تشویشناک معاشی صورتحال

حکومت نے عوام کو مراعات و حقوق دینے کی دعویدار اراکین پارلیمان کی مراعات میں اضافے کا بل ایک ایسے وقت میں پیش کیا ہے جب وزارت خزانہ کی سینیٹ میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق کورونا بحران کے باعث ملک میں 30لاکھ باروزگار افراد کے بیروزگار ہونے کاخدشہ ظاہرکیا گیا ہے۔ پہلے سے بیروزگاری کا شکار افراد کی تعداد اس سے کہیںزیادہ ہے جبکہ بیرون ملک سے واپس آنے والوں کی تعداد بھی لاکھوں سے کم نہیں۔ کورونا بحران کے باعث شرح غربت بھی چوبیس اعشاریہ تین سے بڑھ کر 33اعشاریہ پانچ ہو جائے گی جبکہ مالی خسارہ سات اعشاریہ پانچ فیصد سے بڑھ کر 9اعشاریہ چار فیصد ہوجائے گا۔ بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات زر میں دو ارب ڈالر کی کمی آئی ہے اوراس میں مزید کمی کا امکان ہے جبکہ روپے کی قدر میں ماہانہ سات اعشاریہ پانچ فیصد کمی ہو رہی ہے۔ صنعتی شعبے سے دس لاکھ اور خدمات کے شعبے سے بیس لاکھ افراد کے بیروزگار ہونے کے امکان کی رپورٹ ہی کافی نہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے تخمینے کے مطابق زرعی’ صنعتی اور خدمات کے شعبے سے ایک کروڑ اسی لاکھ افراد کے بیروزگار ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اپریل سے جون تک ایف بی آر کے محصولات میںسات سو سے نو سو ارب روپے تک کمی کا امکان ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ حکومت بھی ان معاملات سے نکلنے کا راستہ مزید قرضوں اور آئی ایم ایف کی تاریخ کے بدترین شرائط تسلیم کرکے اختیار کر رہی ہے۔ حکومت مالیاتی و تجارتی خسارے کے باعث ٹیلی کام کیش شعبے کی سو فیصد نجکاری، گوادر پورٹ کے اکیانوے فیصد حصے کی فروخت بینکاری اسی فیصد نجی شعبہ کو دینے پر آمادہ ہے جبکہ اب پاکستان سٹیل مل’ پی آئی اے اور تین ہوائی اڈوں تک کی نجی شعبے سے شراکت داری کے ذریعے اہم اور حساس ترین قومی اثاثوں کو ملکی وغیر ملکی سرمایہ کاروں سے بانٹنے پر اُتر آئی ہے جس کے بعد قومی سلامتی کا سوال اُٹھانے کا موقع ہی شاید باقی رہے۔ ان مسائل و مشکلات کیساتھ اگلے مالی سال کے بجٹ کی تیاریاں جاری ہیں، وفاقی اور صوبائی بجٹ سامنے آئیں تو معلوم ہوگا کہ ان میں عوام کیلئے کیا ہے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ بطور قوم ہم پر چار ہزار ارب روپے سے زائد کا قرضہ چڑھ چکا ہے سٹیٹ بنک کی سالانہ رپورٹ اخذ کردہ معلومات کے مطابق جاری مالی سال کے دوران پاکستان کی برآمدات کی کارکردگی اُبھرتی ہوئی مارکیٹوں میں بدترین رہی۔ ملکی معاشی صورتحال اور حکومتی پالیسیاں اس درجے کی نہیں کہ کوئی اُمیدوابستہ کی جاسکے اس صورتحال کا ماہرین معیشت کے پاس بھی کوئی شافی حل موجود نہیں کجا کہ حکومتی معاشی ٹیم میںشامل آئی ایم ایف کے سابق متعلقین سے کوئی اُمید باندھی جاسکے۔ عوام کو ان مشکلات کاسامنا کرنے کیلئے تیار رہنا چاہئے اور ممکنہ طور پر اپنے اخراجات میں کفایت اور آمدنی کے محدود سے محدود تر ذرائع سے استفادے کو بھی غنیمت گرداننا چاہئے۔ حکومت اپنے اخراجات کو لاک ڈائون کرے تبھی معاشی بوجھ میں کچھ کمی آسکتی ہے مگر حکومت اُلٹا اراکین پارلیمنٹ کی مراعات میں بھاری اضافے اور مراعات کا بل ایوان میں لا چکی ہے ان حالات میں کم ازکم اس بل ہی کو واپس لیاجائے۔
ایک بارپھر وزیرستان نوگو ایریا کیوں؟
شمالی و جنوبی وزیرستان میں تسلسل کیساتھ بلا وجہ کی ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے واقعات اور رواں ہفتے چار واقعات اور روزانہ کے دو دو واقعات تشویش کا باعث امر ہے۔ اعلیٰ افسر جدید تعلیم یافتہ افراد کو ٹارگٹ کرنا اتفاق ہے یا پھر یہ علاقے میں شعور رکھنے والے تعلیم یافتہ افراد کے خاتمے کی مہم، یہ ایک نہایت تشویشناک صورتحال ہے جس کے باعث عیدالفطر کے موقع پر ہی اپنے علاقوں میں عید منانے کیلئے آنے والوں کو عجلت میں علاقے سے نکلنا پڑا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قدر قربانیوں اور جدوجہد سے حاصل کردہ امن کو اتنا ناپائیدار نہیں ہونا چاہئے کہ اس کا تحفظ نہ کیاجاسکے اورعلاقہ اپنے ہی مکینوں کیلئے ایک مرتبہ پھر نو گو ایریا بن جائے۔ حکام کو جلد سے جلد اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے سخت اقدامات پر توجہ دینی چاہئے۔ سوال یہ ہے کہ یہ نامعلوم افراد کون ہیں اور اچانک قتل کی واردات کرکے فرار ہونے پر پولیس ان کا سراغ لگانے میں بری طرح ناکام کیوں ہو رہی ہے۔ پولیس کافرض ہے کہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال یقینی بنائے اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں کی روک تھام کیلئے مربوط لائحہ عمل مرتب کرکے اس پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ علاقے کے لوگوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ پولیس سے تعاون کریں اورٹارگٹ کلنگ میں ملوث افراد کے حوالے سے معلومات اور نشاندہی میں ہچکچائیں نہیں۔