غالب ترا احوال سنا دیں گے ہم ان کو

بات فقیروں کی تو نہیں ہے مگر صورتحال کو واضح کرنے کیلئے اس ضرب المثل یا کہاوت کا سہارا لینا اتنا غلط بھی نہیں جس میں دو فقیروں کے مابین ”تعلقات” کی نوعیت کی وضاحت ان الفاظ میں کی گئی ہے کہ ایک فقیر دوسرے کو برداشت نہیں کرسکتا اور جہاں دولت کی ریل پیل موجود ہو وہاں فقر کا کیا کام مگر عدم برداشت تو بہرحال واضح ہے یعنی یہ جو آج کل پاکستان میں چلنے والے ترکی کے ایک ڈرامے ارطغرل کی ہیروئن حلیمہ سلطان (اسرابلجیک) کو بعض اشتہاری کمپنیوں نے کچھ پروڈکٹس کیلئے برانڈ ایمبیسیڈر کے طور پر ماڈلنگ کیلئے انگیج کیا ہے تو اس پر بعض پاکستانی ماڈلز اور اداکاراؤں نے اعتراض اُٹھانا شروع کر دئیے ہیں۔ ایک خاتون ماڈل واداکارہ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ اسرابلجیک کو بطور ماڈل ایک موبائل فون کمپنی نے برینڈ ایمبیسیڈر بنا کر ہمارے منہ پر طمانچہ مار دیا ہے۔ اس منہ پر طمانچہ کے الفاظ سے اگرچہ ایک اور ضرب المثل کی بھی یاد دلا دی ہے یعنی جیسا منہ ویسی چپیڑ تاہم اسے فی الحال ایک طرف رکھتے ہوئے اصل معاملے کو دیکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ پاکستان شوبز سے تعلق رکھنے والے بعض مرد وخواتین ماضی میں ہمسایہ ملک کی فلم انڈسٹری میں کام کرنے کی غرض سے بلوائے بھی جاتے رہے ہیں اور وہاں جاکر بعض نے تو پاکستان کا نام واقعی روشن بھی کیا جبکہ بعض نے اپنی ”نامناسب حرکتوں” سے پاکستان کیلئے بدنامی اور سبکی کا سامان ہی کیا۔ خواتین فنکاراؤں میں اکثر ایسی بھی ہیں جن کو وہاں سے کوئی پیغام نہیں آیا تو وہ اپنے بیانات میں یا تو ہمسایہ ملک جاکر کام کرنے کو ”توہین” قرار دیتی رہی ہیں یا پھر ان کی جانب سے دعوے کئے جاتے رہے کہ انہیں مشہور فلمسازوں نے اپنی فلموں میں آفرز دی ہیں مگر وہ اپنے ہی ملک کو ترجیح دیتی ہیں وغیرہ وغیرہ’ اب ہمسایہ ملکوں کے فلمسازوں کے پاس اتنا وقت کہاں ہے کہ وہ اس قسم کے دعوؤں کی تردید کرتے پھریں’ زیادہ سے زیادہ وہ ان بیچاروں کے بیانات پر ہنس ہی سکتے ہیں یعنی بقول ابن انشائ’ ہم ہنس دئیے’ ہم چپ رہے’ منظور تھا پردہ تیرا’ بہرحال اب جس خاتون اداکارہ اور ماڈل نے ترکی کی اداکارہ اسرابلجیک کو پاکستانی اشتہار میں شامل کئے جانے کو ”اپنے منہ” پر طمانچہ قرار دیا ہے اگرچہ ایک وقت ایسا ضرور آیا تھا جب موصوفہ ہر تیسرے چوتھے اشتہار کی زینت ہوا کرتی تھی مگر اب ان کا وقت اگر نہیں رہا تو ان کیلئے بہتر ہے کہ وہ حالات سے سمجھوتہ کریں کیونکہ ”دکانداری” کے حوالے سے ایک اصول بہت ہی مشہور ہے کہ ”خوبصورتی سے سجائی گئی اشیاء زیادہ بکتی ہیں” اور آپ دیکھ لیجئے کہ بڑے بڑے سٹورز میں شوکیسوں میں اشیائے صرف قرینے سے سجائی جائیں تو گاہک کی نظریں فوراً ان پر پڑتی ہیں۔ یہی حال مصنوعات کی تشہیر میں ماڈلز کی ضرورت کا ہے جن کا وقت گزر جاتا ہے بھلا ان کو پھر کون پوچھتا ہے اور نئی ماڈلز کی تلاش جاری رہتی ہے’ فلموں کی اداکاراؤں کا بھی یہی حال ہے وقت گزرنے کے بعد یا تو وہ پردہ سکرین کیساتھ ساتھ خبروں سے بھی آؤٹ ہو جاتی ہیں یا پھر وقت کیساتھ سمجھوتہ کرکے کیریکٹر رولز کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں’ کم کم ہی ایسی ہوتی ہیں جو خبروں میں ان رہنے کیلئے یا تو غلط انگریزی بولنے یا پھر اپنے بارے میں بلند بانگ (جھوٹے) دعوے کرنے پر مجبور ہوکر بالآخر ”گزر اوقات” کیلئے حکومت کی جانب سے پانچ ہزار روپے ماہوار وظیفہ قبول کرنے پر آمادہ ہو جاتی ہیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ اپنے دور کی ہر ہیروئن ”اسی دور” میں زندہ رہتی ہے جسے گزرے ہوئے کئی سال بیت چکے ہوتے ہیں اور جس کو منیرنیازی نے ایک پنجابی نظم میں خوبصورتی سے بیان کیا ہے’ اس نظم کو راقم نے اُردو کا جامہ پہنایا ہے’ ملاحظہ فرمائیے
اب جو ملے تو روک کے پوچھوں
دیکھا اپنا حال؟
کہاں گئی وہ رنگت تیری؟
سانپوں جیسی چال
باتیں کرتی بولتی آنکھیں
ہوا سے اُڑتے بال
کہاں گیا وہ ٹھاٹھیں مارتا
لہو کا اتنا زور؟
سانسوں جیسی گرم جوانی
لے گئے کونسے چور؟
اعتراض صرف ترکی کی ماڈل اور اداکارہ پر کیوں؟ ہمارے ہاں لاتعداد اشتہار ایسے چل رہے ہیں جن میں ہمسایہ ملک کے فنکار نظر آتے ہیں بلکہ خود بہت سے پاکستانی اشتہار کی پروڈکشن ہمسایہ بھارت میں ہوتی رہی ہے اس وقت یہ ”طمانچہ” محسوس نہیں ہوا؟ یا تو اصول بنا دیا جائے کہ پاکستان میں صرف وہی اشتہار چلیں گے جو میڈ ان پاکستان ہوں گے یا پھر کھسیانی بلیاں کھبا نوچنا بند کر دیں تو خود ان کے حق میں بھی بہتر ہوگا۔ ہاں خبروں میں رہنا ہے تو بطرز لگے رہو منا بھائی ”لگی رہئے بڑی بجیا” آپ کو اگر کوئی گھاس نہیں ڈالتا تو مرزا غالب بھی کیا کرسکتا ہے’ یعنی
غالب ترا احوال سنا دیں گے ہم ان کو
وہ سن کے بلا لیں یہ اجارا نہیں کرتے