یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا؟

نرگسیت کو ایک ایسی نفسیاتی بیماری کہا جاتاہے جس میں مبتلا افرادکو لاعلاج تصور کیا جاتا ہے نرگسیت کا شکار شخص ہر جانب اپنا ہی پر تو محسوس کرتا ہے اور پھر وہ اس کے عشق میں یوں مبتلا ہو جاتا ہے کہ اسے اپنے سوا دوسرا کوئی نظر ہی نہیں آتا،دنیا کی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو جن لوگوں نے اقتدار میں رہ کر خود کو ناگزیر قرار دیا اب ان کے مقابر بھی موجود نہیں ہیں،البتہ تاریخ کے صفحات ان کے تذکرے کو منفی انداز میں ضرور محفوظ رکھے ہوئے ہے ،ان کے تکبر اور غرورکی داستانیں عبرت ضرور دلاتی ہیں مگر افسوس کہ ان عبرتناک داستانوں سے سبق سیکھنے والا کوئی نہیں ہوتا کیونکہ طاقت اور اقتدار کا سودا جس سر میں سما جائے وہ ایسی شخصیتوں کو اندھا کر دیتا ہے،ایسے ہی مواقع کیلئے تو جالب نے کہا ہے کہ
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقین تھا
مگر ایسے لوگوں کو نصف سے زیادہ دنیا فتح کرنے والے سکند راعظم نے بطور عبرت ایک خوبصورت انتباہ چھوڑی ہے یعنی جب اسے اپنی موت کا یقین ہوگیا تو ایک روایت کے مطابق اس نے وصیت کی کہ اس کے جنازے سے اس کے دونوں ہاتھ باہر نکالے جائیں تاکہ دنیا کو احساس ہو جائے کہ آدھی دنیا فتح کرنے والا بھی دنیا سے رخصت ہوتے وقت خالی ہاتھ جارہا ہے ایک شاعر نے اس واقعے کو ایک مصرعہ میں بہت خوبصورتی سے یوں واضح کیا ہے کہ”سکندر جب گیا دنیا سے دونوں ہاتھ خالی تھے”تاہم یہ اقتدار اتنی ظالم چیز ہے کہ جب کسی کو مل جاتا ہے اور اوپر سے وہ نرگسیت کا شکار ہوتو پھر وہ خود کو ناگزیر سمجھنے لگتا ہے،حالانکہ اسے احساس نہیں ہوتا کہ تکبر اور غرور بالآخر خاک میں مل جاتے ہیں،صرف یادیں رہ جاتی ہیں اچھی یا بری تلخ یا شیریں اور فیصلہ بھی وقت ہی کرتا ہے کہ جو اپنی ہی ذات کے عشق میں مبتلا ہو کر بلند بانگ دعوے کرتا ہے براوقت پڑنے پر اس کے پائوں کے نیچے سے زمین سرک کر اسے اس کی اوقات یاد دلادیتا ہے پھر وہ حالات کے دلدل میں اپنے پائوں ہی تلاش کرتا رہ جاتا ہے یعنی
یہ کیا کہ سورج پہ گھر بنانا اور اس پہ چھائو تلاش کرنا
کھڑے بھی ہونا تو دلدلوں پر پھر اپنے پائوں تلاش کرنا
پاکستان کی سیاسی تاریخ ایسے ہی ”نا گزیر و ں ‘ ‘ سے بھری پڑی ہے جو اپنے دور میں فرعون بن کر عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکتے تھے مگر آج ان میں سے اکثر منوں مٹی تلے دفن ہیں اور کچھ عبرت کا نشان بن کر زندہ ہیں،جبکہ اقتدار کی کرسی بظاہر تو پھولوں کا سنگھاسن دکھائی دیتی ہے مگر حقیقت میں یہ کانٹوں کی سیج ہے۔ حالانکہ نرگسیت کے شکار لوگوں کو اندر ہی اندر چبھنے والے کانٹوں کا احساس نہیں ہونے پاتا،تاوقتیکہ عروج اپنی انتہائوں کو چھو کر زوال کے پاتال کی طرف سفر شروع نہیں کردیتا،تب ایسے لوگوں کو احساس ہونے لگتا ہے کہ اب وقت ریت کی مانند ان کی مٹھی سے سرک رہا ہے،
یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں
اقتدار کا سارا کھیل دھوپ چھائوں کا کھیل ہے،ہر کمالے راز والے کے مصداق یہ ایک ایسا ڈرامہ ہے جس میں کلائمکس کا اینٹی کلائمکس ناگزیر اور لازمی ہے،ہر کردار اقتدار کے سٹیج پر ضرورت کے مطابق اپنا کرتب دکھا کر بالآخر سٹیج کی دوسری جانب سے آئوٹ ہو جاتا ہے ،اس کھیل میں کوئی مستقل کردار نہیں ہوتا،ضرورت کے مطابق ہر کردار اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا،اپنے اپنے ذمے تحریر کردہ ڈائیلاگ ادا کرنے بالآخر ایگزٹ ہو جانا ہے کہ ہر صورت کہانی کے مطابق نئے کرداروں نے آکر پرانے کرداروں کی جگہ سنبھالنی ہے،تو پھرغیر مستقل کردار کے زعم میں مبتلا کس برتے پر رہا جائے،کیونکہ یہ فیصلہ تو سکرپٹ رائٹراور ڈائریکٹر(ہدایت کار) نے کرنا ہے کہ حضور آپ کی ضرورت کب تک ہے اور کب آپ نے سٹیج خالی کرنا ہے۔تکبر اورغرور کے جذبوں سے مغلوب ہو کرخود کو ناگزیر قرار دینے سے پرہیز کیجئے،ایسا نہ ہو کہ جو لیس سیزر کی طرح آپ بھی پیٹھ کی طرف سے لگنے والے وار سہتے ہوئے کہیں یہ کہنے پر مجبور نہ ہو جائیں کہ”یوٹوبروٹس؟”اور جب آپ کو ہوش آئے تو میر تقی میر کی طرح یہ کہتے ہوئے نظرآئیں کہ پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں کیونکہ یہ دنیا بڑی ظالم ہے اور بقول شخصے سیاست کے پہلو میں دل نہیں ہوتا،کل کسی اور کو یہ کہہ کر ہلاشیری دی جارہی تھی کہ آگے بڑھو۔۔۔ہم تمہارے ساتھ ہیں،مگر جب وہ آگے بڑھا تو پیچھے دور دور تک بندہ نہ بندے دی ذات،ویسے بھی آپ کی ہٹی پر”گاہکوں”کی وہ صورت نہیں ہے یعنی بقول توقیر عباس
ترے سرکس پہ پہلے رش بہت تھا
مگر اب شہر اکتایا ہوا ہے!
کہانی اب پھر اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے،بالکل پہلے والے کہانیوں کی طرح جن کے کردار میر تقی میر کے اس شعر کی تفسیر بنے عبرت کی نشاندہی کر رہے ہیں مگر کوئی سمجھے تو کہ
یوں پکارے ہے مجھے کوچہ جاناں والے
ادھر آاو،ابے اوچاک گریباں والے