خلیجی ممالک میں مقیم محنت کشوں کی مشکلات

کورونا وائرس کے باعث خلیجی ممالک میں محصور ہو کر رہ جانے والے خیبر پختونخوا کے شہریوں کی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے وزیر اعظم عمران خان سے درخواست کی کہ خلیجی ممالک میںمقیم خیبر پختونخوا کے شہری پروازوں کی سہولت نہ ہونے کی بنا پر اذیت کا شکار ہیں ‘ وزیر اعظم عمران خان نے متعلقہ حکام کو فوری طور پر پروازیں بحال کرنے کے احکامات دیئے جس کے بعد بیرون ممالک سے خیبر پختونخوا کے شہریوں کی واپسی یقینی بنانے کیلئے سعودی عرب سے باچا خان ایئرپورٹ پشاور کیلئے پروازیں بحال کر دی گئی ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ بیرون ممالک مقیم پاکستانی محنت کش، پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں جو ملکی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی تصور کیے جاتے ہیں،ملکی خزانے میں زرِمبادلہ کا کثیر حصہ 88لاکھ اوور سیز پاکستانی بھیجتے ہیں ‘ یوں اوور سیز پاکستانیوں کا ملکی ترقی میں اہم کردار ہے، یہ پاکستانی جہاں ایک طرف اپنے وطن کیلئے قیمتی زرمبادلہ بھیجنے کا ذریعہ بنتے ہیں وہاں دوسری طرف ان پاکستانیوں نے ہر قدرتی آفت میں اپنے پاکستانی بھائیوں کی مدد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے،کورونا وائرس کی وبا سے قبل اوورسیز پاکستانی ہر سال 22ارب ڈالر سے زائد ترسیلات زر پاکستان بھیج رہے تھے جس میں سے تقریباً 50فیصد سے زائد ترسیلات زر خلیجی ممالک سے موصول ہورہی تھیں مگرکورونا کی وجہ سے آج بیرون ملک مقیم یہی پاکستانی شدید مشکلات کا شکار ہیں’ ملازمت ختم ہونے کے بعد جمع پونجی بھی ان ایام میں ختم ہو چکی ہے، صرف یو اے ای میں 60ہزار سے زائد پاکستانیوں کو ان کی کمپنیوں نے اس برے وقت میں ملازمت سے فارغ کردیا ہے اور اب ان کے پاس رہنے کیلئے بھی کوئی ٹھکانہ نہیں جس کے باعث وہ سڑکوں پر شب و روز گزارنے پر مجبور ہیں۔ بیرون ممالک میں مقیم محنت کشوں کا خیال تھا کہ ایک دو ماہ مشکل کے ہوں گے اور اس کے بعد کورونا سے نجات مل جائے گی لیکن چھ ماہ گزرنے کے باوجود قریب قریب کورونا کے ختم ہونے کے آثار دکھائی نہیںدے رہے ہیں’ ایسے حالا ت میں ضروری ہے کہ حکومت محنت کشوں کو حالات کے رحم وکرم پر نہ چھوڑے’ اس وقت بیرون ممالک میںمقیم پاکستانی محنت کش دہری اذیت کا شکار ہیں’ ایک تو روزگار چھن گیا دوسرا وہ محنت مزدوری کر کے اپنے اہل خانہ کیلئے جو رقم بھیجتے تھے وہ نہیں بھیج رہے اس طرح محنت کشوں سے جڑا پورا خاندان متاثر ہوا ہے۔ بیرون ممالک بالخصوص خلیجی ممالک میں ایسے پاکستانی محنت کشوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے جو وزٹ ویزا پر گئے تھے لیکن وہاں روزگار شروع کر دیا’ ایسے غیر قانونی طور پر مقیم محنت کشوں کیلئے قانون نافذ کرنے والے محکموں سے بچنا اب آسان نہیں رہا کیونکہ اخراجات کے حصول کے تمام ذرائع بند ہو چکے ہیں۔ سو ان حالات میں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ انسانی جانوں کو بچانے کیلئے خلیجی ممالک کیساتھ حکومتی سطح پر معاہدہ کرے کیونکہ بہرصورت یہ پاکستانی ہیں اور ان کی جانوں کی حفاظت ہماری ہی ذمہ داری ہے ۔ خلیجی ممالک میںمقیم محنت کشوں میں زیادہ تر مسائل کا شکار وہ طبقہ ہے جو غیرقانونی طور پر وہاں مقیم ہے’ جو محنت کش قانونی طور پر مقیم ہیں انہیں گھروں پر راشن پہنچایا جا رہا ہے کیونکہ ان کا تمام ریکارڈریاست کے پاس موجود ہے جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم طبقہ اپنے آپ کو گرفتاری سے بچانا چاہتاہے اور دوسری طرف انہیںبے پناہ مسائل کابھی سامنا ہے۔ عموماً عرب ممالک غیر قانونی تارکین وطن کو ہر سال موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے وطن واپسی کا آپشن اختیار کر کے سخت قانونی کارروائی سے بچ سکتے ہیں ‘ تاہم جہاز کا ٹکٹ انہیں خود ہی خریدنا پڑتا ہے’ غیر قانونی طور پر مقیم لوگوں کو کبھی کبھار معمولی جرمانے بھی ادا کرنے پڑتے ہیں لیکن کورونا کے باعث اکثر عرب ممالک نے یہ سہولت بھی دی کہ غیر قانونی طور پر مقیم لوگوں کی واپسی کے اخراجات ریاست ادا کرے گی ‘ آسان واپسی کیلئے باقاعدہ تاریخ کا اعلان بھی کیا گیا ‘ جس سے غیر قانونی طور پر مقیم بڑی تعداد نے فائدہ اٹھایا اور اپنے ملک کارُخ کیا لیکن اس سہولت کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں لوگ چھپ چھپا کررہتے رہے اورکورونا کے ختم ہونے کا انتظار کرتے رہے ‘ اب جبکہ صورتحال گمبھیر ہوئی ہے تو سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان کی حکومت سے مشکلات سے نجات کیلئے مدد کی اپیل کررہے ہیں ‘ اسی طرح ہزاروں کی تعداد میں وہ لوگ ہیں جو قانونی طور پر خلیجی ممالک میںمقیم ہیں اور ان کا روزگار تھا لیکن کورونا کے باعث روزگار ختم ہو گیا اور طویل انتظار کے بعد بھی جب کورونا کی وبا ختم نہیں ہوئی تو واپسی کیلئے ان کے پاس اخراجات نہیں ہیںجو حکومت سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔ اس پس منظر کے بعد ایک بات واضح ہے کہ ہزاروں محنت کش پاکستانی اس وقت مشکل میں ہیں’ کوئی بھی ملک مشکل وقت میں اپنے شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑتا، سو وزیر اعلیٰ محمود خان کی اس ضمن میں کاوشیں قابل تحسین ہیں لیکن اطلاعات ہیں کہ ابھی بھی مزدوروں کو جہاز کا ٹکٹ خود ہی خریدنا پڑ رہا ہے’ اس طرح خدشہ ہے کہ مزدوروں کی بڑی تعداد وطن واپسی سے محروم رہ جائے گی’ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جومحنت کش وقتی طور پر جہاز کے ٹکٹ کی قیمت ادا کرنے سے قاصر ہیں ریاست کی طرف سے ان کے ساتھ تعاون کیا جائے تاکہ محنت کشوں کی باعزت وطن واپسی ممکن ہو سکے۔