شاہ محمود قریشی کا یورپی یونین کے خارجہ امور سے ٹیلیفونک رابطہ

اسلام آباد: وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ، جوزف بوریل سے ٹیلیفونک رابطہ, دونوں وزرائے خارجہ کے مابین دو طرفہ تعلقات، کورونا وبا کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال, وزیر خارجہ نے کورونا وبا کے باعث یورپی ممالک میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا. اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے یورپی کمیشن کی جانب سے کیے گئے بروقت اقدامات کی تعریف کی.

وزیر خارجہ نے کورونا وبائی صورتحال کے مضمرات سے نمٹنے کیلئے، اور ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو سہارا دینے کیلئے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے دی جانے والی ڈیٹ ریلیف تجویز کے مندرجات سے اپنے یورپی ہم منصب کو آگاہ کیا.

کورونا وبا کے معاشی مضمرات سے نمٹنے کیلئے عالمی سطح پر مشترکہ مربوط اور جامع لائحہ عمل سامنے لانے کی ضرورت ہے. وزیرخارجہ نے جوزف بوريل کو پاکستان کی جانب سے اس وبا کی روک تھام کیلئے کی جانے والی کاوشوں سے آگاہ کرتے ہوئے، اس ضمن میں یورپی یونین کی جانب سے فراہم کی جانے والی معاونت پر ان کا شکریہ ادا کیا.

کورونا وبا کے بعد یورپ میں زندگی کا معمول پر آنا، اور بین الاقوامی پروازوں کی آمد ورفت انتہائی خوش آئند ہے.

وزیر خارجہ نے یورپی یونین کی طرف سے وضع کی گئی ہدایات پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرواتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ یورپ آنے والے پاکستانیوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جائے گا.

یورپی یونین ائیر سیفٹی ایجنسی کی جانب سے (پی آئی اے) پر عائد کی جانے والی پابندی کے حوالے سے وزیر خارجہ نے اپنے یورپی ہم منصب پر واضح کیا کہ پاکستان، مسافروں کی جانوں کے تحفظ اور سفری سہولیات کے بین الاقوامی معیار پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے پی آئی اے میں جامع اصلاحات لا رہی ہے یہی وجہ ہے کہ ہم نے خامیوں پر مبنی رپورٹ کو منظرعام پر لانے کا فیصلہ کیا.

دونوں وزرائے خارجہ کے مابین کثیر الجہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ اور یورپی یونین اور پاکستان کے مابین طے پانے والے اسٹریٹیجک انگیجمنٹ پلان کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا.

وزیر خارجہ نے اپنے یورپی ہم منصب کو بھارت کی جانب سے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا.

بھارت اقوام متحدہ اور عالمی قوانین سے روگردانی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تناسب کو بدلنا چاہتا ہے. بھارت سرکار کی طرف سے 25 ہزار غیر کشمیریوں کو خلاف قانون ڈومیسائل کا اجراء قابل مذمت ہے جسے تمام کشمیری مسترد کر چکے ہیں.

دونوں وزرائے خارجہ کے مابین افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا, افغانستان میں قیام امن پورے خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے. پاکستان، افغانستان سمیت خطے میں امن و استحکام کیلئے اپنی مخلصانہ اورمصالحانہ کاوشیں جاری رکھے گا.

دونوں وزرائے خارجہ کا افغانستان کے حوالے سے مشترکہ اسٹیمنٹ سامنے لانے پر اتفاق, یورپی یونین کے امور خارجہ کے سربراہ نے کراچی میں اسٹاک ایکسچینج پر ہونیوالے دہشت گردی کے حملے اور قیمتی جانوں کے نقصان پر، وزیر خارجہ سے اظہار تعزیت کیا.
وزیر خارجہ نے اپنے یورپی ہم منصب کو، پاکستان میں بدامنی پھیلانے کیلئے شرپسند عناصر کو حاصل بھارتی سرپرستی سے بھی آگاہ کیا.

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے یورپی یونین کے امور خارجہ کے سربراہ کو حالات معمول پر آنے کے بعد دورہ ء پاکستان کی دعوت دی, یورپی یونین کے سربراہ خارجہ امور، جوزف بوريل نے وزیر خارجہ کو دورہ ء برسلز کی دعوت دی.