مندر کی تعمیر کا معاملہ۔۔ ایک جائزہ

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے دو سوالات کے جواب جاننا ضروری ہیں۔ اول’ کیا پاکستان دنیا کی دیگر قومی ریاستوں کی طرح کی قومی ریاست ہے یا یہ اپنا وجود’ اپنی ہیئت’ اپنے اجزائے ترکیبی اور اپنے آئین کے لحاظ سے دیگر قومی ریاستوں سے مختلف قسم کی ریاست ہے؟ دوم’ اگر پاکستان اسلام کے نام پر بننے والی ایک نظریاتی ریاست ہے تو کیا ایسی ریاست کے دارالحکومت میں مندر کی تعمیر کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ کالم کی تنگ دامنی کے پیش نظر مختصراً دو تین نکات پر بات کروں گا۔ ایک قومی ریاست کا وجود آج جن عناصر کا مرہون منت ہے اس میں جغرافیہ بنیادی اہمیت کا حامل بن چکا ہے یعنی ایک مخصوص جغرافئے میں رہنے والے ایک قوم کہلاتے ہیں، خواہ ان کی زبان’ ان کی نسل اور ان کا مذہب ایک دوسرے سے مختلف ہو۔ کبھی نسل کی بنیاد پر قومیں تشکیل پاتی تھیں لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ ناروے اور ڈنمارک میں رہنے والے ایک نسل سے تعلق رکھتے ہیں مگر ان کی شناخت دو مختلف قومیتیں ہیں۔ کبھی ایک زبان بولنے والے ایک قوم کہلاتے تھے مگر آج سوئٹزرلینڈ میں بسنے والے ایک قوم کہلاتے ہیں قطع نظر کہ وہ چار زبانیں بولتے ہیں۔ الغرض آج قومی ریاست کا وجود مخصوص جغرافیائی حدبندی کا مرہون منت ہے اور اس جغرافئے میں رہنے والے تمام لوگ ایک قوم کہلاتے ہیں۔ پاکستان کا معاملہ جغرافیائی اعتبار سے تو بالکل ان قومی ریاستوں کا ہے اور اسی کو بنیاد بنا کر پاکستان میں بسنے والی غیرمسلم اقلیتوں کو پاکستانی قوم کا فرد تسلیم کیا گیا ہے لیکن پاکستان دیگر قومی ریاستوں سے اس اعتبار سے مختلف ہے کہ اس کا وجود ایک نظریہ کی بنیاد پر ہے جو جغرافیائی قومیت کو رد کرتے ہوئے اس کے قیام کی وجہ بنا۔ متحدہ ہندوستانی قوم درحقیقت جغرافیائی قومیت کو تسلیم کرنا تھا لیکن حضرت قائداعظم کی قیادت میں مسلمانانِ برصغیر نے جغرافیائی قومیت کو مسترد کرتے ہوئے اسلام کے نام پر مسلمانوں کیلئے ایک الگ ملک کے قیام کیلئے جدوجہد کی اور 1947ء میں دوقومی نظرئیے کی بنیاد پر تقسیم ہندوستان ہوئی اور پاکستان معرض وجود میں آگیا۔ پاکستان کے وجود کو اگر عصرحاضر کی قومی ریاست کے تناظر میں سمجھنا ہو تو اس کو علامہ اقبال کے پیش کردہ ”مسلم قومیت” کے تصور کے حوالے سے سمجھنا چاہئے’ اس سے بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔ دیگر قومی ریاستوں کے برعکس پاکستان کی ریاست نے افراد کی حاکمیت اعلیٰ کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کو تسلیم کیا ہے چنانچہ قرارداد پاکستان جو آج پاکستان کے آئین کا حصہ ہے میں اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ ”اقتداراعلیٰ کا مالک اللہ تعالیٰ ہے” جب 1949ء میں قرارداد مقاصد آئین ساز اسمبلی میں پیش ہوئی تو اس وقت اسمبلی میں موجود ہندو اراکین نے اس شق پر اعتراض کیا اور مطالبہ کیا کہ اس کو قرارداد مقاصد سے نکالا جائے لیکن اس مطالبے کو آئین ساز اسمبلی کی اکثریت نے مسترد کر دیا۔ جب اسمبلی نے قرارداد مقاصد کو منظور کر لیا تو جماعت اسلامی کے سربراہ سید ابواعلیٰ مودودی نے برملا کہا کہ آج ریاست پاکستان مسلمان ہو گئی ہے۔ پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہے، آئین کے آرٹیکل2 میں بیان کیا گیا ہے کہ اسلام پاکستانی ریاست کا مذہب ہوگا۔ آئین کے آرٹیکل2A کے تحت قرارداد مقاصد کو باضابطہ آئین کا حصہ بنایا گیا۔ ایک قومی ریاست کے اجزائے ترکیبی میں سے ایک یہ ہے کہ پارلیمان کے بنائے ہوئے قوانین سپریم ہوتے ہیں’ اس کے برعکس ریاست پاکستان کے آئین میں طے کر دیا گیا کہ قرآن وسنت سپریم ہیں اور یہ کہ قرآن وسنت سے متصادم کوئی قانون ریاست پاکستان میں نافذ نہیں ہوگا۔ آئین کا آرٹیکل227 اس ضمن میں واضح ہدایت دیتا ہے۔ کسی سیکولر قومی ریاست میں صدر اور وزیراعظم کا کسی خاص مذہب سے تعلق مشروط نہیں ہوتا لیکن پاکستان کی ریاست نے طے کر دیا ہے کہ اس کا صدر اور وزیراعظم بننے کیلئے مسلمان ہونے کی شرط ضروری ہے، پاکستان کی ریاست دیگر قومی ریاستوں کی طرح کی قومی ریاست نہیں ہے۔ پاکستان دنیا کے نقشے پر جب 1947ء کو معرض وجود میں آیا تو ریاست مدینہ کے بعد دنیا کی پہلی اسلامی نظریاتی ریاست تھی۔ اس کی وجہ وہ نظریہ تھا جو بانیان پاکستان نے مسلمانوں کیلئے الگ وطن کے قیام کے جواز میں پیش کیا اور جس پر لبیک کہتے ہوئے مسلمانِ برصغیر یہ نعرہ لگاتے ہوئے آل انڈیا مسلم لیگ کے جھنڈے تلے جمع ہوگئے ”پاکستان کا مطلب کیا۔۔لاالہ الااللہ” اسلام پاکستانی ریاست کے قیام کی اساس ہے ۔ یہی نظریہ پاکستان ہے’ قیام پاکستان کے بعد ریاست نے اس نظرئیے کو تسلیم کیا اور اس کی بنیاد پر ریاستی بندوست تشکیل پایا۔ اسلامی نظریاتی ریاست ہونے کی وجہ سے ہم پاکستان کی سرزمین کے چپے چپے کو مکہ اور مدینہ کی سرزمین کے بعد مقدس ترین سمجھتے ہیں۔ اس ریاستی خاصیت کی بنا پر جو سوال ذہن میں گردش کر رہا ہے وہ غیرمسلم اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے ہے چونکہ ہمارے آج کے موضوع کا اس سے گہرا تعلق ہے۔ اسلامی نظریاتی ریاست کے تناظر میں ہمارا دوسرا سوال یہ تھا کہ کیا ایسی ریاست کے دارالحکومت میں مندر کی تعمیر کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ ان شاء اللہ اگلے کالم میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔