اداکارہ نادیہ جمیل کی پاکستانی ڈراموں کی کہانیوں پر سخت تنقید

ویب ڈیسک : پاکستان کی معروف اداکارہ نادیہ جمیل نے ملک میں ٹی وی پر نشر ہونے والے ڈراموں کی کہانیوں پر تنقید کی ہے، نادیہ جمیل اداکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی کارکن بھی ہیں اور خواتین اور بچوں پر مظالم کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں، فیس بک کی فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں نادیہ جمیل نے پاکستانی ڈراموں کے مواد پر برہمی کا اظہار کیا، پاکستان کے ٹی وی ڈراموں میں دکھایا جاتا ہے کہ مردوں کی جانب سے عورتوں کو مارا پیٹا جاتا ہے، ان پر تشدد کیا جاتا ہے، لیکن وہ پھر بھی انہی کے ساتھ رہنے کے لیے بے تاب ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈراموں میں ایسا کیوں دکھایا جاتا ہے کہ عورت ایسے مرد کی محبت میں خود کو جلا رہی ہے، جو اس پر تشدد کرتا ہے اور عورت کو ہی روتے ہوئے دکھایا جاتا ہے، اداکارہ کا کہنا تھا کہ ایسی کہانیاں انہیں جسمانی طور پر بیمار کرتی ہیں، نادیہ جمیل نے لکھا کہ بہت سے ٹی وی ڈرامے عورت کو متاثرہ فرد اور مرد کو ان کا ہیرو دکھانا چاہتے ہیں، ہم متاثرہ افراد نہیں، الحمداللہ، اللہ نے ہمیں خود کا احترام کرنے کی صلاحیت دی ہے اور کیا ہم ٹی وی پر وہ احترام دیکھ سکتے ہیں، نادیہ جمیل رواں برس اپریل میں بریسٹ کینسر کا شکار ہوگئی تھیں اور انہوں نے لندن کے ایک معروف ہسپتال میں علاج شروع کروایا تھا، نادیہ جمیل نے رواں برس اپریل کے آغاز میں تصدیق کی تھی کہ وہ بریسٹ کینسر کا شکار ہوگئی ہیں، مرض کی تشخیص کے چند دن بعد ہی 7 اپریل کو اداکارہ کی پہلی سرجری کی گئی تھی جو خوش قسمتی سے کامیاب گئی تھی، جس کے بعد اداکارہ کے مزید علاج کے لیے کیموتھراپی کا آغاز کیا گیا تھا، کینسر جیسے موذی مرض سے جنگ لڑنے کے باوجود نادیہ جمیل گزشتہ 3 ماہ کے دوران بچوں اور خواتین پر تشدد کے خلاف آواز اٹھاتی دکھائی دی تھیں۔