ایک نئی چنگاری

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک سال کی گومگوں والی کیفیت اور انتظار لاحاصل کے بعد آخرکار رائے عامہ کی مقبول لہر پر سوار ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس لہر پر سوار ہی رہتے ہیں یا لہرکی زد میں آکر کہیں دور دراز ساحل کی طرف نکل جاتے ہیں۔ ہر دو امکانات کو بہرطور رد نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستانی عوام کا مزاج کلیم عاجز کے اس شعر کے مصداق ہے
سامانِ زندگی فقیرانہ ہے تو ہو
تیور ہر ایک حال میں شاہانہ چاہئے
اس مزاج کے زیراثر ان کا خیال ہے کہ خزانہ خالی اور آئی ایم ایف جیسا قرض خواہ دہلیز پر کھڑا ہو، ایف اے ٹی ایف کا داروغہ نامہ عمل ہاتھ میں لئے تاڑ رہا ہو، امریکہ سے سعودی عرب تک سب اوپر والے ہاتھوں کو برابری پر لائیں نہیں تو جھٹک دیں۔ عین اسی مزاج کے مطابق اس وقت رائے عامہ کی مقبول لہر یہ ہے کہ پاکستان کو اپنی آئی ایم ایف کی بیڑیاں اور ایف اے ٹی ایف کی ہتھکڑیاں جھٹک کر بھارت کو کشمیر پر پانچ اگست کے فیصلے کا عملی جواب دینا چاہئے اور جارج بش ثانی کے انداز میں ”تم ہمارے ساتھ ہو یا نہیں” کا ایک اوبجکٹیوٹائپ سوال پوچھ کر ایک لیکر کھینچ لینی چاہئے۔ مجبوریوں کا بوجھ اُٹھانے والا ملک جسے بیتے ماہ وسال میں معاشی بحرانوں کا شکار بنایا ہی اس لئے گیا تھا کہ یہ بڑے فیصلوں کی صلاحیت سے محروم ہو کر رہ جائے۔ ہو نہ ہو وہ بڑے فیصلوں کا یہی دور تھا جس سے آج پاکستان گزر رہا ہے۔ اس نے دنیا میں کہاں او ر تاریخ کی کس سمت میں کھڑا ہونا ہے آج کا پاکستان تاریخ میں اپنے مقام کا تعین کررہا ہے۔ ایسے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک پرائیویٹ چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ او آئی سی چھپن چھپائی کھیلنے کی بجائے وزرائے خارجہ کا اجلاس بلائے، اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان سعودی عرب کے بغیر کشمیر پر حمایت کرنے والے ملکوں کا اجلاس بلانے کی طرف جائے گا خواہ یہ اجلاس او آئی سی کے پلیٹ فارم پر ہو یا اس سے باہر۔ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کو گزشتہ برس دسمبر میں وزیراعظم عمران خان کے ملائیشیا کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کو بھی یاد دلایا اور کہا کہ پاکستان نے یہ فیصلہ سعودی عرب کے اعتراض کے باعث مگر بوجھل دل سے کیا تھا۔ شاہ محمود قریشی نے اسے اپنی اوقات سے بڑی بات کہی تو کچھ غلط نہیں کہا۔ پاکستان میں بڑے فیصلوں کی منظوری کہیں اور سے ہونا ایک ناقابل تردید حقیقت رہی ہے۔ یہاں بڑے فیصلوں کو بڑے اور نادیدہ دباؤ پر بدلتے بھی دیکھا گیا ہے۔ اس سیاسی تاریخ کے تناظر میں اتنی بڑی بات کہنے والے شاہ محمود قریشی بدستور نظر آتے ہیں تو واقعی بڑی بات ہوگی۔ شاہ محمود قریشی کی بات حقیقت میں ریاست اور عوام کی مایوسی اور اس مایوسی میں ایک نئے امکان اور راستے کی تلاش کی خواہش ہے۔ پانچ اگست کے بعد پورا ایک سال پاکستان نے اسلامی تعان تنظیم کا در کھلنے کا انتظار کیا تاکہ زنجیرعدل ہلائی جائے اور اس دربار سے مظلوموں کی حمایت میں کوئی نعرہ مستانہ سنائی دے۔ ایک سال تک اس خواہش کا انجام ناکامی اور مایوسی کے سوا کچھ اور نہ ہوا۔ یہی نہیں سعودی عرب کے زیراثر ملک نے پانچ اگست کے فیصلے کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیا۔ اس فیصلے سے پہلے مودی کو عرب ملکوں نے اعزازات اور تمغوں سے لاد دیا۔ یہ اعزازات اور تمغے مسلمانوں کے کس عظیم کاز کی خدمت کے عوض دئیے گئے شاید مودی بھی دل ہی دل میں اس پر ہنستا رہا ہوگا۔ اس وقت بھی مودی کے نامہ عمل میں کشمیر سے گجرات تک کی لہو رنگ داستانیں ہی نمایاں تھیں مگر عرب بھائی اس کے باوجود مودی پر تمغوں کی برسات جار ی رکھے ہوئے تھے۔ یہ حقیقت میں پاکستان کو چڑانے اور کچھ آزادانہ فیصلوں کی سزا دینے کی کوشش تھی۔ حد تو یہ کہ سعودی عرب کی طرف سے اس معاملے میں اسی انداز کا ”صبر وشکر” کی تلقین کی جاتی رہی جس کا مظاہرہ عرب بھائی مدت دراز سے فلسطین کے معاملے میں کرتے چلے آرہے ہیں اور اس صبر وشکر کے نتیجے میں مسئلہ فلسطین کا ایک خوبصورت اور قابل قبول حل ازخود وقت گزرنے کیساتھ ساتھ نکل رہا ہے وہ حل یہ ہے کہ فلسطین جو مسئلہ فلسطین پیدا ہوتے وقت ایک دائرہ تھا اب بہتر برس بعد سکڑتے سکڑتے ایک نقطہ رہ گیا ہے اور صبر وشکر کا یہی اعلیٰ معیار قائم رہا تو یہ نقطہ دیکھنے کیلئے محدب عدسے کی ضرورت پیش آئے گی، پھر کسی روز یہ تحلیل ہوجائیگا۔ تعاون بھی کبھی محدب عدسے سے بھی دیکھنے اور ڈھونڈے سے نہیں ملا ،لے دیکر تنظیم باقی رہ گئی تھی شاہ محمود قریشی نے اس کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔حقیقت میں او آئی سی اپنے نام کی طرح اپنے وجود اور اس کے جواز کی طبی عمر پوری کر چکی ہے۔ فلسطین ترکی’ایران’ملائیشیا’ قطر اور پاکستان کا مسئلہ ہے جو ایک اصول پر کھڑے ہونے کی تمنا دلوں میں پالے ہوئے ہیں۔ا س قطار سے باہر والوں کا مسئلہ اسرائیل ہے۔ فلسطین پر ایک اصول کو قربان کرکے کشمیر پر ہم اسی اصول پر کیونکر کھڑے رہ سکتے ہیں؟ یہ عربوں سے نہیں اپنے آپ سے انتقام ہوگا ۔ او آئی سی نے اب راکھ ہوجانا ہے اور اس خاکستر سے ایک نئی چنگاری کا نمودار ہونا نوشتۂ دیوار ہے۔