مافیاز کے سامنے بے بس حکومتیں

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد مختلف مقدمات میں ریمارکس کے دوران عوامی دلچسپی کے معاملات پر بہت صائب تبصرہ کرتے ہیں۔ کبھی کبھار وہ ایک جملے میں بہت تلخ حقائق اور ملک کی پوری سیاسی تاریخ بیان کر جاتے ہیں۔ کراچی کے شہری مسائل کے مقدمے کی سماعت کے دوران ان کے یہ ریمارکس چشم کشا ہیں کہ مافیاز حکومتوں کو پالتی ہیں۔ حکومتیں ان کا کیا بگاڑ لیں گی، ان کیخلاف کوئی قدم اُٹھایا تو حکومتوں کا اپنا دانہ پانی بند ہو جائے گا۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے ملک میں مافیاز کی طاقت اور دہشت کی حقیقت کا اظہار کیا ہے۔ مافیاز نے جس طرح طاقت پکڑ کر ریاست کے اندر ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے اس کا مظاہرہ ہم موجودہ حکومت کے دور میں دیکھ چکے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اب یہ مافیاز حکومت کے اندر حکومت نہیں بلکہ حکومت سے اوپر اور بالادست سپرحکومت کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ اس طرح ان قوتوں کا کردار حکومتوں سے زیادہ مضبوط ہے۔ یہی مافیاز حکومتوں کو بنانے گرانے اور بقول چیف جسٹس انہیں پالنے کا کام بھی انجام دیتے ہیں۔ مافیاز ان معاشروں میں اس وقت پروان چڑھتی ہیں جب ریاست کی گرفت اورقانون کی حکمرانی کا عمل ڈھیلے پڑتے ہیں۔ قانون کی حکمرانی میں قانون شکن عناصر کا پروان چڑھنا ممکن نہیں ہوتا۔ مافیاز قانون شکن عناصر ہوتے ہیں۔ یہ معاشرے کو قاعدے ضابطے سے دور رکھ کر اپنی ذاتی، تجارتی اور طبقاتی مفادات کے کھونٹے سے باندھے رکھتے ہیں۔ معاشرے کو قانون کی ڈگر سے ہٹا کر طبقاتی حکمرانی کی راہ پر چلنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ حکومت کو عملی طور پر مفلوج بناکر نادیدہ حکومت قائم کرتے ہیں۔ حکومتیں جس قدر بھی عوام دشمن اور عوامی مسائل سے لاپرواہ ہوں مگر کامیابی یا ناکامی کی ذمہ داری کسی نہ کسی مرحلے پر ان کے سر پڑتی ہے۔ اس کے برعکس مافیاز نادیدہ لوگ ہوتے ہیں۔ وہ حکومتوں کو دباؤ میں لاکر اپنی پسند کے فیصلے تو کراتے ہیں مگر حکومت کی ناکامیوں میں حصہ دار ہوتے ہیں نہ عوام انہیں تلاش کرکے کسی ناکامی کا بوجھ ان پر ڈال سکتے ہیں۔ یوں یہ دستانہ پوش ہاتھ ہوتے ہیں جو چھپ چھپ کر ہاتھ کے کمالات اور صفائی دکھاتے ہیں۔ پاکستان میں چونکہ قانون کی حکمرانی کا عمل بتدریج کمزور ہوتا چلا گیا اس لئے یہ خلاء مافیاز نے نہایت مہارت اور چابک دستی سے پُر کیا۔ چینی مافیا، آٹا مافیا، تیل مافیا، بجلی اور گیس مافیا، لینڈ مافیا، ٹمبر مافیا، ٹرانسپورٹ مافیا، ٹینکر مافیا غرضیکہ اس ملک میں مافیاز کھمبیوں کی طرح اُگتے چلے جا رہے ہیں۔ ہر شعبے کی دو پرتیں ہیں ایک جائز اور قانونی پرت جو اس کا ظاہر چہرہ ہوتا ہے اور دوسری خفیہ پرت جو مافیا پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان مافیاز نے اپنی ہوس زر سے اتنا کالادھن کمایا ہوتا ہے کہ یہ سیاسی جماعتوں میں چندے کے نام پر سرائیت کرتے ہیں اور ان کی اصل منزل حکومت ہوتی ہے۔ ان کے چندے سے بننے والی حکومت ان کے کسی حکم یا خواہش کی سرتابی کی جرأت کیسے کر سکتی ہے۔ پھر یہ حکومتوں کو اور حکومتیں انہیں پالتی ہیں۔ انہی مافیاؤں کے زیراثر حکومتیں عوام دشمن معاشی پالیسیاں اپنانے پر مجبور ہوتی ہیں۔ موجودہ حکومت میں آٹا، تیل چینی اور ڈرگ مافیا سمیت کئی قسم کے کرتب ہم دیکھ چکے ہیں۔ یہ تو عمران خان جیسا بندہ اوپر ہے کہ یہ مافیاز کسی حد تک پہنچانے جاتے ہیں ماضی میں تو کسی حکمران کو ان کی شناخت کرنے اور نام لینے کی جرأت بھی نہیں ہوتی تھی۔ عمران خان اب ان مافیاز سے لڑرہے ہیں۔ ان کی حکومت ایک مافیا کے وار سے بچ نکلتی ہے تو دوسرا اسے عالم پشیمانی میں چھوڑ دیتا ہے۔ عمران خان پھر مافیاز سے لڑنے کا اعلان کرتے ہیں مگر مافیاز اتنی آسانی سے ہاتھ آنے والے کہاں؟ اب چیف جسٹس نے اسی تلخ حقیقت کو بہت سادہ اور سلیس انداز میں بیان کیا ہے۔ اس عارضے کا حل تشخیص نہیں علاج میں ہے۔ وگرنہ اکھڑ مزاج حکمران اور طاقتور حکومت بھی ان کے آگے ڈھیر ہوتے رہیں گے۔ عمران خان بھی اس حولے سے پروں پر پانی نہیں پڑنے دیتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اقتدار میں آتے ہی وہ مافیاز کو نکیل ڈال کر قانون کی بالادستی اور حکمرانی قائم کریں گے مگر ان کی حکومت مافیاز کے ہاتھوں میں یرغمال بن کر نت نئے بحرانوں کا شکار ہوتی ہے۔ گویا کہ مافیاز انہیں بتا رہا ہے کہ اصل طاقت عوام کو دکھائے جانے والے خواب اور انتخانی تقریروں میں نہیں کسی اور کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور وہ چاہیں تو حکومت کی ساکھ کا ایک فیصلے سے تیا پانچہ کرکے رکھ دیں۔ اب دنیا کی بہت سی جمہوریتوں میں حکومت اور مافیاز کے درمیان حدفاصل قائم کرنا بھی باقی نہیں رہا کیونکہ مافیازانتخابی اور پارٹی فنڈز کے نام پر سیاسی جماعتوں اور حکومتوں میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ دنیا کے دوسرے ملکوں میں تو یہ کام ملفوف اور اچھے انداز سے ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں مافیا اس قدر عجلت میں اپنی سرمایہ کاری کا منافع کمانے لگتی ہے کہ اتنا ہی جلد ان کی اصلیت عوام پر عیاں ہوتی ہے۔ اب یا کبھی نہیں کے اصول کے تحت اس بار مافیاز کا زور توڑ کر ان کی نادیدہ حکمرانی سے چھٹکارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔