اب کام چل رہا ہے صرف ڈاٹ کام سے

”ہو ہا ہا ہا، ہو مالا ہو۔ بابے لا۔ آآآ چھو۔ آدم بو۔”یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ میں نے آن لائن چیٹ کرنے والے کے ان عجیب وغریب اور نہ سمجھ آنے والے جملے کو اپنے کمپیوٹر کی سکرین پر پڑھ کر اس کا جواب دیا۔ جس کے جواب میں، اس نے لکھا کہ ‘میری یہ باتیں آپ کی سمجھ میں نہیں آسکتیں کیونکہ آپ جس دنیا سے تعلق رکھتے ہیں اس دنیا سے میرا دور کا بھی تعلق نہیں’۔ یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ وہی کہہ رہا ہوں جو آپ اپنے کمپیوٹر کی اسکرین پر پڑھ رہے ہیں۔ ہو مالا ہو۔ بابے لا۔ دیکھو دیکھو۔ بند کرو یہ ڈرامہ بازی اور مجھ سے سیدھی سادی اردو میں بات کرو سمجھے۔ میں نے قدرے بگڑ کر لکھا اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ کہاں کے رہنے والے ہو اور اس وقت کہاں ہو۔ جس کے جواب میں اس نے لکھا کہ میں ‘عالم بالا سے آیا ہوں آپ سے ملنے اور اس وقت میں آپ کے مکان کے قریب والے قبرستان کی ایک قبر میں موجود ہوں اورآپ کے کمپیوٹر پر آپ سے مکالمہ کر رہا ہوں۔ اس کی یہ بات سن کر مجھ پر کپکپی طاری ہوئی نہ ہی کسی قسم کی گھبراہٹ۔ سمجھ گیا کہ کوئی مجھے بے وقوف بنا رہا ہے۔ اگر تیرا تعلق عالم بالا سے ہے تو میں عالم بالاتر سے تعلق رکھتا ہوں۔ اگر تو کسی قبر میں بیٹھا مجھ سے آن لائن چیٹ کر رہا ہے تو تیرے ساتھ والی قبر میں، میں بھی موجود ہوں کیونکہ میں اس ہی روز مرگیا تھا جب میں اس دنیا میں آیا تھا۔ تو گویا آپ جھوٹ بھی بول لیتے ہیں۔ میری یہ بات سن کر وہ بڑی ڈھٹائی سے بولا۔ جھوٹوں کیساتھ جھوٹ بولنا جھوٹ نہیں کہلاتا۔ آپ کی ان ہی باتوں کا تو میں عاشق ہوں۔ جبھی تو میں عالم بالا سے آکر عالم زیریں میں چلا گیا اور چاہتا ہوں کہ آپ کے پاس آکر آپ سے مل بھی لوں، بند کرو اپنی بکواس’ میں نے دو ٹوک الفاظ میں اس سے کہا، دیکھئے ڈانٹئے مت، میں آپ کی قدم بوسی کیلئے حاضر ہوا چاہتا ہوں، آخر ہو کون اورکہاں سے چیٹ کر رہے ہو، ہو ہاہاہا، میں آپ کے کمرے میں آگیا ہوں، بند کر و یہ کھیل اور بتاؤ تم کہا ں پر ہو، کہا نا میں آپ کے کمرے میں داخل ہوگیا ہوں، میں آپ کو نظر نہیں آرہا، مگر آپ مجھے نظر آرہے ہیں، آپ نے کریم کلر کا سوٹ پہنا ہوا ہے، آپ کے کمرے کا آدھا دروازہ کھلا ہوا ہے، آپ کے سامنے رکھی کمپیوٹر ٹرالی پر چائے کا کپ بھی پڑا ہوا، جو میرے آپ کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے آپ کی مسز رکھ گئی ہیں، اللہ یہ تو سو فیصد درست بتا رہا ہے، یہ تو سچ مچ میرے کمرے میں داخل ہوچکا ہے مگر مجھے نظر کیوں نہیں آرہا، یہ سب جان کر میرا سر چکرانے لگا، سانس پھول گئی اور پاؤں تلے کی زمین سرکتی محسوس ہونے لگی، ایسی صورتحال کا شکار ہونے والا بھلا کون کسی کیساتھ چیٹ کر سکتا ہے، میں نے چاہا کہ کمپیوٹر بند کئے بغیر ہی کمرے سے بھاگ نکلوں، لیکن اس سے پہلے کہ میں ایسا کرتا، میرے کانوں میں الو کے پٹھے، شہسازعلی کا زوردار قہقہہ گونجا، جو اس ہی کمرے میں دوسرا کمپیوٹر سیٹ کھولے مجھ سے آن لائن چیٹ کرتے ہوئے، میرے اعصاب کا ستیاناس کر رہا تھا، اچھا تو یہ تو تھا، کمینے، تو میرا بیٹا ہوکر مجھے بے وقوف بنا گیا، اس سے پہلے کہ میں جوتی اُٹھا کر اس پر وار کرتا، وہ بچالو امی، بچالو کہتا کمرے سے باہر نکل بھاگا، بہت پرانے ہیں میری بے وقوفی کے یہ ثبوت، جو میں نے آپ سے شیئر کئے، بہت مہنگا شوق تھا ان دنوں آن لائن جاکر کسی سے بات چیت کرنے کا۔ اس شوق کو پورا کرنے کیلئے سمارٹ فون ٹچ سسٹم موبائل یا اینڈرائڈ موبائل قسم کی کوئی ڈیوائس مارکیٹ میں نہیں آئی تھی اور ہر کس وناکس آن لائن جانے کیلئے اس قسم کے گل چھرے نہیں اُڑا سکتا تھا۔ چند سائبر کمپنیوں کی وساطت سے آن لائن ہو جاتے جتنی دیر یا دورانیہ کی گنجائش بازار سے خریدے گئے سکریچ کارڈ میں موجود ہوتی لیکن آج ایسا ہرگز نہیں، اب تو آن لائن اجلاس بھی ہونے لگے ہیں، بازار بھی سجنے لگے ہیں، آن لائن بینکنگ سروس بھی موجود ہے اور کالج یونیورسٹی کیلئے داخلہ فارم بھی آن لائن جمع کرائے جاسکتے ہیں جبکہ آن لائن جا کر نت نئے گل کھلانے والے شرارت کے پر کالے اپنا اصل دکھانے یا کسی کو بے وقوف آن لائن بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جس کی ایک مثال اسلامیہ کالج پشاورکے آن لائن داخلہ فارم جمع کرانے والوں میں سے کسی نے اپنا نام ورلڈ وائیڈ ریسلر جان سینا اور والد کا نام انڈر ٹیکر لکھ کر اسلامیہ کالج میں نہ سہی اخبار کی دوکالمی سرخی میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی
اب بھاگتے ہیں طفل کتابوں کے نام سے
اُستاد چیٹ روم میں بیٹھے ہوئے ہیں شام سے
اب لڑکیوں کو اور کوئی کام نہیں
اب کام چل رہا ہے صرف ڈاٹ کام سے