اوورسیز پاکستانی ،مٹی کی محبت کے اسیر

وزیر اعظم عمران خان کی کرکٹ اور سیاست کی زندگی کے دونوں ادوار میں تارکین وطن کا کردار بہت اہم رہا ہے ۔کرکٹ کے ہیرو کے طور پر بیرونی دنیا میں آباد پاکستانیوں نے عمران خان کو ہیرو بنانے اور ہیرو کی طرح چاہنے کا بے مثال مظاہرہ کیا ہے اسی طرح ان کی سیاست کے لئے مالی اور عملی بنیادوں کی تعمیر میں بھی تارکین وطن کا کردار مرکزی حیثیت کا حامل رہا ہے۔ اسی ربط وتعلق کی بنیاد پر عمران خان کی حکومت قائم ہوتے ہی بیرون ملک سے ٹیکنو کریٹس کی ایک یلغار سے ہوتی ہوئی نظر آئی ۔خود عمران خان نے بیرونی دنیا میں آبا د ماہرین کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ۔جس پر ملک میں حزب اختلاف اور سوسائٹی کے دوسرے عناصر کی طرف سے اعتراضات سامنے آئے ۔بہت سے معاملات عدالتوں تک بھی جاپہنچے ۔اووسیز پاکستانی اسی دھرتی کا حصہ اسی قوم او ر معاشرے کا جزو لاینفک ہیں ۔
مگراس سوال کا تعلق اوورسیز پاکستانیوں کی حب الوطنی اور وفاداری سے زیادہ سیاست سے ہے ۔بیرون ملک آباد پاکستانی ملک میں موجود آبادی سے زیادہ باشعور ،سیاسی رموز واوقاف سے زیادہ آشنا ،پاکستان کے حال سے زیادہ باخبر اور اس کے مستقبل کے حوالے سے زیادہ حساس رہی ہے اور یہ کیفیت کئی نسلوں کے بعد شاید کسی حد تک کم تو ہوئی ہو مگرختم نہیں ہوئی ۔اوورسیز پاکستانیوں نے اپنی نئی نسل کو ملک سے جوڑے رکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔مغربی ملکوں میں پیدا ہونے والے نوجوان ملک کے حالات پر اسی طرح کڑھتے ہیں جیسا کہ ترک وطن کرنے والے ان کے باپ داد ادیار غیر میں متفکر رہتے تھے ۔اس نسل کے دلوں میں بھی پاکستان کے حالات کو بدلنے کی خواہش اسی طرح موجزن ہے جو ان کے بزرگوں کا خواب ہوا کرتی تھی ۔ان کے ڈرائنگ روموں کی محفلوں میں آج بھی ملکی حالات اور سیاست اسی طرح گرما بحث کا موضوع بنتی ہے جیسا کہ اس پاکستان کے چوپالوں ،دالانوں اور چائے خانوں میں معمول ہے۔ملک کسی مشکل کا شکار ہوتو یہ تارکین وطن تڑپ اُٹھتے ہیں ۔قدرتی آفت وطن کو گھیر لے تو یہی اپنادل اور مٹھی کھول کر اہل وطن کی امداد کو دوڑ پڑتے ہیں ۔ان میں بہت سے موت کی صورت میں وطن کی مٹی اوڑھ کر سوجانے کی وصیت کرتے ہیں ۔ اسی وصیت کے مطابق زندگی بھر دیار غیر میں بسنے کمانے کھانے والے موت کے بعدتابوت میں بند ہو کر اپنے آبائی علاقوں میں لائے جاتے ہیں۔ پاکستان خوش ہوتا ہے تو یہ لوگ خوش ہوتے ہیں پاکستان مغموم اور ملول ہوتا ہے تو بیرونی ملکوں میںآباد یہ لوگ بھی رنجیدہ اور دکھی ہوتے ہیں۔ پاکستان کی جیت انہیں سربلنداور پاکستان کی شکست انہیں آنسوؤں سے رلاتی ہے۔ پاکستان کی سرزمین اور بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں کے اس فطری اور ابدی تعلق کو نہ تو کمزور کیا جا سکتا ہے نہ توڑا جا سکتا ہے۔یہ جسم اور روح کا تعلق ہے ۔ملک کے سیاسی لوگ باہر جائیں تو یہی لوگ ان کے لئے دیدہ ودل فرش راہ کرتے ہیں ۔1998میں پہلی بار انگلستان جانے کا اتفاق ہوا تو اس بات کا قریب سے مشاہدہ ہوا کہ برطانیہ کے مختلف شہروں میں یہ تارکین وطن چھوٹے چھوٹے پاکستان بسائے بیٹھے ہیں ۔چار لوگ جس گھر ،پارک یا ریستوران میں مل بیٹھیں تو ان کا موضوع سخن ”پاکستان ” ہوتا ہے ۔برطانیہ میں لاکھوں پاکستانی اور کشمیری تارکین وطن آباد ہیں ۔یہ اپنی زمین سے جڑے رہنے لئے اپنے خون پسینے کی کمائی سے اپنے آبائی علاقوں میں گھر تعمیر کرتے ہیں ۔بہت سوں کو ان گھروں میں رہنا بھی نصیب نہیں ہوتا مگر وہ اس مٹی کے ساتھ رابطے کے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔اس لئے تارکین وطن کی حب الوطنی مجموعی طور پر نہ تو کسی سوال کا موضوع ہے نہ کسی انگلی کا ہدف اور اشارے کا مرکز۔بس سیاست کے رنگ ہیں جو ان محب وطن لوگوں کو اس انداز سے زیربحث لاتے ہیں ۔سیاسی عہدوں پر ان کی تعیناتی کا معاملہ حب الوطنی پر سوال نہیں کہلا سکتا ۔یہ ایک اصول کا معاملہ ہے اور اسے اصول کی بنیاد پر ہی زیر بحث آنا چاہئے ۔دنیا کے تمام ملک بیرون ملک آباد ٹینکو کریٹس اور سرمایہ داروں کی خدمات اور وسائل سے استفادہ کرتے ہیں ۔پاکستان میں یہ تجرنہ مجموعی طور پر کامیاب نہیں رہا ۔معین قریشی اور شوکت عزیز کی مثالیں اس تجربے کی ناکامی کا ثبوت ہیں ۔پاکستان نے ان دونوں کو بیرونی دنیا کی گمنامی کی وادیوں سے ڈھونڈ لایا اور وزرات عظمیٰ جیسا حساس منصب ان کے حوالے کیا مگر وہ اپنی نوکری سے ایک دن زیادہ بھی اس ملک میں گزارنے پر تیار نہ ہوئے۔ نوکری ختم ہوئی اپنا بریف کیس تھاما اور پہلی فلائٹ سے گھر کی اُڑان بھر لی اور دوبارہ انہیں اس ملک میں نہ دیکھا گیا جہاں انہوںنے نام کمایا اور مراعات پائی تھیں۔بعد میں اس طرح کی مثالیں قائم ہوئیں ۔اس لئے اب حکومت کو بیرون ملک پاکستانیوں جن میں اکثر یت دوہری شہریت کی حامل ہوتی ہے کی خدمات سے استفادے کرنے کے لئے ایک اصول کو اپنانا چاہئے اور ناقدین کو اس معاملے کو مخالفت برائے مخالفت کی بجائے اصول کی کسوٹی پر پرکھنا چاہئے ۔