امریکہ کے متنازعہ قانون کے ذریعے چینی اہلکاروں پر ویزا پابندیاں عائد

ویب ڈیسک: امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ایسے حکام پر ویزا پابندیاں عائد کر رہا ہے جو ہانگ کانگ کی عوام کی خودمختاری مجروح کرنے کے ذمہ دار تھے،پومپیو کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں سے جماعت کے ’موجودہ اور سابق‘ ارکان دونوں متاثر ہوں گے،

انھوں نے کہا کہ یہ اقدام صدر ٹرمپ کے اس وعدے کی پیروی ہے جس کے مطابق چین کو ہانگ کانگ کی خود مختاری محدود کرنے والے سکیورٹی قانون متعارف کروانے پر سزا دی جانی تھی،چین کا کہنا ہے کہ امریکہ کا یہ فیصلہ ایک ’غلطی‘ ہے جس پر اسے نظرِ ثانی کرنی پڑے گی،دنیا بھر کے ممالک اپنے دفاعی بجٹ تیزی سے کیوں بڑھا رہے ہیں؟امریکہ چین تعلقات: امریکی کمپنیوں کو ہوائی کے ساتھ کام کرنے اجازت،’چین کی موجودہ طاقت کا امریکہ سے کوئی موازنہ نہیں‘،یہ پیش رفت چین کے پارلیمانی اجلاس کے منعقد ہونے کے چند روز بعد سامنے آئی ہے،

نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی اس نئے قانون سے متعلق آئندہ اتوار کو شروع ہونے والے اجلاس میں بحث کرے گی،چین نے ایک ایسا سکیورٹی قانون متعارف کروایا ہے جس کے ذریعے ہانگ کانگ میں بیجنگ کی حاکمیت کو مجروح کرنا جرم تصور ہو گا اور اس کے باعث چین ہانگ کانگ میں پہلی مرتبہ اپنی سکیورٹی ایجنسیوں کے دفاتر قائم کرے گا،

اس نئے قانون کے متعارف ہونے کے بعد ہانگ کانگ میں چین مخالف مظاہروں کی ایک نئی لہر نے سر اٹھایا ہے،جمعہ کے روز مائیک پومپیو نے اپنے بیان میں کسی ایسے چینی اہلکار کا نام تو نہیں لیا جو امریکی ویزا پابندیوں سے متاثر ہوا ہے تاہم یہ پیش رفت امریکی ایوانِ بالا میں ایک حالیہ ووٹ کے بعد سامنے آئی ہے جس میں اراکین نے ان افراد پر پابندیاں عائد کرنے کا کہا تھا جو ہانگ کانگ کی خودمختاری کو محدود کرنے اور ان بینکوں کے خلاف بھی جو ان کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں،

اس اقدام کے بارے میں اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے واشنگٹن میں چین کے سفارتخانے نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ’امریکہ کے اس غلط فیصلے کی مخالفت کرتے ہیں،سفارت خانے کی جانب سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ ’ہم امریکہ سے مطالبہ کرتے ہیں کے وہ اپنی غلطیوں کی تصحیح کرے، اس فیصلے کو واپس لے اور چین کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کرنے سے پرہیز کرے،

گذشتہ ماہ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ چین کے منصوبوں کے ردِ عمل میں ہانگ کانگ سے تجارت اور سیاحت کے حوالے سے ترجیحی سلوک ختم کریں گے،امریکی صدر نے کہا تھا کہ بیجنگ ’اپنے وعدے کے خلاف ایک ملک دو نظام کے فارمولے سے ہٹ کر ایک ملک ایک نظام کی پالیسی اپنا رہا ہے،ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ ہانگ کانگ کے لیے ایک سانحے سے کم نہیں، چین نے ہانگ کانگ کی خودمختاری چھین لی ہے،

چینی پارلیمان نے پہلے ہی نئے قانون سے متعلق قرارداد کی حمایت کر دی ہے جس کے بعد اب یہ ملک کی سینیئر لیڈران کے پاس جا چکی ہے،ہانگ کانگ نے بھی ایک سکیورٹی قانون پاس کرنا تھا تاہم اس کی غیر مقبولیت کے باوجود اسے منظور نہیں کروایا جا سکا تھا،چین اب مداخلت کر کے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ شہر کا ایک آئینی ڈھانچہ ہو جس کے ذریعے چین کی حاکمیت کو درپیش خطرات سے نمٹا جا سکے،

اس قانون کے تحت مندرجہ ذیل فعل جرم قرار دیے جائیں گے:

1۔ چین سے علیحدگی اختیار کرنا

2۔ وفاقی حکومت کے اختیار یا طاقت کو نظر انداز کرنا

3۔ دہشت گردی، یعنی اپنے ہی لوگوں کے خلاف تشدد کا رستہ اپنانا

4۔ غیرملکی فورسز کی ہانگ کانگ کے معاملات میں عمل دخل

ماہرین کا کہنا ہے کہ انھیں ڈر ہے کہ اس قانون کے تحت ان افراد و بھی سزائیں دی جائیں گی جو بیجنگ پر تنقید کرتے ہیں جیسے چین میں ہوتا ہے۔