منہدم ہوتا چلا جاتا ہے دل سال بہ سال

آج یکم جولائی2020ء سے نیا مالی سال شروع ہوچکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے چاہا تو30 جون 2021ء تک جاری رہے گا۔ ہر سال کی طرح بیت جانے والے مالی سال کے آخری مہینے کے دوران نئے مالی سال کا بجٹ پیش کرکے آنے والے مالی سال کے لئے مالی منصوبہ بندی کی جاتی ہے جسے بجٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ بجٹ چاہے کسی گھر کا ہو، ادارے کا، شہر ، صوبے یا ملک کا اس کا مقصد آمدن اور خرچ کے درمیان توازن پیدا کرکے اس کے ذریعہ کسی معینہ مدت میں گزر اوقات کرنا ہوتا ہے، مالیاتی منصوبہ بندی یا بجٹ میں توازن رکھنا بہت بڑی بات ہوتی ہے ، آمدن اور خرچ کے درمیان توازن کو برقرار رکھنے والے بجٹ کو متوازن بجٹ کہاجاتا ہے، بجٹ بناتے وقت یا مالیاتی منصوبہ بندی کرتے وقت اگر یہ بات سامنے آئے کہ کسی ادارے شہر صوبے یا ملک کی آمدن کے ذرائع کم اور اخراجات پر اٹھنے والی رقم زیادہ ہے تو ایسے بجٹ کو خسارے کے بجٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
اپنے حصے ہی میں آنے تھے خسارے سارے
دوست ہی دوست تھے بستی میں ہمارے سارے
پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے سال 2020 -21کے لئے پیش کئے جانے والا متوازن بجٹ ہونے کی بجائے34کھرب روپے سے زائد خسارے کا بجٹ تھا۔ پچھلے سال کی طرح اس بار بھی بجٹ پیش ہونے سے پہلے ہی بجٹ پر تنقید و نتقیص کے نشتروں کی بارش شروع ہوگئی تھی ، بجٹ پیش کئے جانے کے دوران ارکان اسمبلی ہاتھوں میں بینر اٹھاکر بجٹ کے بخئے ادھیڑ رہے تھے اور اب خبر آئی ہے کہ متحدہ اپوزیشن نے پاکستان کے سال2020-21 کے بجٹ کو بیک جنبش قلم مسترد کردیا ہے ، جس کے لئے وہ اے پی سی یا آل پارٹی کانفرنس بلا کر وزیر اعظم پاکستان کو گھر بھیجنے کی سوچنے لگے ہیں ، ہمیں یاد پڑتا ہے گزشتہ برس حزب مخالف والوں نے بجٹ کی دستاویز پھاڑ کر ہوا میں اچھالتے ہوئے حکومت کے خلاف اپنے غصہ کا اظہار کیا تھا،
مخالفت سے مری شخصیت سنورتی ہے
میں دشمنوں کا بڑا احترام کرتا ہوں
حکومت کے کسی ناقابل قبول ایکشن کے جواب میںمخالفانہ رویہ اختیار کرنا حزب مخالف کا جمہوری حق ہے ، اگر قانون ساز اسمبلیوں میں حزب مخالف کی بنچوں پر بیٹھنے والی قیادت نہ ہوتی حکومت کو اپنی مرضی ٹھونسنے یا اپنی من مانی کرنے کی کھلی چھٹی ہوتی ، اس حوالہ سے حزب مخالف یا اپوزیشن کا کردار اپنی جگہ مسلمہ اور کاروبار حکومت چلانے کے لئے نہایت اہم ہے ، لیکن ان کو مخالفت برائے مخالفت کرنے کی بجائے اس بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ اس وقت نہ صرف پاکستان کے بلکہ ساری دنیا کے ممالک کے معاشی حالات کس ڈگر پر جارہے ہیں ،
جو دل کو ہے خبر، ملتی نہیں خبر
ہر صبح اک عذاب ہے اخبار دیکھنا
امریکہ جیسے طاقت ور اور گھمنڈی ملک کی معیشت کرونا وائرس کی وجہ سے فلاپ ہوچکی ہے ، تو ہر کس و ناکس کے علاوہ رہبروں کی رہزنی کے ہاتھوں لٹا پٹا پاکستان معاشی طور پر کس مقام پر کھڑا ہے اس کا اندازہ یا احساس ملک کے ہر فرد کو ہونا چاہئے ، لیکن ہم مصیبت یا کسی مشکل کی گھڑی میں ایک اور صرف ایک ہوکر حالات کا مقابلہ کرنے کی بجائے اپنی اپنی جداگانہ یا انفرادی سوچ کی بنیاد پر کسی مشکل کا مقابلہ کرنے کی بجائے اسے جھوٹ یا افواہ قرار دے کر اس کا مذاق اڑانے لگتے ہیں ، کرونا کے خلاف بھی ہم ایک پیج پر اکٹھے ہونے کی بجائے اپنی اپنی مرضی کی لائف اسٹائل اپنائے ہوئے ہیں ، جس کا اندازہ آپ کسی کام کی غرض سے بازار نکلتے وقت بخوبی کرسکتے ہیں ، گھروں سے ماسک پہن کر نکلنا آپ کی صحت و تندرستی کے لئے وقت کی ضرورت ہے لیکن آپ گلیوں اور بازاروں میں ماسک کے بغیر چلتے پھرتے اور معمولات زندگی نپٹاتے کم و بیش اسی فی صد لوگوں کو دیکھ کرپکار اٹھیں گے کہ
یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات
دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور
کہتے ہیں کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ، یہ بھی کہا گیا کہ یہ عوام دوست بجٹ ہے ، لیکن بجٹ کے منظور ہونے سے پہلے ہی پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا تو دوسری طرف ملک کا ملازم پیشہ طبقہ اس لئے اس لئے نالاں ہونے لگا کہ ان کی تنخواہوں اور پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ نہیں ہوا ،نجی اسکولوں کے مالکان کو گلہ رہنے لگا کہ ان کے تعلیمی ادارے بند ہوگئے اور ان کی آمدن اخراجات کے مقابلہ میں صفر ہوکر رہ گئی اور ان اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین اس لئے نالا ں ہیں کہ ان سے اسکول بند ہونے کے دوران کی فیس بھی طلب کی جارہی ہے ، تاجر طبقہ ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتا ہے ، لیکن ان کو گلہ ہے کہ لاک ڈاؤن نے ان کی تجارت کا ستیہ ناس کردیا ہے ، یہ سب باتیں سال گزشتہ کے ساتھ ہی پیوست زمین ہوجانی چاہئیں ، لیکن کیا یہ سب نئے مالی سال میں نہ ہوگا ، اس کے متعلق سر دست کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ
منہدم ہوتا چلا جاتا ہے دل سال بہ سال
ایسا لگتا ہے گرہ اب کے برس ٹوٹتی ہے