مسائل بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں

بجلی کے مسائل کا رونا تو روز کی بات ہے، اب عوام کو ایک نئی خوشخبری یہ سننے کو ملی ہے کہ بجلی 1.82روپے فی یونٹ مہنگی ہوگئی ہے۔ اگست اور ستمبر میں اضافی بل آئیں گے نیپرا نے گزشتہ آٹھ ماہ کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتوں میں رد وبدل کیا اسی لئے پانچ ماہ کی قیمتوں میں اضافہ اور تین ماہ کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے۔ اب صارفین کو ایک روپیہ 82پیسے فی یونٹ اضافی ادائیگی کرنا ہوگی۔ کورونا نے ہماری معیشت پر جو کاری ضرب لگائی ہے اب اس کے آفٹرشاک سامنے آرہے ہیں، دوسری طرف سعودی عرب نے پاکستان کیلئے ادھار تیل کی سہولت ختم کردی ہے، اکتوبر2018 میں سعودی عرب نے تین سال کیلئے سالانہ تین ارب ڈالرز کا ادھار تیل دینے کا معاہدہ کیا تھا اس کے علاوہ سعودی حکومت نے پاکستان کو تین ارب ڈالرز بھی دئیے تھے جن میں سے ایک ارب ڈالرز اس نے واپس لے لئے ہیں، اس کی وجہ بھی کورونا بحران کو قرار دیا جا رہا ہے۔ یوں کہئے کہ کورونا تو تقریباً رخصت ہوچکا ہے لیکن اس کے اثرات شاید برسوں تک محسوس کئے جاتے رہیں گے۔ یہ اور اس قسم کے بیسیوں مسائل کا تعلق ہماری اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ہے دنیا میں جو پنپنے کی باتیں ہیں وہ ہم نے بھلا رکھی ہیں۔ دنیا میں ترقی کرنے کیلئے جس دیانت کی ضرورت ہے وہ ہم میں مفقود ہے، ہم اپنے مفادات کو وطن عزیز کے مفادات پر ترجیح دیتے ہیں، سیاستدانوں کے کردار پر تو روزانہ اُنگلیاں اُٹھتی ہیں لیکن عام آدمی کی یہ حالت ہے کہ جھوٹ دھڑلے سے بولا جارہا ہے، ریاکاری کا چلن عام ہے، چھوٹے چھوٹے دنیاوی مفادات کیلئے ہم اپنے بہن بھائیوں دوستوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے سے نہیں چوکتے، آخر کیوں؟ جس کا جہاں بس چلتا ہے ڈنڈی مارنے میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں کرتا۔ اپنے گریبان میں جھانکنے کی زحمت کوئی بھی گوارا نہیں کرتا، سب کی اُنگلیاں دوسروں کی طرف اُٹھتی ہیں، دکاندار سارا دن سیاستدانوں کی بدعنوانیوں کے قصے لیکر بیٹھے رہتے ہیں لیکن اگر آپ انہیں ایک مرتبہ بھی کہہ دیں کہ دکان کے آگے رکھی تجاوزات ہی ہٹا دو تو وہ مرنے مارنے پر تل جاتا ہے، اپنے حق میں اتنے اوٹ پٹانگ دلائل دیتا ہے کہ اس کی جاہلانہ سوچ پر افسوس ہونے لگتا ہے۔ لوگ دینداری کے بلند بانگ دعوے بھی کرتے ہیں نماز پنجگانہ کی پابندی بھی کی جاتی ہے لیکن ان کے کردار میں کوئی خاطرخواہ تبدیلی دیکھنے میں نہیں آتی۔ ذخیرہ اندوزی بھی کرتے ہیں، جھوٹ بھی بڑی فراخدلی کیساتھ بولا جاتا ہے، وعدے کی پابندی بھی نہیں کی جاتی، اپنے ذاتی مفادات کے حصول کیلئے ہر جائز وناجائز راستہ اختیار کیا جاتا ہے، ایسا کیوں ہوتا ہے ہم میں صاحب کردار لوگوں کی اتنی شدید کمی کیوں ہے؟ یہ سوال بہت سی محفلوں میں اُٹھایا جاتا ہے اور صاحبان فکر اس کا جواب مختلف حوالوں سے دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ کوئی ماحول کو موردالزام ٹھہراتا ہے، کسی کا یہ خیال ہوتا ہے کہ انسانی ضرورتیں انسان سے یہ سب کچھ کرواتی ہیں، کوئی کہتا ہے کہ ہماری نمازیں خشوع وخضوع سے خالی ہیں، اعمال میں اخلاص نہیں بلکہ ریاکاری اور دکھاوا ہے اسی لئے ہماری عبادتیں تاثیر سے خالی ہیں، کسی کا خیال ہے کہ دنیا کی حد سے بڑھی ہوئی محبت نے ہمیں کہیں کا نہیں رکھا، کسی کا کہنا ہے کہ ہم مال کی محبت میں گرفتار ہیں، لالچ اور ہوس زر نے ہمیں کہیں کا نہیں رکھا، ہر شخص اپنی فکر کے مطابق اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہے۔ اکثر جوابات جزوی طور پر درست بھی ہوتے ہیں لیکن دل کو تسلی نہیں ہوتی، بات بنتے نظر نہیں آتی، یہ سوال بہت پریشان کرتا ہے کہ سچے دین کو ماننے والے اس بے راہروی کا شکار کیوں ہیں؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہمارا کردار دوسری اقوام کیلئے قابل تقلید ہوتا لیکن یہاں تو صورتحال اس کے برعکس ہے، آپ اسے ایک بیماری کہہ سکتے ہیں کہ نماز روزہ تو موجود ہے لیکن کردار نہیں ہے۔ آخر اس بیماری کا علاج کیسے ہو؟ قرآن پاک میں جہاں بھی ایمان کا ذکر آیا ہے ساتھ ہی نیک اعمال کی تاکید بھی کی گئی ہے یعنی نیک اعمال کے بغیر بات نہیں بنتی، اچھے اعمال وکردار کا ہونا بہت ضروری ہے لیکن آج ہم عبادات تک محدود ہو کررہ گئے ہیں، عبادات کے بغیر بھی بات نہیں بنتی لیکن عبادات کیساتھ ساتھ کردار کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ حضرت عمر فاروق کا قول مبارک ہے کہ انسان کو عبادات سے نہیں بلکہ اس کے معاملات سے پہچانو، اگر انسان مسلسل بددیانتی کا ارتکاب کر رہا ہے تو اسے اس پر ضرور غور کرنا چاہئے کہ وہ کہاں کھڑا ہے؟ اس کے ایمان کی کیا حالت ہے؟ سود کی لعنت میں ہم گرفتار ہیں، چوری چکاری، فریب کاری ہمارے لئے بڑی عام سی بات ہے، بددیانتی کا سلسلہ نیچے سے شروع ہوکر اوپر تک چلا گیا ہے اور یہی ہماری پریشانیوں کی سب سے بڑی وجہ ہے، قومی مفادات کہیں بہت پیچھے رہ گئے سب بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ صرف بجلی تو مہنگی نہیں ہوئی وطن عزیز میں کونسی چیز سستی ہے؟ ہماری کرنسی روزبروز اپنی قدر کھو رہی ہے شاید وہ وقت دور نہیں ہے کہ ہم سبزی کی خریداری کیلئے دو تین ہزار روپے جیب میں ڈال کر نکلا کریں گے۔