کورونا کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں

معاف کیجئے گا پھر وہی کورونا کی صورتحال پر بات کرنا پڑ رہی ہے۔ گزشتہ روز5ڈاکٹروں، ایک عالم دین سمیت96افراد جان کی بازی ہار گئے۔ اموات کے حوالے سے پاکستان کا دنیا میں چھٹا نمبر ہے۔ 10مئی سے30مئی کے درمیانی بیس دنوں میں اموات اور مریضوں کی تعداد میں110فیصد اضافہ ہوا، (یہ نرم لاک ڈائون اور کاروبار کھولنے کیساتھ دیگر مراحل کی برکتیں ہیں) جمعہ کو2803 کورونا کے نئے کیسز سامنے آئے، 10مئی کو مریضوں کی تعداد30ہزار کے لگ بھگ تھی اور اب یہ 66ہزار سے تجاوز کر چکے۔ اب یہ کہا جارہا ہے کہ لاک ڈائون میں مزید نرمی یا سختی کا فیصلہ سوموار کو ہوگا، بہت ادب سے عرض کروں لاک ڈائون میں سختی کی ضرورت کیا ہے؟ جب یہ کورونا ہے ہی معمولی سا نزلہ اور ہمارے موسمی حالات کی وجہ سے زیادہ اثرانداز نہیں ہوسکتا تو لمبی چوڑی ایکسرسائز کی ضرورت کیوں؟ بینکوں اور دفاتر کے نئے اوقات کار کس لئے، کچھ عجیب سی بات ہے جو کام عوام کے تحفظ کیلئے خیبرپختونخوا میں جائز ہے وہی سندھ میں غلط، پنجاب کے وزیراعلیٰ کہہ رہے ہیں تعلیمی ادارے، شادی ہالز اور سینما گھر بند رہنا عوام کے مفاد میں ہے۔ تحریک انصاف سندھ کے رہنما کہہ رہے ہیں تعلیمی ادارے اور سینما گھر کھولنے کا مطالبہ تسلیم کیا جائے، بعض رہنما تو عوام کے مختلف طبقات کو حکومت سے عدم تعاون پر اُکسا رہے ہیں۔ مجموعی صورتحال بگڑ رہی ہے لیکن جان کی امان ہو تو عرض کردوں اس کے ہم خود (ہم خود سے مراد مختلف طبقات کے منہ زور بڑے ہیں) ہیں، طبی ماہرین نے بروقت خبردار کر دیا تھا کہ15 سے 25مئی کے درمیانی دن خطرناک ثابت ہوں گے، ان کی کسی نے نہیں سنی۔ ماہرین اب بھی کہہ رہے ہیں کہ15جون تک بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے مگر ان کی کوئی نہیں سن رہا۔ برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور نے کہا ہے کہ فی الوقت عمرہ کی عبادت معطل رہے گی۔ حج کیلئے فیصلہ طبی ماہرین کی مشاورت سے کیا جائے گا۔ ایس اوپیز پر عمل کی شرائط کیساتھ مسجد نبوی میں نماز پنجگانہ کی اجازت دے دی گئی ہے۔ عمومی رویوں اور غیرذمہ دارانہ طرزعمل کیساتھ جھوٹی خبروں پر سر دھننے والوں کو آپ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ مارکیٹ (عوام) میں یہ بات عام ہے کہ کوروناسے مرنے والے ہرشخص کیلئے بل گیٹس حکومت کو 35ہزار ڈالر دے گا۔ کیا ستم ہے وباء کے اس موسم میں سنجیدگی اختیار کرنے کی بجائے بے پرکیاں اُڑائی جارہی ہیں۔وہ حلقے جو یہ کہتے ہیں کہ اگر پہلے مرحلے پر ہی ایک ماہ کیلئے سخت گیر لاک ڈائون کر دیا جاتا تو درست ہوتا کچھ غلط نہیں کہہ رہے یہ تھڑے باز نشئی نہیں بلکہ اس ملک کے نامور معالجین کا مشورہ تھا۔ افسوس کہ حکومت کا مخمصہ دور نہ ہوا اور اس کے اختیارات کا ”کسی اور” نے غلط استعمال کیا۔ ادھر ہماری سوچ اتنی سطحی ہے کہ اس پر بھی ایمان لے آئے کہ چینی سکینڈل کی رپورٹ کورونا سے توجہ ہٹانے کیلئے سامنے لائی گئی۔ صاف اور دوٹوک انداز میں یہ عرض کردوں ہم کورونا کے حوالے سے بدترین دنوں میں داخل ہونے والے ہیں۔ حکومت کو کیا کرنا چاہئے یہ بتانے کی ضرورت نہیں، پھر بھی یہ عرض کردوں کہ کسی تاخیر کے بغیر ملک کے نامور طبی ماہرین سے مشاورت کر کے حکمت عملی وضع کی جائے۔ ایک کڑوا سچ یہ ہی ہے کہ پچھلے تین ماہ کے دوران عوام نے بھی حکومت سے تعاون نہیں کیا، مختلف طبقات میں لیڈری کرنے والوں کو تو رکھیں ایک طرف لیڈری ان کا روزگار ہے لیکن یہ عام شہری آخر سنجیدہ کیوں نہیں ہوتے؟ اس کی وجہ سے وہ غلط بیانیاں اور ڈھکوسلے ہیں جن کے بارے بالائی سطور میں عرض کر چکا۔ اندریں حالات مکرر عرض ہے خدا کیلئے سنجیدگی اختیار کیجئے، حکومت اور عوام دونوں، دونوں ہی اپنی اپنی جگہ ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوں۔ حکومت اور طبی ماہرین کی ہدایات کی بجائے ٹوٹکے بازوں پر یقین رکھنے والوں کو کسی نقصان کی صورت میں حکومت سے شکوہ نہیں کرنا چاہئے۔ سوموار کے روز جب وفاقی رابطہ کمیٹی صورتحال کے جائزے اور فیصلے کیلئے بیٹھے تو طویل المدتی مفاد کے حامل فیصلے کرے۔ وفاق خود تسلیم کر رہا ہے کہ وباء کے بڑھنے کا خطرہ ہے، ایسے مین بنیادی اہمیت کے ٹھوس فیصلوں سے اجتناب نہ کیا جائے۔اس سے کسی کو انکار نہیں کہ پچھلے اڑھائی تین ماہ کے دوران معیشت متاثر ہوئی، معاشرے کے کمزور طبقات کے مسائل ہی نہیں بڑھے بلکہ مڈل اپرمڈل کلاس بھی متاثر ہوئی، مزید متاثر ہونے کا خطرہ ہے لیکن سادہ سی بات ہے کہ جان ہے تو جہان ہے۔ زندگی رہی تو پھر سے عزم وجدوجہد کے ذریعے مسائل ومشکلات پر قابو پالیا جائے گا۔ کورونا کیساتھ ساتھ بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے بڑے حصے کو ٹڈی دل کے حملے کا سامنا ہے۔ پچھلے ایک کالم میں عرض کیا تھا کہ شاید موسم گرما اور سرما کی فصلوں میں مختلف وجوہات کی بنا پر کمی سے 9سوارب روپے سے زائد کے نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑے۔ اقوام متحدہ کے انتباہ کے بعد بہت ضروری تھا کہ وفاقی اور صوبائی وزرائے زراعت وخوراک کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوتا تو کوئی لائحہ عمل وضع کیا جاتا مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہوا۔ یہ ہے ہماری سنجیدگی کا معیار کہ تیزی سے بڑھتے چلے آرہے خطرات کے تدارک کیلئے غور وفکر کا ہمارے بڑوں کے پاس وقت نہیں۔ کیا کسی نے سوچا ہے کہ اڑھائی صدیوں میں ٹڈی دل نے کاشت شدہ فصلوں کو جس بری طرح نقصان پہنچایا ہے اس سے متاثر ہونے والے کاشتکاروں کا کیا ہوگا۔
(باقی صفحہ7بقیہ نمبر2)