مشہور ویڈیو کانفرنسنگ ایپلی کیشن ’زوم‘ نے اپنا نیا اور بہتر ورژن5.0 لانچ کر دیا ۔

ویب ڈسک : مقبولِ عام ویڈیو کانفرنسنگ ایپلی کیشن ’زوم‘ نے اپنی ایپ کا ایک نیا اور بہتر ورژن جاری کردیا ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ڈیٹا اور صارفین کی راز داری یعنی پرائیویسی کے لیے کمپنی کے اقدامات کو کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

کمپنی نے کے مطابق زوم کے نئے ورژن 5.0 میں زیادہ بہتر انکرپشن فیچرہیں جوکہ ’زوم بومبنگ‘ یعنی غیر متعلقہ افراد کے کسی ویڈیو کانفرنس میں داخل ہونے کو روکا جا سکے۔

ویبینارز اور کلاؤڈ ریکارڈنگ کے علاوہ میٹنگ کے ایڈمن کو یہ سہولت بھی دی گئی ہے کہ ریکارڈنگ کی ایکسپائری ڈیٹ بھی درج کر سکتے ہیں۔

کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر کے ممالک میں اس ایپ کو لاکھوں افراد کام اور اپنے پیاروں سے رابطوں سے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ زوم کا ورژن5.0 آنے سے قبل کمپنی کو ڈیٹا اور صارفین کی ناقص راز داری یعنی پرائیویسی کے متعلق کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس ایپ پر صارفین کا ڈیٹا فیس بُک کو بھیجنے، صارف سے صارف تک انکرپٹڈ ہونے کے غلط دعوے اور میٹنگ کے میزبانوں کو شرکا کو ٹریک کرنے کی اجازت دینے جیسے الزامات لگائے جا رہے تھے۔

زوم ایپ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ میٹنگ کے دوران غیر متعلقہ افراد بھی اس میں شامل ہو جاتے تھے، جس کے باعث متعدد کمپنیوں، تعلیمی اداروں اور حکومتوں نے اس ایپ کا استعمال روک دیا تھا۔ اس قسم کا ایک سنگین واقعہ سنگاپور میں پیش آیا جہاں زوم پر اساتذہ کی میٹنگ کے دوران غیر متعلقہ افراد(مبینہ طور پر ہیکرز) نے خلل ڈالا۔

کورونا وائرس کے سبب زوم کے استعمال میں غیر متوقع اضافہ ہوا اور کمپنی کی قابلیت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے تھے کہ وہ اتنے صارفین کو محفوظ سروس فراہم نہیں کر سکتی۔

سیکیورٹی مسائل کے باعث تنقید کے بعد کمپنی کے سربراہ نے معذرت کی اور صارفین سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان خدشات پر کام کریں گے۔