سکولوں کی بندش ،انگور اڈہ اور پنشنرز

بہت سے والدین کو یہ خدشات ہیں کہ حکومت نجی سکولوں کے دبائو میں آکر سکول کھول دے گی اور بچوں میں خدا نخواستہ کورونا پھیل جائے گا۔میں خدشات کا شکار ہو کر برقی پیغامات بھیجنے والے تمام والدین کو سب سے پہلے یہی کہوں گی کہ حکومت اور نجی تعلیمی ادارے آپ کے بچوں کو گھر سے زبردستی سکول نہیں لے جا سکتے یہ آپ کی مرضی اور فیصلہ ہوگا کہ آپ اپنے بچوں کو سکول نہ بھیجیں آرمی کے تمام سکولوں میں طلبہ کو میری معلومات کے مطابق کلاسوں یعنی جن کلاسوں کے امتحانات ہونے تھے تحریری مواد گھروں میں بھیج کر کروایا گیا اور اب واٹس ایپ گروپ بنا کر باقاعدگی سے سمعی وبصری ور عکسی تحریری مواد بھجوا کر گھروں پر ان سے کلاس رومز کی طرح کا کام کروایا جارہا ہے اس کی ایک افادیت میری نظر میں یہ ہے کہ ہر بچے پر ان کے گھر پر انفرادی توجہ دی جارہی ہے اور بچوں کی تعلیم کا اگر ایک طرف سے تھوڑا بہت حرج ہورہا ہے وہاں دوسری طرف اس سے زیادہ محنت اور فائدے کی بھی بات ہے یقیناً بہت سے دوسرے نجی سکولوں میں اسی طرح ہورہاہوگا والدین اگر بڑے بہن بھائی تھوڑی سی محنت کریں اور گائوں ودیہات میں گھر بیٹھے اساتذہ اپنے اردگرد کے بچوں کو مناسب فاصلے پر بٹھا کر ان کو پڑھانے کی ذمہ داری نبھائیں تو اس مشکل وقت میں ہمارے بچوں کا وقت ضائع نہ ہوگا جو تعلیمافتہ لوگ ہیں وہ اپنے بچوں کو خود پڑھائیں اور ان کو کام کا عادی بنائیں جامعات میں آن لائن کلاسز اور امتحانات کا میابی سے جاری ہیں۔جہاں وسائل اور نیٹ دستیاب ہے وہاں تومسائل قابل حل ہیں لاینحل مسئلہ نیٹ کا ہے جہاں نہیں وہاں بہرحال اس پر قبل ازیں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔صوبائی حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی بچوں کا تحفظ پہلے ہوگا۔سکول کب کھلتے ہیں اس کا تو اندازہ نہیں البتہ سکول جب بھی کھلیں گے مکمل حفاظتی تدابیر کے ساتھ کھولے جائیں گے اس وقت گھروں پر بچوں کو حفاظتی تدابیر اختیار کرنے اور اس کا خیال رکھنے کی تربیت ملے تو سکول کھلنے پر ان کو آسانی ہوگی کچھ امور حکومت کے بس سے بھی باہر ہوتے ہیں ان میں سے ایک مسئلہ کورونا وباء کی صورت میں سامنے ہے اس سے مل کر حفاظتی تدابیر اختیار کر کے ہی بچنے کی تدبیر ممکن ہے سبھی کو اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے ساٹھ کلومیٹر دور علاقہ انگوراڈہ سے ہمارے قاری نے پی ٹی سی ایل موبائل سروس،ڈاکخانہ ہسپتال اور بجلی ،بینک اور آبنوشی کی سہولت نہ ہونے کی طرف توجہ دلائی ہے ۔انگوراڈہ اور وانا کا نام دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دنوں میں بہت سننے میں آتے رہے اس سے بڑھ کر خوشی کی بات کیا ہوگی کہ اب وہاں کے نوجوانوں میں اتنا شعور آگیا ہے کہ وہ میڈیا سے رابطہ کر کے حکومت سے بنیادی شہری سہولیات اور حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں میرا بس چلے تو قبائلی اضلاع پر سب سے پہلے بجٹ خرچ کروں وزیراعظم نے بھی ان علاقوں کی ترجیحی ترقی کو اپنا خواب بتایا ہے پر حکومتی ترجیحات میں ہر دور میں پسماندہ علاقوں کی ترقی اور ان کو ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانے کی خواہشات کا اظہار نئی بات نہیں میرے تئیں جب تک تمام صوبے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وسائل میں تین فیصد حصہ دینے پر رضامند نہیں ہوتے تب تک وزیراعظم خواب دیکھیں یا صدر یا پھر کوئی اور خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا اور یہ خواب قبائلی اضلاع کے عوام کیلئے خواب پریشان ہی ثابت ہوں گے۔انگوراڈہ کے اس قاری کے مطالبے کو خیبر پختونخوا حکومت بھولی بسری آواز نہ بنائے بلکہ جو لوگ قانون کے مطابق حکومت سے مطالبات کریں ان کے مسائل حل کئے جائیں اور حکومت ایک اچھا تاثر قائم کرے اور یہ ثابت کیا جائے کہ اضلاع کا انضمام عوام کے مفاد میں تھا۔کرک سے ہمارے ایک بزرگ اور محترم قاری نے پشتو لہجے میں دہلی کی اردو بولتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور بالخصوص پنشنروں کے ماہانہ پنشن میں اضافہ نہ کرنے کی حکومتی نا انصافی پر لکھنے کی فرمائش کی ہے اسی طرح ایک برقی پیغام میں مزدوروں پست درجے کے سرکاری ملازمین اور نجی اداروں میں جمع کرنے والوں کے مسائل وکم سے کم اجرت کی عدم پابندی پر حکومتی اداروں کی بے حسی پر لکھنے کا کہا گیا ہے ایک سرکاری ملازم کی حیثیت سے تنخواہ دار طبقے خاص طور پر پست درجے کے سرکاری ملازمین اور خاص الخاص طور پر پنشنروں کے پنشن کے قلیل ونا کافی ہونے اور اس طبقے کی مشکلات سے میں بخوبی واقف ہوں اور میں خود بھی اس کا حصہ ہوں۔جولوگ عمر بھر سرکارکی خدمت کر کے ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں حرام مال جمع نہ کیا ہو اور ان کا گزارہ پنشن پر ہونے لگے اگر تو بچوں کی ذمہ داریوں سے فارغ ہو چکے ہوں وہ زیر تعلیم اور بیروزگار نہ ہوں تو پنشن سے میاں بیوی کا گزارہ جیسے تیسے ہوسکتا ہے پنشنر کے بچے بیروزگار اور علاوہ ازیں بھی کسی پر ذمہ داریاں ہوں تو ان کی مشکلات کا اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے۔حکومت نے بجٹ میں جب ملازمین اور پنشنروں کیلئے کچھ رکھا ہی نہیں تو مطالبہ فضول ہے حکومت کو کم از کم پنشنروں اور کم گریڈ کے پنشنروں افسر رینک سے کم میںریٹائر ہونے والے فوجیوں کے پنشن میں کسی نہ کسی طور اضافہ کرنا چاہیئے۔ میرے محترم قاری کی بات سچ ہے کہ مزدور کا کوئی بھی پرسان حال نہیں بجٹ میں اس کیلئے کچھ رکھا جاتا ہے اور نہ ہی حکومت ان کی فلاح پر کسی اور طرح سے توجہ دیتی ہے۔قارئین اپنی شکایات0337-9750639اس نمبر پر میسج اور وٹس ایپ کرسکتے ہیں۔