صوبہ خیبرپختونخواہ سے متعلقہ ایشوز: وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلی سطحی اجلاس، اہم فیصلے

ویب ڈیسک (اسلام آباد):وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت صوبہ خیبرپختونخواہ سے متعلقہ ایشوز خصوصاً توانائی کے شعبے سے متعلقہ معاملات اور انضمام شدہ علاقوں میں ترقیاتی عمل کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ اجلاس

اجلاس میں وفاقی وزارء اسد عمر، عمر ایوب خان، گورنر خیبرپختونخواہ شاہ فرمان، وزیرِ اعلیٰ کے پی محمود خان اورمتعلقہ محکموں کے وفاقی اور صوبائی حکام شریک

اجلاس میں انضمام شدہ علاقوں میں ترقیاتی کاموں کی رفتار، مالی سال برائے 2019-20 کےاخراجات اور رواں مالی سال کے لئے مختص شدہ بجٹ کے حوالے سے بات چیت

توانائی کے شعبے میں وہیلنگ رجیم کے نفاذ، توانائی کے شعبے میں متعلقہ اداروں کے بورڈزمیں صوبائی نمائندگی، نیٹ ہائیڈل پرافٹس کی ادائیگیوں، پاور جنریشن پالیسی 2015 میں مجوزہ ترمیم اور چشمہ رائٹ بنک کنال منصوبے کو عملی جامہ پہنانے سے متعلق معاملات پر غور

وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انضمام شدہ علاقوں کی تعمیر و ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ انضمام شدہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کے قیام کے لئے مختص شدہ فنڈ کے بروقت اجرا کو یقینی بنایا جائے گا۔

وہیلنگ رجیم کے نفاذ اور صنعتی شعبے کو اس نظام کے تحت پہنچنے والے فوائد کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے نیپرا کو ہدایت کی کہ وہیلنگ رجیم کے نفاذ میں حائل تمام ایشوز کو اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے جلد سے جلد حل کیا جائے تاکہ اس نظام سے استفادہ کیا جا سکے۔

وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ توانائی کے شعبے سے متعلقہ اداروں کے بورڈ آف دائریکٹرز میں صوبائی نمائندگی کویقینی بنایا جائے۔

نیٹ ہائیڈل پرافٹس کی ادائیگیوں کے معاملے میں وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ وزارتِ توانائی، وزارتِ خزانہ ، ایف بی آر صوبائی حکومت اس حوالے سے طریقہ کار طے کریں۔

پاور جنریشن پالیسی 2015میں مجوزہ ترمیم کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اس معاملے پر کابینہ کمیٹی برائے توانائی میں غور کیا جائے۔

چشمہ رائٹ بنک کنال منصوبے کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ صوبے کی سماجی و معاشی خصوصا زرعی شعبے کی ترقی کے اس اہم منصوبے کی فزیبیلٹی کو چھ ماہ میں مکمل کیا جائے تاکہ منصوبے پر پیش رفت کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔