بجٹ کی منظوری اور سانحہ کراچی

سوموار کو160ووٹوں سے حکومت نے آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ منظور کروالیا۔قومی اسمبلی کے ایوان میں حکومت کے پاس182ووٹ ہیں بجٹ کی منظوری کے لئے160ارکان موجود تھے۔اپوزیشن کے119ارکان ایوان میں تھے جبکہ اس کے قومی اسمبلی میں 166 ووٹ ہیں اسی طرح اس کے47ارکان غیر حاضر تھے۔ اکیسویں صدکے ماہر ریاضی جناب اسد عمر ان 47اپوزیشن ارکان کو جو غیر حاضر تھے اپنے کھاتے میں ڈال رہے ہیں نئے پاکستان میں حساب کتاب اس طرح ہوگا۔مثال کے طور پر1970ء کے عام انتخابات اور بعد ازاں سقوط مشرقی پاکستان کے بعد جب باقی ماندہ پاکستان میں دو صوبوں اور وفاق میں پیپلزپارٹی کی حکومت بنی تو ہمارے اسلام پسند صحافی بہن بھائی یہ کہا کرتے تھے کہ پی پی پی کو انتخابات میںمجموعی طور پر33فیصد ووٹ ملے ہیں اور مخالفین67فیصد ہیں اس لئے اقلیت اکثریت پر حکمران ہے ۔ ان67فیصد میں ووٹ نہ ڈالنے والے بھی شامل کئے جاتے تھے۔جنرل ضیاء کے ریفرنڈم ، 1985ء کے غیر جماعتی قومی انتخابات کے موقع پر ڈالے گئے ووٹوں اور عدم دلچسپی کے حامل رائے دہند گان کے حوالے سے اعدادوشمار پیش کئے جانے پر ہمارے یہ اسلام پسند بہن بھائی ہتھے سے اکھڑ جاتے کچھ تو باقاعدہ گلے پڑنے لگتے تھے۔بہر طور بجٹ منظور ہوگیا چھوٹی چھوٹی خواہشوں پر پچھلے دنوں دھمالیں ڈالنے والے دوستوں کے غم میں برابر کا شریک ہوں ۔
پچھلے مالی سال کے حوالے سے آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ میں چالیس وفاقی محکموں اور اداروں میں مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے موجود اعدادوشمار عجیب وغریب ہیں آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق270 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں وزارت خزانہ نے ایک تردیدی بیان ضرور جاری کیا ہے مگر تفصیل سے ان نکات کی وضاحت نہیں کی جو آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ کا حصہ ہیں اسی طرح کوئی حکومتی ذمہ دار عوام الناس کو یہ بھی نہیں بتا رہا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے کمپنیوں نے4سو ارب آٹا،چینی سکینڈل کے3سو ارب ،پٹرولیم کی حالیہ قیمتوں میں اضافے سے3سو ارب اور پاور سکینڈل کے4سو ارب روپے کی وصولی کے لئے کیا اقدامات ہوئے اور حکومت (وفاقی حکومت) نے ان15 سو ارب روپے کی لوٹ مار کے سہولت کاروں کے خلاف اب تک کیا اقدامات اٹھائے۔اصولی طور پر وفاقی حکومت کا فرض ہے کہ لوٹی گئی اس دولت کی واپسی کے سخت ترین اقدامات کرے کسی اور اصابت کے بغیر لٹیروں اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائی بھی تاکہ مستقبل میں کسی کو یہ جرأت نہ ہو کہ وہ حکومت کو چونا لگائے اور عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹے۔وفاقی بجٹ کی منظوری کے مرحلہ میں مو بائل سم کے اجرا پر250روپے ٹیکس لگانے کا فیصلہ بھی نا منا سب ہے۔بیرون ملک سے عارضی طور پر وطن آئے شہری یہ شکایت کر رہے ہیں کہ ان کے زیر استعمال موبائل فون پر عاید ٹیکس جمع کروانے کے لئے ایف بی آر نے نوٹس بھیجے ہیں مہنگی ٹکٹیں خرید کر عارضی طور پر وطن آنے والے شہریوں کے ساتھ ناانصافی کا نوٹس لیا جانا چاہیے۔ سوموار کی صبح کراچی میں سٹاک ایکسینج کی عمارت پر دہشت گردوں کے حملے کے دوران ایک پولیس اہلکار سمیت نجی کمپنی کے تین سیکورٹی گارڈ شہید ہوئے جبکہ پولیس اور سیکورٹی گارڈ کی بروقت کارروائی سے چاروں حملہ آور مارے گئے۔اس حملے کی ذمہ داری بی ایل ایف کے مجید گروپ نے قبول کی ہے۔یہ بجا ہے کہ سندھ پولیس اور نجی سیکورٹی گارڈ کی جوانمردی نے کراچی اور ملک کو بڑے سانحہ سے بچالیا۔ البتہ اس حوالے سے شروع ہوئی بحث میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کے حوالے سے بعض سوالات پر کھڑا کیا گیا طوفان بد تمیزی کسی بھی طرح درست نہیں پچھلے40سال سے کراچی رینجرز کی تحویل میں ہے اس کے پاس پولیسنگ تک کے اختیارات ہیں سندھ کے سالانہ بجٹ سے باقاعدہ معاوضہ ادا ہوتا ہے اس طور اگر یہ سوال کیا جارہا ہے کہ شہر میں جگہ جگہ لگے ناکوں اور قائم چوکیوں کے باوجود چار مسلح افراد وقوعہ والی جگہ تک کیسے پہنچے تو اس پر بُرا منانے کی ضرورت ہے نہ فتوے اچھالنے کی۔ اس حملہ کے وقت کے حوالے سے بھی سوالات ہیں پچھلے چند دنوں سے بلوچستان میں طلباء وطالبات اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں کچھ شہروں میں مسنگ پرسنز کے ورثا کا احتجاج جاری ہے عین اس موقع پر بی ایل ایف مجید گروپ کی یہ کارروائی پر امن سیاسی جدوجہد کرنے والوں پر خودکش حملہ شمار ہوگی اس میں اہم ترین بات یہ دعویٰ ہے کہ چاروں حملہ آور مسنگ پرسنز میں شامل تھے جبکہ دستیاب معلومات کے مطابق چار میں سے ایک سلمان کا نام مسنگ پرسنز کی فہرست میں شامل تھا۔ مناسب ہوگا کہ سیکورٹی ادارے اس حوالے سے ثبوتوں کے ساتھ معاملے کی وضاحت کریں تاکہ عوام پورا سچ جان سکیں۔سوموار کے سانحہ کراچی کے بعد بلوچ ایشو پر جس مکالمہ کا آغاز ہوا ہے وہ خوش آئند ہے اس مکالمہ کا آغاز عامر ہاشم خاکوانی نے کیا ہے اہل دانش کو اس میں شرکت کرنا چاہیئے تاکہ مسائل کے حل کے لئے کوئی دروازہ کھل سکے۔