امن مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کا سوال

طالبان کے ساتھ قطر کے دارالحکومت میں ہونے والے امن مذاکرات اہم موڑ میں داخل ہوگئے ہیں ایسے میں افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیم نے اہم امور مثلا جنگ بندی پر پیش رفت کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کیا ہے۔بین الافغان مذاکرات کی افتتاحی تقریب میں افغان حکومت اور امریکا سمیت دیگر اتحادیوں کی جانب سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تاہم طالبان نے مذاکرات کی میز پر آنے سے قبل عارضی جنگ بندی کا کوئی ذکر نہیں کیابلکہ طالبان نے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کر کے امن مذاکرات کے ماحول کو بھی متاثر کیا ہے کم از کم امن مذاکرات کے جاری دنوں میں اگر تشدد سے گریز کیا جاتا تو اس کا امن عمل پر مثبت اثرات مرتب ہوتے۔اس موقع پر طالبان کا رویہ سخت اور متشددانہ نظر آیا۔طالبان کو ہمیشہ سے اس بات کی فکر لاحق رہی ہے کہ تنازعے میں کمی ان کے لیے فائدہ مند نہیں ہو گی۔ ایک ایسے وقت میں جب دونوں اطراف کی تکنیکی کمیٹیاں مذاکرات کا لائحہ عمل طے کرنے لیے ملنے جا رہی تھیں اس وقت بھی تشدد جاری تھا جبکہ طالبان نے یہ سخت شرط بھی عائد کی کہ افغانستان میں نظام بھی ان کی مرضی کا ہونا چاہیئے دوسری جانب افغان حکومت کے نمائندے کا رویہ لچکدار اور مفاہمانہ نظر آتا ہے۔افغان حکومت کی جانب سے امن عمل کی سربراہی کرنے والے عبداللہ عبداللہ نے تجویز دی ہے کہ طالبان اپنی جنگجو قیدیوں کی رہائی کے بدلے جنگ بندی کی پیشکش کرسکتے تھے، یہ ان کے خیالات میں سے ایک خیال یا ایک مطالبہ ہوسکتا تھا۔ان حالات کے باوجود امن عمل کا تعطل کے بغیر جاری رہنا ہی حوصلہ افزاء امر ہے۔ پیشرفت ہو نہ ہو کم از کم پہلی مرتبہ مذاکرات کی میز پر آنا بھی کسی بڑی کامیابی اور حاصل سے کم نہیں۔مذاکراتی عمل کے مشکل ہونے کا شرکاء کو بخوبی اندازہ ہے۔ امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیوکا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں، ہفتوں اور مہینوں میں مذاکرات میں بلا شبہ بہت سے چیلنجز کا سامناہوگا، ساتھ ہی انہوں نے متحارب فریقین سے امن کے موقع سے فائدہ اٹھانے کا بھی مطالبہ کیا۔افغان وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق بین الافغان مذاکرات کے آغاز کے ساتھ طالبان سے حملوں میں کمی کی توقع کی جارہی تھی لیکن بدقسمتی سے ان کے حملے بڑی تعداد میں اب بھی جاری ہیں۔مذاکرات میں افتتاحی تقریر کرتے ہوئے طالبان کے شریک بانی ملا عبدالغنی برادر نے عسکریت پسند گروہ کاپیغام دہراتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان کو اسلامی قوانین کے مطابق چلانا چاہیئے جبکہ صدر اشرف غنی کی افغان حکومت آئینی جمہوریت کا مغربی اسٹیٹس کو برقرار رکھنا چاہتی ہے جس میں متعدد حقوق اور خواتین کے لیے بڑی آزادی ہے۔یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں رواں برس فروری کے آخر میں ایک امن معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے بعد دوسرے مرحلے میں بین الافغان مذاکرات کا عمل شروع ہوا ہے۔ایک جامع امن معاہدے کے لیے شاید کئی برس درکار ہوں اور اس کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ دونوں اطراف افغانستان کے مستقبل کو کس انداز میں دیکھتی ہیں اور کیا دونوں کے درمیان اقتدار کی تقسیم کا کوئی معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے؟امن کی جانب بڑھنے کے جذبے کے ساتھ مذاکرات جاری رہنے چاہیئے، سب سے پہلے پرتشدد کارروائیوں میں نمایاں کمی پھر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی اور اس کے بعد ملک بھر میں مستقل جنگ بندی ہونی چاہیئے۔جہاں تک افغانستان میں نظام حکومت اور طرز حکومت کا سوال ہے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ قبل از وقت ہے اس لئے کہ کسی بھی ملک میں نظام اور طرز حکومت کے حوالے سے پیشرفت اور توقع اس وقت ہی حقیقت پسندانہ ہوگا جب ملک میں جنگ اور ہنگامی صورتحال نہ ہو لڑائی کے دنوں میں موجود نظام بھی تعطل کا شکار ہو جاتا ہے اگر دیکھا جائے تو افغانستان میں روسی فوج کی آمد سے تا ایندم کوئی ٹھوس اور مستقل نظام اور طرز حکومت مستحکم نہیں ہوئی وقت حالات اور جنگ وجدل کے باعث مختلف نظریات کے حامل عناصر حاوی رہے اس وقت بھی گو کہ صدارتی نظام رائج ہے لیکن اس کا دائرہ کار پورے ملک میں مستحکم نہیں بیرونی افواج کی موجودگی اورطالبان کے دبائو و حملوں کے باعث صدارتی نظام عضو معطل بن کر رہ گیا ہے ۔افغانستان میں نظام کی تبدیلی اور طرز حکومت قائم کرنے کیلئے اصولی اور جمہوری جدوجہد ہر افغان شہری کا حق ہے مگر یہ قیام امن اور استحکام کے بغیر ممکن نہیں، مناسب ہوگا کہ بین الافغان مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بنایا جائے اس کے بعد باقی امور پر توجہ دی جائے افغانستان میں کوئی بھی نظام بزور قوت ممکن نہیں اور نہ ہی ایسا کرنے کی گنجائش ہے۔