خیبر پختونخوا میں کورونا کیسز میں کمی ، شرح اموات کا تناسب 5.2 فیصد سے کم ہو کر 3.6- مشیر اطلاعات اجمل وزیر

پشاور: مشیر اطلاعات اجمل خان وزیر نے باچا خان انٹرنیشنل ایئر پورٹ کا دورہ کیا،ایئر پورٹ حکام سے فلائٹ آپریشن اور کورونا سے متعلق اقدامات پر بریفنگ لی۔

اجمل وزیر نے پریس بریفنگ میں کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے انکی واپسی کے لیے فلائٹ آپریشن کا سلسلہ شروع کیا، اپریل سے لے کر اب تک162 مختلف پروازوں کے زریعے 24ہزار785 مسافر باچا خان انٹربیشنل ائرپورٹ سے پاکستان آئے ہیں، اپریل میں 948 مسافر,مئی میں 4ہزار 235, جون میں 15ہزار 367 اور اب تک جولائی میں 4ہزار 235مسافر باچا خان ائرپورٹ کے راستے وطن لوٹے ہیں،2ہزار596مسافر براستہ باچا خان انٹرنیشنل ائرپورٹ مختلف پروازوں سے بیرون ملک گئے ہیں.

اجمل وزیر نے کہا کہ بیرون ملک انتقال کرجانےوالے 64 پاکستانیوں کے جسد خاکی واپس لائے گئے ہیں جنھیں بعد ازاں اپنے اپنے علاقوں کو بھیجا گیا ۔آج مزید 14 میتیں لائی گئی ہیں،ائرپورٹ پر مسافروں کو چیک کرنے کے لیے بھرپور انتظامات کیے گئے ہیں،13 ڈاکٹرز سمیت 32 افراد پر مشتمل طبی عملہ ائرپورٹ پر تعینات ہے,جن میں وفاقی اور صوبائی دونوں جانب سے عملہ شامل ہے،ائرپورٹ پر آنے اور جانے والے تمام افراد کی اسکریننگ کی جاتی ہے، اپریل سے لے کر اب تک 48ہزار 190افراد کی اسکریننگ کی گئی ہے,ان میں عملہ اور مسافر دونوں شامل ہیں،ائیرپورٹ پر مسافروں کے لیے ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے، کورونا وبا کے باعث مسافروں کو لینے اور چھوڑنے کے لیے آنے والے افراد کے داخلے پر پابندی ہے، یہ تمام انتظامات عوام کی بہتری اور صحت کے تحفظ کے لیے کیے گئے ہیں.

ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں 200 ہسپتال کورونا کے لیے مختص ہیں،ان اسپتالوں میں 5 ہزار 4 سو چالیس بستر کورونا مریضوں کے لیے مختص ہیں،چارسدہ میں نو تعمیر شدہ ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال کو کورونا مریضوں کے لیے مختص کیا ہے جس میں 50 بستروں کی گنجائش ہے، نشتر آباد پشاور میں کورونا مریضوں کے لیے 58 بستروں پر مشتمل اسپتال مختص کیا ہے،جو جدید طبی سہولیات سے آراستہ دونوں ہسپتالوں کا جلد افتتاح کیا جائے گا۔

اجمل وزیر نے مزید کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے خیبر پختونخوا میں کورونا کیسز میں کمی آئی ہے، شرح اموات کا تناسب 5.2 فیصد سے کم ہو کر 3.6 ہو گیا ہے، یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ خیبر پختونخوا میں روزانہ کی بنیاد پر کیے جانے والے ٹیسٹس میں مثبت کیسز کی شرح 25 فیصد سے کم ہو کر 15 فیصد پر آ گئی ہے، ہمارے صوبے کے اسپتالوں میں کورونا کے لیے مختص 50 فیصد بستر زیر استعمال ہیں،اس وقت اسپتالوں میں 63 مریض وینٹی لیٹر پر ہیں، پشاور کے ہسپتالوں میں ٹوٹل وینٹی لیٹر 94 ہیں جن میں صرف 51 زیر استعمال ہیں،اب تک 1 لاکھ 54 ہزار 278 کورونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں.

ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں سمارٹ لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے. کیسز کا تناسب دیکھنے کے بعد علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا جاتا ہے،گزشتہ روز پشاور کے ایک اور علاقے میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے,اب تک صوبے کے 244علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ ہے،لاک ڈاؤن والے ان علاقوں میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد2ہزار754 ہے،ان علاقوں کی آبادی 8لاکھ 83ہزار 390 افراد پر مشتمل ہے جنھیں گھروں تک محدود کیا گیا ہے.

وزیر اعلیٰ محمود خان کی ہدایت پر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ان تمام اقدامات کو روزانہ کی بنیاد پر دیکھ رہے ہیں،
وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں بہترین حکمت عملی سے کورونا کو شکست دینگے,کورونا سے نمٹنے کے لیے تمام اداروں کا کردار قابل تحسین ہے اجمل وزیر کی پریس بریفنگ.