تفو بر تو ای چرخ گردوںتفو

تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں’ ہمسایہ بھارت ان دنوں (بلکہ قیام پاکستان کا زخم برداشت نہ کرسکنے کے کارن شروع ہی سے) پاکستان کیخلاف جس قسم کی ریشہ دوانیاں کر رہا ہے اس حوالے سے ہر د ور میں ہماری ہر حکومت عوام کو خبردار کرتی رہی ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان کا تازہ بیان بھی ہمارے سامنے ہے کہ بھارت ایک بار پھر فالس فلیگ آپریشن کیلئے سازشوں میں مصروف ہے۔ اس ضمن میں لائن آف کنٹرول پر گزشتہ ہفتوں کے دوران دراندازی اور بے گناہ عوام پر حملوں کے علاوہ حالیہ دنوں میں جاسوسی کی غرض سے دو بار کواڈ کاپٹر بھیجنے جیسی حرکتوں سے حالات خراب کرنے کی حرکتیں کر چکا ہے مگر ہمارے اردگرد جو کچھ ہو رہا ہے اس سے سیکھنے اور ملکی سلامتی کیلئے قوم کو ایک مٹھی کرکے متحد کرنے کی بجائے ہماری سیاست تقریباً روزاول ہی کی طرح بغض’ عناد’ کینہ’ نفرت’ حقارت’ تنگ نظری’ انتقام اور اسی نوع کی دیگر منفی اقدامات پر استوار ہے۔ ہماری سیاست کا قلعہ ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے کی ریت کے ٹیلوں سے تعمیر کیا گیا ہے جسے مخالفت کی آندھیاں کسی بھی لمحے ڈھا دینے کو تیار رہتی ہیں’ اوپر سے اسے انتقام کے رنگ وروغن سے سجانے کی کوششیں اس عمارت کے کھوکھلے پن کو چھپانے کی ناکامی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ قومی تاریخ میں دو ایسے مواقع ضرور آئے جب باہمی خود غرضی کی دیواروں کو ڈھا کر دنیا کو کامیابی سے یہ تاثر دیاگیا کہ ہم ایک ہیں اور یہی وجہ تھی کہ ہم سروخرو رہے۔ پہلی بار جب بھارت نے 1965ء میں ہم پر جارحیت مسلط کی تو اس وقت آمر ایوب خان نے تمام تر اختلافات کو طاق پر رکھتے ہوئے حزب اختلاف کی جماعتوں کو دعوت دی’ حالانکہ حزب اختلاف نے اس سے پہلے نام نہاد انتخابات میں ایوبی حکومت کی جیت کو تسلیم نہ کرتے ہوئے احتجاج کی راہ اختیار کر رکھی تھی مگر ایک مشترکہ دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے تمام جماعتوں نے سیاسی اختلافات کو تج کر ایوب خان کا ساتھ دینے اور متحد ہو کر دشمن کا مقابلہ کرنے کا پیغام دنیا کو دیا اورجب جنگ بندی کے بعد روس کے شہر تاشقند میں پاک بھارت مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا تو ایوب خان پوری قوم کی حمایت کیساتھ ان مذاکرات میں شریک ہوئے۔ دوسری بار اسی قسم کے اتحاد واتفاق کامظاہر ہ سقوط ڈھاکہ کے بعد ایک بار پھر بھارت کیساتھ بھارتی شہر شملہ میں مذاکرات کے موقع پر دیکھا گیا جب نہ صرف پاکستان دو لخت ہو چکا تھا’ پاکستان کے تقریباً 90ہزار جنگی قیدی وطن واپسی کی راہ تک رہے تھے بلکہ پاکستان کے کئی علاقے بھی بھارت کے قبضے میں تھے۔ پاکستان نے بھی بھارت کے کچھ علاقوں پر تسلط جمایا ہوا تھا مگر وہ مقابلتاً بہت کم تھے’ اس صورتحال میں پاکستان کے اندر بھی بھٹو حکومت کیساتھ حزب اختلاف کی جماعتیں باہمی کشمکش میں مبتلا تھیں مگر جب قومی اسمبلی میں بھٹو حکومت نے بھارت کیساتھ مذاکرات کے حوالے سے بحث شروع کی تو مخالفین نے تمام تر سیاسی مخالفتوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے’ بھٹو کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی بلکہ جب شملہ مذاکرات کے بعد شملہ معاہدے کو منظوری کیلئے قومی اسمبلی کے فلور پر رکھا تواس وقت قائد حزب اختلاف خان عبدالولی خان نے یہ تاریخی جملے کہے کہ جن حالات میں (خالی ہاتھ) بھٹو مذاکرات کیلئے گئے ان میں جو کچھ وہ لیکر آئے ہیں اس سے زیادہ کی توقع ان سے کیسے رکھی جاسکتی تھی’ یہ گویا حزب اختلاف کی جانب سے بھٹو کو ایک طرح کا خراج تحسین تھا اور اسے سیاسی تاریخ میں فراخدلانہ جذبات قرار دینے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہئے۔ تاہم اس کے بعد بھٹو حکومت نے حزب اختلاف کیساتھ جو کچھ کیا وہ بھی تاریخ ہے
میں کس نظام میں جیتا رہا ہوں اتنے برس
خود اپنے آپ سے نفرت سی ہوگئی ہے مجھے
تب سے اب تک پلوں کے نیچے نفرت’ انتقام’ عدم برداشت اوردیگر منفی جذبات سے آلودہ اتنا پانی گزر چکاہے بلکہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے کہ جو بھی اقتدار میں آتا ہے وہ مخالفین کو ایک لمحے کیلئے بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ یہ وتیرہ کسی ایک یا کسی خاص سیاسی جماعت یا گروہ کا نہیں بلکہ ہماری سیاست کا عمومی رویہ ہے’ لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان طویل عرصے تک جو سیاسی جنگ جاری رہی اورایک دوسرے کو سیکورٹی رسک جیسے القابات سے نوازتے رہے بالآخر اس کا خاتمہ تو لندن میں ایک میثاق جمہوریت پر دستخط ہونے کے بعد ہوگیا مگر دلوں کے اندر بغض وعناد کا مکمل خاتمہ پھر بھی نہ ہوسکا اور محبتوں کے زمزمے پھر بھی نہ چل سکے، اب موجودہ دور میں دونوں سیاسی جماعتیں نشانے پر ہیں۔ تحریک انصاف نے کنٹینر پر چڑھ کر جس سیاسی مخاصمت کی بنیاد رکھی تھی اور تب (حالات کے تقاضوں کے مطابق) جو رویہ اختیار کرکے نواز حکومت کو گرانے کی راہ پر چل کر انتخابات میں اُتری اب اقتدار میں آنے کے دو سال کے بعد بھی اس کے بیانئے میں کوئی فرق نہیں آیا حالانکہ حزب اختلاف میں رہنے اور اقتدار کے سنگھا سن پر براجمان ہونے کے بیچ سفر کے دوران صورتحال کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں مگر ملکی سیاست کے اندر موجود جن ”امراض” کی نشاندہی اوپرکی سطور میں کی جا چکی ہے ان امراض کا عملی مظاہرہ ان دنوں آسانی کیساتھ دیکھا جاسکتا ہے’ حکومتی ترجمانوں کے بیانات کو دیکھا جائے تو ایسے لگتا ہے جیسے یہ سیاست نہیں ذاتی انتقام کی باتیں ہو رہی ہیں حالانکہ ہمارا ازلی دشمن بھارت ہمارے چاروں اور دشمنی کی جو آگ بھڑکا رہاہے اور نہ صرف اس نے کشمیر کو ہڑپ کرنے کی پالیسی کے بعد اب آزاد کشمیر پر بھی نگاہیں جما دی ہیں مگر ہم آج بھی یہ طے نہیں کرسکے کہ ہماری سلامتی کے ضامن ایٹمی پروگرام کے ابتداء سے لیکر دھماکے کرنے تک کس کس نے وقتاً فوقتاً کردار ادا کرکے ہمیں محفوظ بنایا۔
تفو بر تو ای چرخ گردوں تفو