کورونا وائرس سے کب نجات ملے گی ؟

ویب ڈسک : دنیا بھر میں کووڈ-19 نامی کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے اسے عالمی وبا قرار دیا گیا ہے اور امریکہ اور کئی ممالک میں مرنے والوں کی تعداد ہزاروں سے زیادہ ہیں اور لاکھوں سے زیادہ متاثرین بن چکے ہے۔

لوگوں سے دور رہنا، اس مقصد کے ساتھ کہ وبا کی منتقلی کو کم کیا جا سکے۔ یہ تجویز بھی ہے کہ اپنے دوستوں یا رشتہ داروں سے نہ ملیں، ان افراد کے علاوہ جو آپ کے ساتھ رہتے ہیں۔ گھر سے کام کریں جس حد تک ممکن ہو اور پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال سے اجتناب کریں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وائرس سے کب نجات ملے گی، تو اس بارے میں ماہرین یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ کب اور کیسے دنیا کو اس سے چھٹکارہ ملے گا۔ لیکن ماہرین تقریباً اس پر متفق ہیں کہ جب تک کوئی موثر ویکسین نہ آ جائے۔ یہ وائرس زندگی بھر ہی ساتھ رہ سکتا ہے۔

یہ ہی بات یونیورسٹی آف ایدن برگ کے متعدی امراض کے ماہر مارک وول ہاؤس نے برطانوی اخبار گارڈین کو بتائی ہے کہ ویکسین اور سماجی فاصلے پر عمل کئے بغیر اس کی دوسری لہر ایک حقیقی خطرہ ہے۔

یہاں امریکہ میں متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر سہیل چیمہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس خیال سے اتفاق کیا اور کہا کہ یہ وائرس یقیناً اس وقت تک ساتھ رہے گا جب تک کہ ویکسین نہیں آ جاتی اور اس کے مارکیٹ ہونے کے بعد ہر شخص اسے لگوانے پر آمادہ نہیں ہو جاتا۔

انہوں نے کہا کہ اس قسم کے امراض میں انسان کی قوت مدافعت 60 سے 66 فیصد ہونی چاہئیے اور جب تک یہ قوت مدافعت 66 فیصد پر نہ آ جائے گی، یہ خطرہ ختم نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح چیچک سے 30 ملین اموات ہوئیں اور ویکسین آنے کے بعد وہ مرض ختم ہو گیا، اسی طرح اس وائرس کے ساتھ بھی ہو گا اور ویکسین آنے کے بعد یہ ایک طرح سے عام نوعیت کا فلُو وائرس بن کر رہ جائے گا۔

لاک ڈاؤن میں نرمی سے اس مرض کے پھیلاؤ پر اثرات کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہرئے انہوں نے کہا کہ اگر لاک ڈاؤن کو محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں مرحلہ وار ختم کیا جائے، جیسا امریکہ میں ہو رہا ہے تو پیچیدگیوں سے بچا جاسکتا ہے۔