کورونا، پھرسے لاک ڈائون کی بحث

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبے میں کورونا بڑھ رہا ہے، عوام معاملے کی سنگینی کا ادراک کریں۔ امرواقع یہ ہے کہ کورونا ہولناک صورت اختیار کر گئی ہے، ایک دن میں پانچ ڈاکٹروں سمیت چھیانوے افراد موت کی وادی میں چلے گئے، خیبرپختونخوا میں کورونا سے مزید تیرہ افراد چل بسے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ24گھنٹوں کے دوران پاکستان میں ریکارڈ 78 ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ دو ہزار400سے زائد نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے مطابق ملک میں اب تک عالمی وبا سے ایک ہزار395اموات ہو چکی ہیں جبکہ اب تک66ہزار چار سو57افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں صوبہ خیبر پختونخوا میں ہوئی ہیں، جہاں تعداد445ہے۔ صوبے میں مصدقہ کیسز کی تعداد نوہزار67ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا انتباہ بروقت ہے اب بھی صوبے کے عوام کو کورونا کو پراپیگنڈہ قرار دیکر سرے سے تسلیم کرنے سے انکار کی بجائے اسے حقیقت قرار دیکر ممکنہ حفاظتی تدابیر اختیار کرنے پر توجہ کی ضرورت ہے۔ صوبے میں کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کے آنکھوں دیکھے واقعات کے باوجود اسے سرے سے کوئی مسئلہ ہی قرار نہ دینے کا جو رجحان ہے یہ نہایت ہی خطرناک معاشرتی رویہ ہے جو کورونا کے پھیلائو میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ دیگر صوبوں کے مقابلے میں صوبے میں اموات میں اضافہ اور اس کا تیزی سے پھیلائو عدم احتیاط ہی کا نتیجہ ہے حکومت کی جانب سے تین دن کیلئے دکانوں اور بازاروں کی بندش دوبارہ کردی گئی ہے لیکن جس قسم کی صورتحال بننے جارہی ہے ممکن ہے کہ حکومت کو ایک مرتبہ پھر سخت لاک ڈائون کا فیصلہ کرنا پڑے۔ حکومت نے وزیراعظم کی منشاء یا پھر عوامی دبائو کے باعث لاک ڈائون میںنرمی وخاتمے اور عدالتی احکامات کی پیروی سے جو صورتحال بنی ہے اس کے اثرات کورونا کے تیزی سے پھیلائو کی صورت میں سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں جس کے بعد ایک مرتبہ پھر اب یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ سخت لاک ڈائون کا فیصلہ کیا جائے یا نہیں اس حوالے سے مشاورت وفیصلہ اپنی جگہ مشکل امر یہ ہے کہ خود حکومت کی صفوں میں اس حوالے سے گومگو کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ وزیراطلاعات کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ وفاقی حکومت نے ثابت کردیا کہ لاک ڈائون کی پالیسی ناکام ہوچکی ہے اسلئے مزید لاک ڈائون کا کوئی امکان نہیں جبکہ صحت سے متعلق وزیراعظم کے معاون خصوصی اور طبی ماہرین کی رائے اس کے برعکس ہے۔ ماہرین اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ ایک مرتبہ پھر سخت لاک ڈائون ضروری ہے ان کا استدلال ہے کہ ہسپتال بھر چکے ہیں اور مزید مریضوں کی گنجائش نہیں، خود پانچ ڈاکٹروں کی کرونا سے اموات اور ایک سو اکتیس نرسوں اور اسی طرح ڈاکٹروں کا بڑے پیمانے پر کورونا وائرس کا شکار ہونا خطرے کی گھنٹی ہے۔ ان کے متاثر ہونے سے اس بات کا خدشہ ہے کہ جب ڈاکٹر اور طبی عملہ ہی محفوظ نہ رہیں گے تو ہسپتالوں میں مریضوں کا علاج کون کرے گا۔ کورونا وائرس سے کسی خاص طبقے کے افراد ہی متاثر نہیں ہورہے ہیں اس وقت کشمیر کمیٹی کے چیئر مین اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا بھی اس وائرس کا شکار ہیں اس طرح مختلف ایسے لوگ جن کی طرز زندگی عوامی نہیں اور ان سے عدم احتیاط کی بھی توقع نہیں کی جاسکتی وہ بھی اس وائرس کا شکار ہوئے۔ اس سے یہ امر واضح ہے کہ احتیاط کے باوجود یہ عالم ہے تو عدم احتیاط کے باعث کورونا سے ایک متاثرہ شخص کتنے لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے ۔ہمارے صوبے میں ابھی ٹیسٹ کا انتظام اس درجے کا نہیں کہ عوامی سطح پر سکریننگ کر کے مریضوں اور صحت مندوں کا تعین کیا جاسکے، فی الوقت صرف علامات ظاہر ہونے والوں ہی کیلئے ٹیسٹ کی سہولت میسر ہے ایسے میں سوائے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے محفوظ رہنے کا اور کوئی ذریعہ نہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جہاں عوام کو احتیاط کا مشورہ دے رہے ہیں وہاں ماسک نہ پہننے، جسمانی دوری اختیار نہ کرنے اور بھیڑوہجوم اکٹھا کرنے پر سخت کارروائی کی ہدایت بھی جاری کریں۔ بہتر طریقہ عوام کی جانب سے رضاکارانہ طور پر خود اور دوسروں کے تحفظ کیلئے اقدامات اختیار کرنے کا ہے لیکن اگر عوام سرے سے اس وائرس اور وباء ہی کو تسلیم کرنے کو تیار نہ ہوں اور ترغیب واپیل کارگر نہ ہو تو پھر زبردستی اور طاقت کے استعمال کے علاوہ باقی اور حربہ کیا ہوسکتا ہے۔