یونس خان کے مطابق انگلینڈ کرکٹ ٹیم کو شکست دینے کیلئے پاکستانی ٹیم کو کونسی حکمت عملی اپنانی ہوگی؟

ویب ڈیسک: دورہ انگلینڈ کے لیے قومی ٹیم کے بیٹنگ کوچ یونس خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو ہر اننگز میں 300سے 350رنز بنانا ہوں گے، پہلی اننگز میں رنز بنالیں تو انگلینڈ کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں،

غیر ملکی خبرایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے یونس خان کا کہنا تھا کہ دورہ انگلینڈ کے لیے میں اور مصباح الحق اپنا تجربہ کھلاڑیوں میں منتقل کریں گے، انگلش کھلاڑی جوفرا آرچر مشکلات کھڑی کرسکتا ہے،

بیٹنگ کوچ یونس خان نے کہا کہ ہمارا بولنگ کمبی نیشن اچھا ہے، انگلینڈ میں بیٹسمینوں کی تکنیک اور اعصاب کا امتحان ہوتا ہے، امید ہے کھلاڑی بھرپور کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے،

خیال رہےکہ دورہ انگلینڈ سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی نے کہا کہ انگلینڈ کا دورہ ہمیشہ مشکل ہوتا ہے، وہاں کا موسم بدلتا رہتا ہے،

انہوں نے کہا کہ کنڈیشن کے حساب سے اپنا گیم پلان تیار کریں گے ،کرکٹ کے بغیر بہت مشکل وقت گزارا ہے،

قومی کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ اور سابق کپتان یونس خان نے دورہ انگلینڈ کے لیے مخالف ٹیم کے فاسٹ بولر جوفرا آرچر کو ایک ‘بڑا خطرہ’ قرار دیا ہے، انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ اور تین ٹی20 میچز کھیلنے کے لیے پاکستان کی کرکٹ ٹیم اتوار کو برطانیہ روانہ ہوئی ہے،

یونس خان نے کہا ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم کا حصہ بننے کے بعد گذشتہ برس کی ایشیز سیریز اور پھر ورلڈکپ جتوانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے آرچر نے اچھی شہرت حاصل کی ہے، ٹیم کی انگلینڈ روانگی سے قبل یونس خان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جوفرا آرچر ایک میچ ونر اور خطرناک کھلاڑی ہیں،
انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہونے والے ورلڈکپ کے فائنل میچ کا ذکر کرتے ہوئے یونس خان نے کہا کہ ‘جوفرا آرچر مضبوط اعصاب کے مالک ہیں اور یہ بات انہوں نے ورلڈ کپ کے فائنل میں ایک اہم سپر اوور کروا کر ثابت کی ہے،
پاکستان کے بیٹنگ کوچ کے مطابق جوفرا آرچر کی بولنگ میں کاٹ ہے اور ان کا ہائی آرم ایکشن بہت اچھا ہے تاہم یونس خان کا ماننا ہے کہ آرچر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے،
ان کی بہت ہائپ ہے لہذا ان پر اضافی دباؤ ہو سکتا ہے۔ میں نے بیٹسمینوں سے کہا ہے کہ وہ جسم کے قریب اور بیک فٹ پر کھیلیں کیونکہ اس کی ان سونگر بہت خطرناک ہوسکتی ہے،
یونس خان نے 2016 میں سسیکس کے خلاف ہونے والے ایک پریکٹس میچ میں آرچر کی بولنگ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ آرچر نے اس میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں حالانکہ اس وقت ان کی بولنگ فارم ایسی نہیں تھی جیسی اب ہے،
یونس خان نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی بیٹسمینوں کو انگلینڈ کے تجربہ کار بولرز جیمز اینڈرسن اور براڈ کو بھی محتاط انداز میں کھیلنا چاہیے۔