھر میں تجاری اور صنعتی شعبوں سے تعلق رکھنے والوں نے بھی مزید لاک ڈائون سے نہ صرف انکار کر دیا ہے بلکہ قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ اگر اس سلسلے میں زبردستی کی گئی تو شاید مزاحمت بھی کی جائے، ادھر حکومت کے ایک اہم وزیر یعنی سائنس وٹیکنالوجی کے وزیر فواد چوہدری نے رویت ہلال کا مسئلہ ”حل” کرنے کے بعد اپنے تازہ بیان میں ملک بھر سے ناکے ختم کر کے ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کر نے کی تجویز دی ہے، ان کے اس بیان کا کیا ردعمل آتا ہے اور اس کی مخالفت میں کونسے متعلقہ سرکاری ادارے کے اندر سے کوئی ”مفتی منیب” سامنے آکر ان کیخلاف دل کی بھڑاس نکالتا ہے اس کیلئے کچھ انتظار کرنا پڑے گا، جبکہ فواد چوہدری کا مقصد نا کہ بندیوں پر بے جا اور بے پناہ رش سے بچنا ہی ہے، بے جارش تو یہ ہے کہ ان ناکوں پر گاڑیاں رکنے سے صورتحال خراب ہو جاتی ہے اور بے پناہ رش ان پیشہ ور بھکاریوں کی وجہ سے بن جاتی ہے جو گاڑیاں رکتے ہی اطراف سے نکل کر ان گاڑیوں پر ”حملہ آور” ہو جاتے ہیں اور حکومتی ایس او پیز کی دھجیاں اُڑ اُڑ کر ان ناکوں کے اطراف میں بکھرتی آسانی سے دیکھی جا سکتی ہیں۔ اب آتے ہیں اس مسئلے کی جانب جس کے بارے میں نہ صرف سراج الحق نے توجہ دلائی ہے بلکہ تاجر برادری نے بھی حکومت کے اس تازہ فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے رش ختم کرنے کیلئے بازار 24گھنٹے کھولنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کر دیا ہے، اس پر تبصرے سے پہلے ایک شعر ملاحظہ کیجئے
آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
سراج الحق نے اپنے محولہ بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ لاک ڈاؤن سخت کرنے کی باتیں ڈوبتی معیشت کیلئے جان لیوا ثابت ہوں گی، عوام حکومتی چالوں کو سمجھ چکے ہیں، دھوکے میں نہیں آئیں گے جبکہ حکومت کے وزراء اور مشیروں کے بیانات کو دیکھا جائے تو ان کے بیانات میں بعد المشرقین دکھائی دیتا ہے بلکہ ان بیانات کے اندر کیرٹ اینڈ سٹک یعنی گاجر اور چھڑی کی کیفیت واضح ہو کر سامنے آتی ہے یعنی حالات بگڑنے کے نتیجے میں لاک ڈاؤن کے سخت کئے جانے کی دھمکی بھی جبکہ لاک ڈائون ختم کرنا مجبوری بھی کہ معیشت زیادہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتی جیسے الفاظ بھی استعمال کئے جارہے ہیں، ساتھ ہی جمعرات کے روز ان بیانات کے سنگ سنگ چھپنے والی ایک تصویرنے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت کہ خیرآباد کے مقام پر ایک سوبائی وزیر ”ضیافت” کے موقع پر دیگر افراد کیساتھ دریائے اٹک میں چارپائی ڈال کر عوام کے درمیان یوں نظر آرہے ہیں کہ حکومتی ایس اوپیز بھی شرمندہ نظر آرہے ہیں۔ نہ سوشل ڈسٹنسنگ، نہ ماسک کا تکلف، تو حضور جب آپ خود ایسا کریں گے تو پھر عوام سے یہ توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ بقول میر تقی میر
پگڑی اپنی سنبھالئے گا میر
اور بستی نہیں یہ دلی ہے
بات ابھی تک آگے نہیں بڑھ سکی صرف تاویلات سے کام چل رہا ہے، اصل بات یہ تھی کہ دنیا بھر میں کاروبار کھل رہے ہیں جبکہ تاجر برادری نے بھی حکومت کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے بقول آج کل کے ایک ٹرم کے 24/7 کاروبار کھولنے کا مطالبہ کیا ہے، اصولی طور پر بھی دیکھا جائے اور دنیا کے کئی ممالک کی لاک ڈائون پالیسی میں تبدیلی کی روشنی میں صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو سرکار والا مدار کو خود اپنے ہی وزیراعظم عمران خان کے اختیار کئے ہوئے طرزعمل کو سامنے رکھنا چاہئے۔ یہ کس منطق میں لکھا ہے کہ آپ رش کو قابو یا کم کرنے کیلئے اوقات کار محدود کرنے کیساتھ ساتھ ہفتے میں تین دن دکانوں کو بند کر نے کی حکمت عملی اختیار کر کے اُلٹا لوگوں کو رش بڑھانے اور چاردن تک بازاروں میں جم ہائے غفیر میں اضافہ کرنے کی کوشش کریں، خود ہی سوچیں جب عام حالات ہوں تو ہر شخص صرف ضرورت کے تحت ہی بازاروں کا رخ کرتا ہے مگر جب آپ زبردستی لاک ڈائون کریں گے تو لوگ اپنی ضرورت کے تحت اشیاء خریدنے کیلئے ہفتے کے مقررہ چاردنوں اور اس میں بھی محدود اوقات ہی کے اندر گھروں سے نکل کر بازاروں میں بلاضرورت رش پیدا کریں گے۔ یہ صورتحال تو مسئلے سے نمٹنے کی بجائے مشکلات میں اضافہ کرنے کا باعث ہی بنے گی۔ اس لئے ہوش کے ناخن لیں، اب اس غلط پالیسی کو ترک کرنے کے بارے میں سوچئے، جان بوجھ کر رش بڑھانے کی بجائے نارمل حالات پیدا کرنے کی پالیسی اختیار کیجئے، گرمی کی شدت بڑھ رہی ہے اب لوگ بلاضرورت ویسے بھی گھروں سے نکلنے کے بارے میں نہیں سوچ سکتے۔ جب سب کچھ عام حالات کی طرح نارمل ہوگا تو صورتحال خود بخود ہی قابو میں آجائے گی۔ بقول غلام بھیک نیرنگ
جائے ماندن ہمیں حاصل ہے نہ پائے رفتن
کچھ مصیبت سی مصیبت ہے خدا خیر کرے
رہنمائوں کو نہیں خود بھی پتہ رستے کا
راہ روپیکر حیرت ہے خدا خیر کرے