اپنی تاریخ پر بھی نظر ڈالتے رہیے

دنیا بھر میں غیر مسلم میڈیا کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے امیج کو خراب کرے غلطیاں کہاں نہیں ہوتیں؟ جرائم بھی ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن مسلمانوں سے سرزد ہونے والے کسی بھی جرم کو خوب اچھالا جاتا ہے اور اتنا زیادہ اچھالا جاتا ہے کہ ہم سب ان کی آواز کے ساتھ آواز ملا اپنے آپ کو ہدف تنقید بنانا شروع کردیتے ہیں ہماری مراد مسلمانوں کی غلطیوں ان کے جرائم کی پردہ پوشی ہرگز نہیں ہے صرف یہ کہنا مقصود ہے کہ اخلاقی جرائم پوری دنیا میں ہوتے ہیںاور بے تحاشہ ہوتے ہیں لیکن اس قسم کی خبریں مغربی میڈیا ایک چھوٹی سی سطر میں بیان کرکے فارغ ہوجاتا ہے جبکہ مسلمانوں سے سرزد ہونے والے جرائم کو شہ سرخیوں میں پیش کیا جاتا ہے اور ان کے خلاف اتنا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ ہم سب کو یقین ہوجاتا ہے کہ ہم سب سے برے ہیں اور ہمارا وطن ہی جرائم کا سب سے بڑا مرکز ہے! اس میں کوئی شک نہیں ہے مسلمان اپنی تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہے ہیں دنیا میں ہر جگہ انھیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنا یا جارہا ہے انھیں اپنے ممالک میں مختلف حیلے بہانوں سے جارحیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ اگر یہ فریاد کرتے ہیں تو انھیں مزید الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اپنا دفاع کرتے ہیں یا اپنی حفاظت کے لیے ہتھیا ر اٹھاتے ہیں تو ان پر دہشت گردی کا الزام لگا دیا جاتا ہے ۔ ان پر دہشت گردی کا الزام لگانے والوں سے کوئی پوچھے کہ یہ بیچارے تو اپنے اپنے علاقوں میں موجود ہیں آپ ان کے ممالک میں دندناتے پھر رہے ہیں آپ واپس تشریف لے جائیے تو یہ کبھی بھی آپ کا پیچھا کرتے ہوئے آپ کے گھر نہیں آئیں گے بس انھیں اپنے حال پر چھوڑ دیجیے تو آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے آپ کو مسلمانوں کی رواداری کے بہت سے واقعات پڑھنے کو ملیں گے۔ آیئے زرا تاریخ کے جھروکوں میں جھانکتے ہیں۔جب مسلمانوں نے ایران و روم جیسی سلطنتوں کو فتح کر لیا تو وہاں کے باشندوں کے ساتھ ان کی رواداری قابل رشک تھی۔شاہ معین الدین احمد ندوی اسلام اور عربی تمدن میں لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی فتوحات کے زمانہ اور اس کے بعد ان کی حکومت کے تعمیری دورمیں جب عیسائی اور مجوسی مسلمانوں کی رواداری کو دیکھتے تھے تو ان پر ان کا اعتماد اور بڑھ جاتا تھا اور وہ ان کی دعوت کی جانب زیادہ توجہ سے مائل ہوتے تھے اور ان کے طول بقاکی تمنا کرتے تھے۔ وہ دیکھتے تھے کہ قیام حکومت کے بعد بھی مسلمان ان کے مذہبی شعائر سے کوئی تغرض نہیں کرتے اور ان کے ساتھ ان کا طرز حکمرانی نہایت نرم اور لطف و احسان کا ہے۔ وہ جو عہد کرتے ہیں اس کو پورا کرتے ہیں عہد شکنی نہیں کرتے ۔ ان کے سامنے شام کے حاکم ابو عبیدہ کا یہ قول اور نمونہ بھی تھا کہ لوگو! میں قریش کا ایک معمولی آدمی ہوں اور تم میں سے بلا امتیاز رنگ و نسل جو شخص بھی تقوٰی میں مجھ پر فضیلت رکھتا ہے میں اس کی کھال بن جانا چاہتا ہوں وہ دیکھتے کہ مسلمان یہود و نصا ریٰ کی پوری حفاظت کرتے ہیں۔ان کے معاہدوں کا لحاظ رکھتے ہیں۔ ان کے گرجوں اور دوسری عبادت گاہوں کی حفاظت کرتے ہیںمسلمانوں کی اس رواداری کی وجہ سے مسلمانوں اور عیسائیوں میں باہم اتنا اتحاد پیدا ہو گیا تھا کہ عیسائی اپنے جماعتی اختلافات کا فیصلہ بھی اسلامی عدالتوں سے کرتے تھے۔ پوپ گریگری ہفتم نے اپنے ہم مذہبوں کو اس پر بڑی ملامت کی تھی کہ وہ اپنے علماء اور پیشوائوں کی موجودگی میں اپنے معاملات کا فیصلہ مسلمان عدالتوں سے کراتے ہیں۔اسلامی تعلیمات میں جو کہا گیا ہے کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں اور مسلمانوں نے اس پر عمل کر کے دکھایا۔ اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ اس عظیم الشان رواداری اور صلح و آشتی کی وجہ سے جو مغلوب قوم کے ساتھ غالب قوم کے تمام اعمال میں نمایاں تھی مجوسی گروہ در گروہ اسلام قبول کرتے گئے اور نصرانیت کمزور پڑ گئی اور شمالی افریقہ سے تو بالکل ختم ہوگئی۔ حالانکہ عیسائیت کی طرح اسلام میں مبلغین کی ایسی جماعتیں نہ تھیں جن کا کام ہی اس کے احکام و تعلیمات کی اشاعت تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو اسلام کی حیرت انگیز ترقی یعنی اسلام کی اشاعت ان مبلغین کی کوششوں کا نتیجہ سمجھی جاتی۔شارلیمان لڑائیوں میں ہمیشہ عیسائی علماء و مشائخ کی جماعت ساتھ لے جاتا تھا تاکہ ان خونخوار فوجوں کے ذریعے جو قوموں کو تباہ کر ڈالتی تھیں۔ ملکوں کو فتح کرنے کے بعد مبلغین کی جماعت دلوں کو فتح کرے ۔ اس کے مقابلے میں اسلام کوئی عالم یا دینی مبلغ اسلامی فوج کے ساتھ نہیں جاتا تھا اور فتح کے بعد مفتوح علاقوں میں باقاعدہ تبلیغ نہیں کی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں کسی شخص کو تلوار یا زبان کے زور سے مسلمان نہیں بنایا گیا بلکہ وہ اپنی خوبیوں کی وجہ سے رضا و رغبت سے دلوں میں گھر کر لیتا تھااور یہ نتیجہ تھا قرآن مجید کی اثر آفرینی اور دلوں میں اس کے اتر جانے کا۔ ڈی کاسٹری کا بیان ہے جن لوگوں نے دلی میلان اور اخلاص و صدق دل سے اسلام قبول کیا (جاری)
ان کے مقابلے میں ان کی تعداد بہت کم ہے جو اپنے اغراض و فوائد کے لیے مسلمان ہوئے۔اس کے مقابلے میں جب غیر مسلم سلاطین کوئی ملک فتح کرتے تھے تو فاتح قوموں کے عقب سے مذہبی مبلغین کی فوجیں بھیجتے تھے جو مفتوحوں کے گھروں میں گھس کر ان کے مجمع میںجاکر ان کو فاتح دین قبول کرنے پر مجبور کرتے تھے ان کی دلیل صرف غلبہ اور قوت ہوتی تھی لیکن کسی مسلمان فاتح نے ایسا نہیں کیایوں تو ہر مسلمان مبلغ ہے اور اس پر اپنے مذہب کی تبلیغ فرض ہے لیکن مسلمان تنگ نظری سے بہت دور تھے۔وہ اپنے دشمنوں سے میل جول اور معاملات میں ان کے ساتھ حسن عمل کو تبلیغ کے لیے کافی سمجھتے تھے یعنی وہ اسلام کا عملی نمونہ پیش کرتے تھے جن سے متاثر ہو کر غیر مسلم اسلام قبول کرتے تھے۔ دنیا اس بات کی شاہد ہے کہ مسلمان جن قوموں کو مغلوب کرتے تھے ان کے ساتھ حسن و سلوک کو فضل و احسان تصور پورا اتحا د و اتفاق تھا ۔آج مسلمان اپنے کرتوتوں کی وجہ سے کمزور ہیں اس لیے ان پر ہر قسم کے الزامات لگ رہے ہیں اور بیچارے اپنی صفائی بھی پیش نہیں کرسکتے!