محبت اندھی ہوتی ہے

کل برادرم مشتاق شباب کے کالم میں انگریزی زبان کے مشہور ومعروف شاعر ولیم شیکسپئر کے حوالے سے انتہائی دلچسپ تحقیق پر روشنی ڈالی گئی ہے جسے پڑھ کر بہت اچھا لگا، آج تک پڑھے لکھے طبقوں میں شیخ زبیر اور شیکسپئر کے حوالے سے لطیفہ گوئی کا سلسلہ چلتا رہتا ہے اور بہت سے لوگوں کا ابھی تک یہ ماننا ہے کہ یہ شیکسپئر نہیں بلکہ شیخ زبیر ہے اور انگریزوں نے اس کی حیران کن صلاحیتوں سے متاثر ہوکر اسے اپنا قومی شاعر قرار دیدیا تھا۔ جب ہم ایم اے انگلش کی کلاس میں تھے تو ان دنوں اس قسم کے مباحث چلتے رہتے تھے، کچھ دوست تو مسلمانی کے جوش میں بہت زیادہ جذباتی ہوجایا کرتے تھے ہم اس قسم کے مباحث کو ہنسی مذاق میں اُڑا دیا کرتے تھے۔ ہمارا اس وقت بھی یہی خیال تھا اور اب بھی ہے کہ اس قسم کی باتوں کا کھوج لگانا تو محققین کا کام ہے، ہم نے تو شیکسپئر کی شاعری سے لطف اندوز ہونا ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ بلا کا شاعر تھا وہ تھیٹر میں ملازم تھا اور تھیٹر کیلئے ہی ڈرامے لکھتا تھا، اس کے اکثر ڈراموں کا بنیادی خیال اوریجنل نہیں ہے بلکہ ادھر ادھر سے لیا گیا ہے، اس نے بہت سے تاریخی واقعات پر ڈرامے لکھے ہیں اس کا سارا کمال اس کی زبان میں ہے، خوبصورت دل ودماغ رکھنے والا ایک سچا شاعر اپنے خوبصورت خیالات کو اس قسم کی زبان میں پیش کر گیا ہے جو سدا بہار ہے۔ جب تک انگریزی زبان رہے گی شیکسپئر کے نام کا ڈنکا بجتا رہے گا۔ آج بھی ہماری بات چیت کے دوران بہت سے خوبصورت مصرعے یا جملے موقع محل کی مناسبت سے درمیان میں آجاتے ہیں۔ ان سے بات چیت کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور سننے والے پر مفہوم بھی بڑی عمدگی سے واضح ہو جاتا ہے۔ انگریزی میں ایسے بہت سے جملے ہیں جو ہم روزمرہ کی بات چیت میں استعمال کرتے ہیں لیکن ان میں سے بہت سے جملے دراصل ولیم شیکسپئر کے ڈراموں کی خوبصورت سطریں ہیں جو ہم جانے انجانے میں استعمال کرتے ہیں اور یہ سننے والوں کو بھلی بھی معلوم ہوتی ہیں اور بات کی معنویت بھی سامنے آجاتی ہے۔ اگر فصاحت وبلاغت کے حقیقی معیار کو دیکھنا ہو تو ہمارے لئے ولیم شیکسپئر کے ڈراموں کی خوبصورت سطریں ہی کافی ہیں مثلاً دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔ نام میں کیا رکھا ہے ہم گلاب کو جس نام سے بھی پکاریں اس کی خوشبو پیاری ہی ہوگی۔ محبت اندھی ہوتی ہے اور عاشقوں کو کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی، عظمت سے خوف مت کھاؤ بعض عظیم پیدا ہوتے ہیں بعض عظمت حاصل کر لیتے ہیں اور بعض پر عظمت تھونپ دی جاتی ہے۔ اختصار عقل کی جان ہے، بزدل موت سے پہلے کئی مرتبہ مرتے ہیں جبکہ بہادر صرف ایک مرتبہ ہی موت کا ذائقہ چکھتے ہیں۔ بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھا جاتی ہے۔ جس کا سر گھومتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ ساری دنیا گھوم رہی ہے۔ میں نے وقت ضائع کیا اور اب وقت مجھے ضائع کر رہا ہے۔ جہالت اللہ کا عذاب ہے۔ زندگی سے سب پیار کرتے ہیں لیکن ایک پیارا انسان زندگی سے زیادہ اپنی عزت سے پیار کرتا ہے۔ باتیں سب کی سنو لیکن گفتگو چند لوگوں سے کرو۔ محبت سب سے کرو اعتبار چند ہستیوں کا اور برائی کسی سے نہ کرو۔ شیطان اپنا مقصد حاصل کرنے کیلئے آسمانی کتابوں سے حوالے بھی دے سکتا ہے۔ خالی برتن کا شور بہت زیادہ ہوتا ہے۔ دشمن کو کبھی بھی کمزور مت سمجھنا۔ تاج پہننے والا سر ہمیشہ پریشان رہتا ہے۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ ہم کیا ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ ہمیں کیا ہونا چاہئے۔ جو ہو گیا وہ ہو گیا۔ مصیبت کبھی بھی تنہا نہیں آتی۔ ذہانت سے اور آہستہ چلو جو تیز بھاگتے ہیں وہ گر جاتے ہیں۔ یہ ولیم شیکسپئر کے ڈراموں سے لئے گئے وہ چند مصرعے ہیں جو ہم اپنی بول چال میں عام طور پر استعمال کرتے ہیں۔ زندگی میں ہم ان چھوٹے چھوٹے جملوں سے بہت کچھ سیکھتے ہیں اور اس طرح زندگی کو بہتر انداز سے گزارنے کا ڈھنگ بھی سیکھ جاتے ہیں۔ ان خوبصورت مصرعوں میں صدیوں کی ذہانت پوشیدہ ہے جس کا سننے والے پر اثر بھی ہوتا ہے اور ہماری بات کا وزن بھی بڑھ جاتا ہے۔ فصاحت وبلاغت تو اسی کو کہتے ہیں کہ آپ اپنی بات کو بڑے سیدھے سادے لیکن خوبصورت انداز میں اس طرح بیان کریں کہ مخاطب پر مفہوم پوری طرح واضح ہوجائے۔ خوش کلامی اسی کو کہتے ہیں، شیکسپئر کے اس جملے کی صداقت ملاحظہ کیجئے سچائی کیساتھ ساتھ خوبصورتی بھی کمال کی ہے یہ واقعی صداقت عامہ ہے جسے انگریزی میں universal truthکہتے ہیں: تاج پہننے والا سر ہمیشہ پریشان رہتا ہے، دریا کو کوزے میں بند کرنا اسی کو کہتے ہیں، ہم سب جانتے ہیں کہ اقتدار کیساتھ کتنے مسائل جڑے ہوئے ہیں یہ کتنی پریشانیاں لیکر آتا ہے، تاج وتخت کیلئے اپنے بچوں کی آنکھیں نکال کر انہیں قید خانے میں ڈال دیا جاتا ہے، اپنے باپ کو بھی قتل کرنے سے دریغ نہیں کیا جاتا۔ اس قسم کے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے، محبت اندھی ہوتی ہے محبت اقتدار کی ہو، اپنے مفادات کی یا کسی انسان کی یقینا یہ اندھی ہوتی ہے، اپنی محبت پانے کیلئے انسان ہر چیز سے گزر جاتا ہے۔ شیکسپئر نے اسے ذہنی اندھے پن کا نام دیا ہے۔