خیبر پختونخوا میں اب تک 1لاکھ 45ہزار 958 کورونا کے ٹیسٹ کیے گئے – مشیر اطلاعات

پشاور:  مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا اجمل وزیر کے مطابق خیبر پختونخوا میں اب تک 1لاکھ 45ہزار 958 کورونا کے ٹیسٹ کیے گئے، صوبے میں  ٹیسٹنگ کی استعداد بڑھائی گئی ہے یومیہ ٹیسٹوں تعداد اس ماہ کے اختتام تک 10 ہزار تک ہو جائے گی، لیڈی ریڈنگ ہسپتال,جو نہ صرف پشاور بلکہ صوبے کا سب سے بڑا ہسپتال ہے وہاں کورونا کے مریضوں کے لیے بیڈز میں اضافہ کیا گیا ہے،

ایل آر ایچ کے کورونا کمپلیکس میں عنقریب بستروں کی تعداد 205 سے بڑھا کر 500 کر دی جائے گی، بروقت اور بہتر طبی سہولیات فراہمی کے لیے ہسپتالوں کے استعداد کار کو بھی بڑھا جارہا ہے، عوام کو کورونا سے بچانے کے لیے حکومت اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے، عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وبائی صورتحال میں  حکومت اور ماہرین کی ہدایات پر عمل کریں، حکومت کے متعین کیے گئے ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے صوبہ بھر میں ضلعی انتظامیہ متحرک ہے،

ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں، وزیراعلیٰ محمود خان کی ہدایات ہیں کہ کورونا سے تحفظ کے لیے ایس او پیز کے بارے عوام کو زیادہ سے زیادہ آگاہی دی جائےاور ان  پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، خیبر پختونخوا میں گزشتہ روز 16ہزار834 کارروائیاں کی گئیں، ان کارروائیوں میں دکانوں, بازاروں, بس اڈوں, مسافر گاڑیوں, انڈسٹریل یونٹس, پٹرول پمپس اور دیگر عوامی مقامات کو چیک کیا گیا، ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 3ہزار 637 یونٹس/ کاروباروں کو وارننگز جاری کی گئیں، 1ہزار 236 افراد پر 8لاکھ 50ہزار 420روپے جرمانے عائد کیے گئے،

154 یونٹس اور کاروباروں کو ایس او پیز پر عمل نہ کرنے کے باعث سیل کیا گیا ہے، گزشہ ماہ کے 28 دنوں میں صوبے  کے تمام اضلاع میں ایس او پیز  سے متعلق مجموعی طور پر 5لاکھ 48ہزار 759کارروائیاں کی گئیں، وزیراعلیٰ محمود خان کے واضح احکامات ہیں کہ اس معاملے میں کسی کے ساتھ رعایت نہ برتی جائے، احتیاطی تدابیر پر عمل سے ہی کورونا کو روکا جاسکتا ہے، گزشتہ ماہ 1لاکھ 34 ہزار 968 افراد کو وارننگز جاری کی گئیں، 9ہزار 811 یونٹس,کاروبار اور مقامات سیل جبکہ 65ہزار 194 افراد پر کُل 2 کروڑ 75 لاکھ 64 ہزار 336 روپے جرمانہ بھی  عائد کیا گیا، حکومت کی یہ سختی عوام کی زندگی کے تحفظ کے لیے ہے،

عوام میں بھی احساس ذمہ داری ہونا چاہیے کہ اس کڑے وقت میں انھیں بھی با شعور شہری کا کردار ادا کرنا ہے، وزیراعظم  عمران خان کی ہدایات کے مطابق کورونا کے زیادہ کیسز والے علاقوں میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سمارٹ لاک ڈاؤن کا سلسلہ بھی جاری ہے، خیبر پختونخوا اسمارٹ لاک ڈاون کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر علاقوں کو مانیٹر کیا جاتا ہے, گزشتہ روز مزید14 علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون کیا گیا، ان علاقوں میں کورونا سے متاثر 73 مریض موجود ہیں،

متعلقہ علاقوں میں کل 26 ہزار 257 افراد کی آبادی کو اپنی نقل و حرکت محدود کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، سمارٹ لاک ڈاون زدہ علاقوں میں 46 گھر آئسولیٹ کئے گئیں ہیں، اسی طرح صوبہ بھر میں کل 290 علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون کا نفاذ کیا گیا ہے، جن میں 2ہزار 968 کورونا کے مریض موجود ہیں، ایک طرف کورونا کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں تو دوسری طرف ٹڈی دل کا مسئلہ ہے جس کے خاتمے کےلیے خیبر پختونخوا حکومت اقدامات اٹھا رہی ہے ،

ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر  سرگرمیاں جاری ہیں، محکمہ ریلیف , زراعت , پی ڈی ایم اے, پاک آرمی اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے مصروف عمل ہے، وزیراعلیٰ محمود خان کی ہدایات کی روشنی میں ٹڈی دل سے نمٹنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر آپریشن کیا جارہا ہے، خیبر پختونخوا کے 15اضلاع کے 56لاکھ 64 ہزار 913ایکڑ  کے علاقے میں سروے کیا گیا ہے،

62ہزار 462 ایکڑ کے رقبے پر اسپرے کیا جاچکا ہے، 758   افراد اور 78 گاڑیوں پر مشتمل  80 ٹیمیں ٹڈی دل کے خلاف  آپریشن میں مصروف ہیں۔