پائلٹس کے مشکوک لائسنس

ایک شخص بھرے بازار میں دوسرے شخص کو بری طرح پیٹ رہا تھا۔تیسر ے شخص نے بیچ بچاؤ کرواتے ہوئے پہلے شخص سے پوچھ لیا کہ میاں کیوں بے چارے کو پیٹ رہے ہو۔ پہلا شخص بولاکہ یہ میرا دوست ہے مگر اس نے مجھے کل گینڈا کہا تھا ۔ تیسرے شخص نے پھر پوچھا کہ میاں گینڈا کل کہا اور پیٹ آج رہے ہو۔تو پہاا شخص بولا کہ کل تک میں نے گینڈا نہیں دیکھا تھا آج اس کی تصویر دیکھی ہے ۔ ملک خداداد کی قسمت پر آنسو ہی بہائے جاسکتے ہیں ۔کیسی کیسی خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ اور کہیں نہ مل سکیں ۔پی آئی اے نے اپنے 150پائلٹس کے لائسنس مشکوک ہونے پر انہیں جہاز اڑانے سے روک دیا ہے ۔یہ سن کر دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔اپنے وہ تمام ہوائی سفر یاد آرہے ہیں جو پی آئی اے کی مختلف فلائٹس میں کیے تھے ۔بچ جانے کی خوشی یقینا اپنی جگہ ہے لیکن اگرچہ کچھ ہوجاتا تو۔۔یہ” تو ”بڑا پریشان کررہا ہے ۔ کاش کہ پی آئی اے کے پائلٹس کے مشکوک لائسنس والا”گینڈا ” پہلے ہی دیکھ لیا ہوتا تو کم از کم سفرہی نہ کرتے ۔ مگر افسوس یہ بھی کہ گینڈا کہلوانے کے بعد دوست کو سربازار پیٹنے کی سہولت نہیں رکھتے ۔ کتنا عجیب ہے کہ عوام کے ساتھ کوئی فرد یا ادارہ کیسا ہی برا نہ کرلے کسی کو سزا نہیں ملتی ۔بڑے سے بڑے واقعے ،وقوعے ،فراڈہوجاتے ہیں۔ انکوائریاں ہوجاتی ہیں مگر سزاکی تاریخ دیکھیں تو صفر ہی ملے گا۔اب یہ مشکوک لائسنس بھی تو کسی ادارے نے دیے ہوں گے ۔اور لائسنس دینے والوں نے ایک لمحہ کے لیے بھی نہیںسوچا ہوگا کہ یہ پائلٹ صاحبان کچی سڑک پر چنگ چی نہیں چلائیں گے بلکہ سینکڑوں مسافروں کو اڑا کر ایک منزل سے دوسری منزل تک لے کر جائیں گے ۔اب یہ جعلی یا مشکوک لائسنس کسی نے ثواب کے لیے تو دیے نہیں ہوں گے بلکہ رشوت لے کر ہی دیے ہوں گے ۔ہمارے وطن میں بلاشبہ کرپشن سب سے بڑا ناسورہے ۔پیسے سے کچھ بھی خریدا جاسکتا ہے چاہے وہ کوئی غیرقانونی آئٹم ہو کہ جعلی ڈگری ۔دونمبری کی روایت بہت پرانی ہے اور ہم سب اس رنگ میں رنگے ہوئے ۔ ہم پانچ وقت نماز بھی پڑھیں گے ۔روزے بھی پورے رکھیں گے ۔زکواة بھی دیں گے لیکن ساتھ ہی ہم بجلی کا میٹر” خاموش” کرنے کے چکر میں رہیں گے کہ کم از کم گرمی میں تو بجلی کا بل کم آئے اور ہم اے سی لگا کر اپنے وجود کو ٹھنڈا کرسکیں ۔ امتحانی ہالوں میں خود اپنی آنکھوں سے والدین کو امتحان میں بیٹھے اپنے بچے کو نقل پہنچانے کے چکر میں سرگرداں دیکھا ہے ۔ بہت سے ڈاکٹروں کو مختلف امراض میں ایک ہی کمپنی کی دوائی لکھتے دیکھا ہے ۔ سارے شہر کو کیمیکل والا دودھ دہی خریدتے دیکھا ہے ۔ مرچ مصالحے تو برسوں پہلے سے بدنام ہیں۔ خداجانے گھی اور تیل کی بجائے کیا کیا کچھ کھارہے ہیں۔مطمع نظر ہم سب کا پیسہ بنانا ہے چاہے حلال ہو یا حرام۔ شاید ہی ہم میں کوئی دعویٰ کرے کہ اس نے زندگی میں کبھی رشوت نہیں دی۔ مجبوری کہہ لیں یا دوسروں کا حق مارنا کہہ لیں لیکن رشوت بہرحال رشوت ہی ہے ۔ کتناا واضح حکم ہے کہ رشوت لینے اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں ۔سوچیں ذرا کہ ہم جہنم کی آگ سے بھی نہیں ڈرتے اور دھڑلے سے رشوت لیتے اور دیتے ہیں۔ اس کی مثال تو ایسی ہے کہ کوئی شراب پینے میں کوئی عارنہ سمجھے مگر دوسرے ملکو ں میں حلال فوڈ کو تلاش کرے ۔بھئی جب شراب کو حرام نہیں سمجھتے تو خنزیر بھی تمہارا کیا بگاڑ لے گا ۔پوری سوسائٹی ہی مایا جال میں پھنس چکی ہے۔ پیسہ بناؤ پیسہ ۔اس کرونا میں کیا کیا شہزادے منوں مٹی تلے چلے گئے ۔بس یہی تو انجام ہے ۔ میں خود ایک دوست کی وفات کے بعد اس کی پنشن کے لیے دوڑدھوپ کررہاہوں ۔سوچنے کا مقام ہے بہرحال اگر سوچا جائے ۔کون لے گیا ساتھ ۔ قارون بھی تودو ہی روٹیاں کھاتا ہوگااور پیٹ بھر رزق اللہ دے ہی دیتا ہے ۔ بیڑا غرق ہو اس کارپوریٹ کلچر کا ہمیں خواب در خواب دکھائے چلا جاتا ہے ۔ میڈیااور سوشل میڈیا ہمیں ایک عالیشان اور پر تعیش زندگی دکھادکھا کر ہماری آنکھیں خیر کرتا رہتا ہے ۔ ہمارے تخیل کو وہ وہ مواد فراہم کرتا ہے کہ ہماری روح بے چین ہوجاتی ہے۔ مسئلہ ہماری سماجی تربیت کا بھی ہے ۔ نہ وہ بڑے رہے کہ ان سے قناعت سیکھی جاتی تھی نہ ہی سماجی زندگی رہی کہ جوحرام سے نفرت سکھاتی۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ دونمبر پائلٹ اب کیا کریں گے۔ سینیٹر مشاہداللہ نے اس مسلے پر نرالی منطق نکالی ہے کہ ان پائلٹوں کو نکالنے کی بجائے آدھی تنخواہ پر رکھ لیا جائے جہاز تو وہ ویسے بھی اڑالیتے ہیں ۔