بارے آموں کا کچھ بیاں ہوجائے

کچھ لوگ آم کھانے سے غرض رکھتے ہیں اور کچھ پیڑ بھی گننے لگتے ہیں۔ دوسری قسم کے لوگوں کی نسبت پہلی قسم کے لوگ فائدے میں رہتے ہیں۔ اسداللہ خان غالب کا تعلق آم کھانے والوں کی پہلی قسم سے تھا۔ ”آم میٹھے ہوں اور بہت ہوں” ان کا یہ جملہ ان کے جی بھر کر آم کھانے کے شوق کی دلیل پیش کرتا ہے لیکن ہم ٹھہرے آم کے پیڑ گننے والے، سو آج ہم آپ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اگست کے ختم ہوتے ہوتے ہی آم مارکیٹ میں اس مقدار میں نہیں رہیں گے جس مقدار میں آج کل موجود ہیں۔ آم کو پھلوں کا سردار یا ان کا بادشاہ کہا جاتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ ہر آم میں یہ خاصیت پائی جائے۔ وہ آم جو کولڈ سٹور میں رکھے جاتے ہیں تاکہ سیزن آنے پر ان کو بیچ کھایا جائے وہ ویسی مٹھاس نہیں رکھتے جو اچھی خاصی دھوپ لگنے کے بعد پک کر تیار ہوکر مارکیٹوں میںآنے والے آموں کی ہوتی ہے۔
صاحب شاخ وبرگ وبار ہے آم
ناز پروردہ بہار ہے آم
ایک حوالہ کے مطابق پاکستانی آموں کی دو سو اقسام ہیں جن میں لنگڑا، مالوہ، سندھڑی، دوسہری، نیلم، انور رٹول، پھلی، انفانسو، گلاب خاصہ، سرولی، دیسی اور چونسا بہت مشہور ہیں۔ یوں تو پاکستانی آموں کی فصل ملک کے ہر صوبہ میں پکتی ہے لیکن ہمارے ہاں ملتان بہاولپور اور قرب وجوار سے جو آم دستیاب ہوتے ہیں وہ ذائقہ اور خوشبو میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، آم کے آم اور گھٹلیوں کے دام کہنے اور سننے کو ایک محاورہ، ضرب المثل یا کہاوت ہے لیکن ہمارے طبیب آم کی گٹھلیوں کو بے کار جانے نہیں دیتے اور وہ ان سے چورن اور انسانی صحت کیلئے نہایت مفید دوائیاں بنا کر اس ضرب المثل کی سچائی پر مہرتصدیق ثبت کردیتے ہیں۔ آم ساون رت یا موسم برسات کا بے بہا تحفہ ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو اسداللہ خان غالب آم کھاتے وقت کبھی بھی جھوم جھوم کر نہ کہہ اُٹھتے کہ
خوشی تو ہے آنے کی برسات کے
پئیں بادہ ناب اور آم کھائیں
راقم السطور کو ملائیشیا کے شہر کونٹان میں ایک ضیافت کے دوران ایسا آم بھی کھانے کو ملا جس میں گٹھلی نام کی کوئی شے نہیں تھی، آپ یقین کریں کہ اس آم کو فروٹ کیک کی طرح کاٹ کر پلیٹوں میں سجا کر رکھا گیا تھا، ہمارے ہاں بھی مینگو پارٹیاں سجانے کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں آم کھانے کے شوقین ذوق وشوق سے شریک ہوتے ہیں۔ ایسی ہی ایک مینگو پارٹی میں شرکت کا دعوت نامہ عین ان دنوں موصول ہوا جب کرونا اپنی ستم کاریاں دکھانے میں کسی کو خاطر میں نہیں لارہا تھا، راقم السطور نے ایس او پیز کا خیال رکھتے ہوئے ایسی پارٹی میں شرکت سے معذرت کرلی، البتہ مینگو پارٹی کے محرک کے دعوت نامہ کے جواب میں اسے کہنا پڑا کہ ”امر کہتے ہیں حکم کو اور آمر کہتے ہیں حکم دینے والے کو، مگر یہ عجیب اتفاق ہے کہ سنسکرت میں آمر پھلوں کے بادشاہ یا ان کے حاکم آم کو بھی کہا جاتا ہے، ہمارے دوست نے آج جو آم پارٹی یا عام پارٹی سجانے کا اہتمام کیا ہے اس میں ان کی آمریت کی جھلک بدرجہ اتم دکھائی دے رہی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں نہ کسی کی صلاح لینا پسند کرتے ہیں اور نہ کسی کے مشورے پر عمل کرنا ضروری جانتے ہیں۔ آمریت جمہوریت کی ضد ہے، جس میں ڈکٹیشن دینے والے کی ڈکٹیٹرشپ چلتی ہے اور چلتی کا نام گاڑی ہی رہ جاتا ہے۔ یہ شاہد ولی خٹک جسے راقم السطور شین شاہد، واؤ ولی اور خے خٹک کی مناسبت سے ”شوخ” کہہ کر بھی پکارتا رہتا ہے کبھی رنجور نہیں رہتا۔ بڑی جنگجو اور بہادر واقع ہوئے ہیں یہ خوشحال خان خٹک کے جانشین فتح وکامرانی کا جشن منانے کا عالمی شہرت یافتہ خٹک ڈانس ہی نہیں پرویزخٹک ڈانس بھی ان کی شوخی اور خوشی کی کیفیت کی عالمی افق پر پہچان کرا چکا ہے۔بات آم کی ہورہی تھی تو آم کو آمر ہی نہیں ‘انب’ بھی کہتے ہیں۔ کرونا سے لڑنے کی خاطر جسم میں قوت مدافعت پیدا کرنے کیلئے وٹامن سی کے اس خزانہ کو اپنے وجود کا حصہ بنانا بہت ضروری ہے لیکن ‘انب’ کو ‘انبوہ’ بناکر دعوتیں اُڑانا خوش وخرم کی شوخ وشنگ طبیعت ہی کا خاصا ہے جو مجھ عاجز کو بڑا ہی پرخطر لگتا ہے کہ اس میں کرونا کے پھیلنے کے اندیشے تاک لگائے بیٹھے نظر آتے ہیں۔ اللہ آپ سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے، میری یہ دعا مجھے اس وقت مستجاب ہوتی نظر آئی جب شوخ وشنگ اور خوش وخرم 14اگست بیس بیس کی رات کے بارہ بجے کے استقبال کے علاوہ کرونا سے نجات کی خوشی میں آتش بازی کا مظاہرہ کرنے کے علاوہ جشن آزادی کی رنگا رنگ تقریب اور پرچم بردار جلوس نکالنے کی تیاریاں کرتے نظر آئے، جسے دیکھ کر ہم کہتے رہ گئے کہ
یارب مرے وطن کا پرچم بلند رکھنا
اپنے کرم کا یوں ہی احسان مند رکھنا