مشرقیات

سیدنا سلیمان نے سوختی قربانی(جس میں قربانی کو آسمانی آگ آکر کھا جاتی تھی) کیلئے ایک اور قربان گاہ بنوائی جس کا طول وعرض بیس ہاتھ (60فٹ) اور بلندی دس ہاتھ (30فٹ) تھی اور اس کے استعمال کیلئے دیگ یا چمچے اوردست پناہ وغیرہ یہ سب اشیاء نہایت عمدہ شکل سے بنوائیں۔
اس کیلئے دس ہزار میزیں،دسترخوان کا بھی انتظام کیا گیا تاکہ روشنی کا بھی انتظام رہے۔ہیکل کو چار دیواری سے بھی محفوظ کیا گیا،جس کی بلندی تین ہاتھ (6فٹ) رکھی گئی تھی تاکہ کوئی اس کے اندر جانے نہ پائے،کیونکہ وہ بڑا ہی متبرک اور مقدس مقام تھا جو کہ صرف پاک لوگوں کیلئے ہی بنایا گیا تھا اور وہی لوگ اس گھر میں جانے کے اہل تھے۔اس کے باہر زمین کو بلند کر کے ایک دوسری چھوٹی ہیکل تعمیرکرائی گئی۔اس ہیکل کے اندر بڑے بڑے کمرے اور اس کے سامنے دور دراز تک دو طرفہ مکانات بنائے گئے۔
اس عظیم الشان ہیکل کی تعمیر سات برس میں مکمل ہوئی تو حضرت سلیمان نے تمام بنی اسرائیل کو جمع کر کے ایک دعوت دی اور بڑی دھوم دھام سے صندوق شہادت(تابوت سکینہ) کو اندر رکھا۔جب یہ لوگ سب چیزیں رکھ کر باہر آئے تو ایک سیاہ بادل(ابر) کا ٹکڑا ہیکل کے اندر گیا،جس سے اندھیرا ہوگیا اور لوگوں کو اس کی مقبولیت کا یقین ہوگیا۔تب حضرت سلیمان نے سجدہ میں گر کر رب تعالیٰ سے یہ دعا فرمائی کہ
:”یا اللہ!اس مکان میں جس وقت تیرے بندے عبادت کرنے آئیں اور دعا مانگیں تو ان سب کی بندگی قبول فرما اور ان کی دعائیں اور انسانی حاجات پوری فرمانا۔
اگرچہ تو اپنے تمام بندوں کی نگہبانی کرتا ہے اور جو تجھ سے ڈرتے ہیں تو ان کا زیادہ تر نگہبان اور ان پربڑا مہربان ہے”۔
اس کے بعد رب تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا اور بے شمار جانور قربان کئے ،جن کو سب کے سامنے آسمان سے آگ اُتر کر کھاگئی،جس سے سب کو مقبول ہونے کا یقین ہوگیا۔ اس کے بعد تمام لوگ خوشی خوشی اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔
(تفسیر حقانی از تاریخ بیت المقدس)