تم تو سچے ہو بات جھوٹی ہے

سراب دعوئوں کے صحرا میں عوام کو بھٹکانے کے ہنگام سیالکوٹ موٹر وے پر ہونے والے دلخراش واقعے میں ملوث مبینہ ملزمان کی تفصیل جاری کرتے ہوئے جس خوش کن لالی پاپ کو بیچنے کی کوشش حکومت پنجاب کی ٹاپ لیڈرشپ نے کی تھی اور ملزموں کی گرفتاری کے لئے 28ٹیموں کی فعالیت کے بلند آہنگ دعوے کئے تھے،ساتھ ہی ملزموں کے ڈی این اے میچ ہونے کے بعد ایک ملزم کے گھر چھاپہ مارنے کے دوران اس کے مع اپنی اہلیہ کے فرار کی داستان سنائی تھی،ان تمام واقعات سے تعمیر کردہ پنجاب حکومت کے تصوراتی محل کو گزشتہ روز ایک مبینہ ملزم نے از خود تھانے میں حاضر ہو کر واقعے کے ساتھ کسی تعلق نہ ہونے کے بیانئے اور متعلقہ سم کارڈ کے اپنے برادر نسبتی کے زیر استعمال ہونے کا دعویٰ کر کے دھڑام سے گرا کر چکنا چور کر دیا ہے دوسری جانب متاثرہ خاتون نے بھی از خود پولیس تھانے حاضر ہونے والے کی تصویر دیکھ کر اسے پہچاننے سے انکار کردیا ہے،یوں وہ ساری کہانی جو پنجاب پولیس اور وزیراعلیٰ سے لیکر متعلقہ وزیروں کی پریس کانفرنس میں بیان کی گئی از خود مشکوک ہوجاتی ہے تاہم جو سوشل میڈیا پر بعض اہم سوال اٹھائے جارہے ہیں ان پر غور کرنا تو بنتا ہی ہے کہ جب پولیس نے ملزموں کو گرفتار ہی نہیں کیا تو ان کے ڈی این اے ٹیسٹ میچ کیسے کر گئے؟پھر جس طرح مبینہ ملزموں کی تصویریں اوردیگر معلومات میڈیا پر پھیلائی گئیں ان سے بقول احسن اقبال اور دوسرے معترضین،ملزمان کو ہوشیار کیا گیا اور انہیں فرار کا موقع ملا۔ایک اور انتہائی خطرناک سوال بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے اور بعض افراد کے دعوئوں کے مطابق اس واقعہ میں خود متعلقہ یا قریبی تھانے کی پولیس ملوث ہوسکتی ہے کیونکہ خاتون نے صرف ایک دوست اور پولیس ہی کو فون کئے تھے،تو اتنی دور سے کیسے محولہ دو مبیہ ملزمان کو پتہ چلا کہ اتنی رات گئے ایک اکیلی خاتون موٹر وے پر مدد کیلئے پکار رہی ہے اگر اس الزام کو سوشل میڈیا پر دیگر چلنے والی بے سروپا کہانیوں کی طرح ہی کی کوئی کہانی سمجھ لیا جائے تب بھی یہ سوال تو اپنی جگہ بہرحال اہمیت رکھتا ہے کہ بناء ملزمان کو گرفتار کئے ان کے ڈی این اے کیسے میچ کر گئے،اور اگر ایسا درست بھی تسلیم کرلیا جائے تو وزیراعلیٰ پنجاب سے لیکر پولیس حکام تک اتنے اتائولے کیوں ہوئے جارہے تھے کہ ملزمان کی گرفتاری کے بغیر بڑبولوں کی طرح جلد بازی میں سارا کھیل ہی بگاڑدیا اوپر سے مبینہ ملزم وقار نے الزامات کی یہ ہانڈی بیچ چورا ہے کے پھوڑدی یعنی بقول عدم
ساقی مجھے شراب کی تہمت نہیں پسند
مجھ کو تری نگاہ کا الزام چاہیئے
وقارالحسن کی والدہ نے بھی کہا ہے کہ میرے بیٹے میں کوئی عیب ہوتا تو وہ پیش ہی نہ ہوتا،یہ بات درست ہی سہی لیکن دال میں کچھ کالا تو ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ مبینہ ملزمان پانچ پانچ موبائل سم استعمال کرتے رہتے ہیں،یعنی کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے کیونکہ مبینہ ملزم وقارالحسن نے تسلیم کیا ہے کہ مرکزی ملزم عابد سے مل کر پہلے وارداتیں کرتا تھا اب کوئی تعلق نہیں البتہ میرا سالا عباس اس کا دوست ہے اور اس کے ساتھ رابطے میں ہے،اب اس بدلتی صورتحال میں پنجاب حکومت کا نیا موقف کیا سامنے آتا ہے اس کیلئے بس تھوڑا سا انتظار کرنا پڑے گا تاہم دعا ہے کہ جوبدلا ہوا موقف سامنے آئے اس سے اعتراضات کے نئے دروانہ ہوجائیں اور معترضین یہ نہ کہیں کہ
کیا کروں میں یقین نہیں آتا
تم تو سچے ہو،بات جھوٹی ہے
ادھر ملک کے اندر ایک نئی بحث چل پڑی ہے،ایک جانب بعض غازیان سوشل میڈیا جہاں ملزمان تو سرعام پھانسی چڑھانے کے مطالبات کر رہے ہیں وہیں چند ایک آوازیں اس قسم کی وارداتوں میں ملوث افراد کے جسم کے نازک حصے کاٹنے ،ایک ہاتھ ایک پائوں کاٹ کر نشان عبرت بنانے وغیرہ کے حوالے سے اٹھ رہی ہیں،سرعام پھانسی چڑھانے والے سابق آمر جنرل ضیاء الحق کے دور میں اس قسم کے ایک واقعے میں ملوث شخص کو شہر کے چوک میں نہ صرف پھانسی دینے بلکہ اس کی لاش تین روز تک اسی جگہ لٹکائے رکھنے کا حوالہ دے رہے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں اس قسم کی وارداتوں کے ختم ہونے اور عرصہ دراز تک کسی کو بھی دوبارہ جرأت نہ ہونے کی اطلاعات تاریخ کا حصہ ہیں تاہم جہاں تک جسم کے نازک حصے کاٹنے کا تعلق ہے تو اس حوالے سے نہ صرف اسلامی نظریاتی کونسل اور جید علمائے کرام اور مفتیان عظام کی رائے لینی پڑے گی بلکہ قانون سازی بھی لازمی ہوگی البتہ ایک ہاتھ اور پائوں کاٹنے کی سزا تو چوروں کیلئے اسلام نے مقرر کی ہے ،یعنی اس ساری صورتحال میں اسلامی نقطہ نظر سے اجتہاد کی ضرورت پڑے گی کیونکہ سرعام پھانسی کی سزا کے حوالے سے کابینہ کے اندر بھی اتفاق رائے کا فقدان دکھائی دیتا ہے کہ جو لوگ اس سزا کے حق میں بول رہے ہیں ان پر اعتراض کرتے ہوئے وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے ان کی سوچ کو متشددانہ قرار دے دیا ہے ،بہرحال یہ ایک لمبی بحث ہے اور موجودہ حالات میں جبکہ عالمی سطح پر اس قسم کی سزائوں پر شدید مخالفانہ ردعمل سامنے آسکتا ہے،ہمیں نہایت احتیاط سے کام لینا ہوگا۔لیکن اس قسم کی بحث میں پڑنے سے ملزموں کے مبینہ جرم کی نوعیت کم نہیں ہوتی اور انہیں بہرحال قانون کے مطابق سزا دینا لازمی ہے،
یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا