صوبہ بھر کی تمام جامعات میں قرآن پاک ترجمعہ کے ساتھ پڑھانے کے سلسلے میں پیش کردہ قرارداد صوبائی حکومت نے متفقہ طور پر منظور کر لی

پشاور: منگل کے روز صوبائی اسمبلی اجلاس میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر عنایت اللہ خان ،حاجی سراج الدین خان اور خآتون ممبر حمیرا خاتون کی جانب سے جمع کرائے گئے قرارداد کی صوبائی حکومت نے کوئی مخالفت نہیں کی اور صوبائی وزیر قانون نے بھی اس کی تائید کرتے ھوئے قرارداد کو مشترکہ قرارداد کے طور پر حمایت کی جس کے بعد جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر عنایت اللہ خان نے ایوان میں مشترکہ قرارداد پیش کرتے ھوئے موقف اپنایا کہ دستور پاکستان میں واضح طور پر درج ہے کہ ملک کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہوگا اور قرآن وسنت کو یہاں پر سپریم لاء کا درجہ حاصل ہوگا لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں (جامعات) میں قرآن فہمی کابھر پور اہتمام ہو اوراس مقصد کے لئے صوبہ بھر کی تمام جامعات میں قرآن کو قومی زبان اردو میں پڑھانے کا اہتمام لازمی کیا جائے تاکہ قرآنی تعلیمات سے بہتر انداز میں استفادہ کیا جاسکے۔وزیر قانون سلطان محمد خان نے قرارداد کی حمایت کرتے ھوئے کہا کہ قرآنی تعلیمات کو عام کرنا ہماری آئین کے عین مطابق ھے اور جامعات میں قرآن کو ترجمعہ کے ساتھ پڑھانے کے نتیجے میں طلبہ زیادہ بہتر طور پر قرآنی تعلیمات سے روشناس ھوں گے انہوں نے کہا کہ حکومت اس قرارداد کی مکمل حمایت کرتی ھے جس پر سپیکر صوبائی اسمبلی نے صوبہ بھر کی جامعات میں قرآن پاک ترجمعہ کے ساتھ پڑھانے کے حوالے سےمشترکہ قرارداد کی ایوان سے منظوری لی۔