ایف ائی اے کی جانب سے کوئی موصو ل نہیں ہوا ، شعیب اختر

ویب ڈیسک :قومی ٹیم کے سابق فاسٹ بالر شعیب اختر کے وکیل نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے نوٹس موصول ہونے کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اب تک کوئی بھی نوٹس موصول نہیں ہوا۔ذرائع ابلاغ میں یہ افواہیں زیر گردش تھیں کہ ایف آئی اے نے اس سلسلے میں شعیب اختر کو نوٹس بھیجا ہے لیکن شعیب اختر کے وکیل نے اس بات کی تردید کردی۔واضح رہے کہ پی سی بی کے قانونی مشیر اور شعیب اختر کے درمیان لفظی جنگ جاری ہے اور تفضل رضوی نے شعیب اختر کے خلاف ایف آئی اے میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایف آئی اے کا نوٹس موصول ہوتا ہے تو اس کے بعد پیش ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کریں گے۔شعیب اختر کے وکیل نے مزید کہا کہ اگر ایف آئی اے کا نوٹس اور طلبی قانون کے منافی ہوئی تو وہ اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔یاد رہے کہ پی سی بی نے اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی پر سابق کرکٹر عمر اکمل پر 3 سال کی پابندی عائد کردی تھی جس پر شعیب اختر نے اس معاملے کا تجزیہ کرتے ہوئے بورڈ کے قانونی مشیر تفضل رضوی کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے تھے۔انہوں نے پی سی بی کے لیگل ڈپارٹمنٹ سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘پی سی بی کا لیگل ڈپارٹمنٹ بہت ہی نالائق اور گرا ہوا ڈپارٹمنٹ ہے جس میں خاص طور پر تفضل رضوی ہیں جو پتہ نہیں کہاں سے آجاتا ہے’۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘ان کے تعلقات بڑے اچھے ہیں اور کہیں نہ کہیں سے گھس کے آجاتا ہے اور 10، 15 سال سے پی سی بی کے ساتھ لگا ہوا ہے اور ماشااللہ کوئی ایسا کیس نہیں ہے جو انہوں نے اب تک ہارا نہیں ہو جس کی مثال میرا ایک کیس بھی ہے’۔شعیب اختر کے تجزیے کے بعد پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے انہیں 29 اپریل کو ہتک عزت کا قانونی نوٹس بھیجا تھا اور کہا تھا کہ اس تضحیک آمیز بیان پر معافی مانگیں اور 10 کروڑ روپے کا ہرجانہ ادا کریں۔