بی آرٹی کی تکمیل

قوموں کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں لیکن اگر چیلنجز اور مشکلات کا سامنا زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے بہادری سے کیا جائے تو پھر چیلنجز کو مواقع میں تبدیل کر کے کامیابیاں سمیٹی جا سکتی ہیں۔تحریک انصاف کی حکومت کو آئے ہوئے ابھی دو سال ہوئے ہیں جس دن سے عمران خان نے عنان اقتدار سنھبالا ان کو بھی ورثے میں مسائل کا انبار ملا اور کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا مگر کرکٹ کی تربیت اور کپتان کی ہرقسم کے حالات میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت کی بناء پر وہ اب کامیابی کی طرف بڑھتے نظر آرہے ہیں اور وہ منصوبے بھی مکمل ہوں گے جن کے خلاف ان کے سیاسی مخالفین شروع دن سے ہی پراپیگنڈا کررہے تھے۔ایسا ہی ایک منصوبہ پشاوربی آر ٹی ہے اور یہ شاید واحد پراجیکٹ ہے جس کے خلاف پہلی اینٹ لگنے سے قبل ہی مخالفین نے شدید پروپیگنڈہ شروع کردیا تھا جو تعمیر کے دوران بھی مسلسل جاری رہا۔اب جبکہ یہ پراجیکٹ کاغذات میں دیئے گئے وقت سے پہلے مکمل ہو چکا ہے تب بھی مخالفین کا جھوٹا پروپیگنڈہ جاری ہے۔ اس پراجیکٹ کے متعلق مسلسل اتنا جھوٹ بولا گیا ہے کہ عام لوگ تو کیا، اکثر انصافی بھی اس پروپیگنڈہ کے باعث بعض معاملات میں کنفیوژن کا شکار ہیں۔مخالفین کا پراپیگنڈا کیا تھا اور حقیقت کیا ہے اس کا تقابلی جائزہ عوام کے سامنے رکھتے ہیں۔
پروپیگنڈہ نمبر 1: BRT کی فیزیبیلٹی، ڈیزائن، ٹیکنیکل اسیسمنٹ ہی نہیں بنی تھی۔ بس تکے سے، بنا کسی پلاننگ اور تیاری کام شروع ہوا۔
حقیقت: پاکستان کا شاید واحد “روڈ پروجیکٹ” ہے جس کی مکمل ٹیکنیکل evaluation، ڈیزائن اور ماحولیاتی اسیسمنٹ ہوئی ایشین ڈیویلپمنٹ بینک ADB کے تعاون سے (پروجیکٹ نمبر 003ـ48289 اور 001ـ48289) پروجیکٹ کی نگرانی اور اوور سائیٹ بھی ADB نے کی اور باقاعدگی سے ریویو رپورٹس جاری کی گئیں۔
پروپیگنڈہ نمبر 2: BRT کی لاگت دوگنی، تین گنا، چار گنا ہو چکی ہے۔ پاکستان کا مہنگا ترین پروجیکٹ بن چکا ہے۔
حقیقت: BRT کیلئے 2017 ء میں ADB کے کاغذات (پروجیکٹ 002ـ48289) کے مطابق لاگت 570 ملین ڈالر بنتی تھی (ڈالر ریٹ 104 کے حساب سے 60 ارب)۔آج کے ڈالر ریٹ 170 کے حساب سے یہ تقریباً 100 ارب بنتے ہیں۔ مطلب بی آر ٹی کی لاگت میں بھی کوئی خاص فرق نہیں آیا۔ایک اور بات ذہن میں رہے، صرف بی آر ٹی پراجیکٹ بجٹ میں نہ صرف بسیں بلکہ پارکنگ پلازوں کی قیمت بھی شامل ہے اور پارکنگ پلازا میں سینکڑوں دکانیں بھی تعمیر کی گئی ہیں۔
پروپیگنڈہ نمبر 3: BRT کی تکمیل میں تاخیر ہو گئی۔ پروجیکٹ سالوں سے زیر تعمیر ہے، کب مکمل ہوگا۔
حقیقت: BRT پروجیکٹ کے ADB کے ساتھ ستمبر 2017 میں ہوئے معاہدے کے مطابق تکمیل کی ڈیڈلائن 30 جون 2021 ہے۔ جبکہ یہ منصوبہ پروجیکٹ کاغذات میں لکھی اس ڈیڈلائن سے ایک سال قبل جون جولائی 2020 میں مکمل ہو چکا ہے۔
پروپیگنڈہ نمبر 4: بی آرٹی نے پشاور کو تباہ کر دیا۔
حقیقت:بی آرٹی پروجیکٹ میں صرف”جنگلہ بس”نہیں بنی بلکہ پشاور کے ایک سرے (موٹروے انٹرچینج) سے دوسرے سرے (کارخانو) تک مکمل جی ٹی روڈ نئے سرے سے بنی۔ اس راستے پر کئی انڈرپاس/اوورہیڈبرج بنے۔ میگاپروجیکٹس کی تعمیر میں تکلیف تو لازمی ہوتی ہے۔
پروپیگنڈہ نمبر 6: BRT پروجیکٹ میں شفافیت نہیں۔
حقیقت: BRT شاید واحد روڈ پروجیکٹ ہے جس کا ہر ڈاکومنٹ ADB ویب سائیٹ پر موجود ہے۔ٹیکنیکل/انوائرنمنٹل اسیسمنٹ سے بِڈنگ اور فنانشل تفصیلات تک۔ سب آن لائن۔لاہور/پنڈی/ملتان میٹرو کا کوئی کاغذ مل سکتا ہے؟ تمام ریکارڈ LDA کی آگ میں جلایا جا چکا ہے۔ شکریہ شہبازشریف
پشاور BRT کی تعمیر 25 اکتوبر 2017 کو شروع ہوئی۔ ٹھیک 2 سال 8 مہینے بعد جون جولائی 2020 میں BRT مکمل ہو چکی (جون 2021 کی ڈیڈلائن سے سال قبل)۔
لاہور اورنج ٹرین 2014 میں، کراچی گرین لائن فروری 2016ء اور کراچی اورنج لائن جون 2016ء میں شروع ہوئی۔ کیا کبھی کسی نے سندھ سائیں سرکار سے سوال کیا کب اورینج لائن منصوبہ مکمل ہوگا؟
بی آر ٹی اپنے اسکوپ کے لحاظ سے ان تمام تمام پروجیکٹس سے بڑا منصوبہ ہے۔ اس کی تعمیر مندرجہ بالا منصوبوں کے بعد شروع ہوئی تھی اور الحمد للہ اب یہ مکمل آپریشنل ہو چکا ہے۔ZU کارڈز تقسیم کئے جا رہے ہیں۔ کے پی حکومت نے ایک فریZUکارڈ بلاول زرداری کو بھی بھیج دیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان آج جمعرات کو اس اہم منصوبے کا افتتاح کرنے جا رہے ہیں جس سے پشاور کے عوام کو سفری سہولیات میں آسانی ہوگی اور جب یہ بس چلے گی تو مخالفین کا پراپیگنڈہ اپنی موت آپ مر جائے گا۔