پشاور یونیورسٹی میں کلاس تھری، کلاس فورکے ملازمین تنخواہوں کیلئے رول گئے

ویب ڈیسک (پشاور): پشاور یونیورسٹی میں کلاس تھری، کلاس فورملازمین اپنی تنخواہوں کے لئے دربدر، بارہ اور پندرہ پندرہ سال سے کنٹریکٹ ملازمین کی رہی سہی تنخواہیں بھی پچھلے 3 مہینوں سے بند گھروں میں فاقے ہیں، اگر ہمارے جائز مطالبات نہیں مانے گئے تو آج بروز منگل 15/9/2020 سے بھوک ہڑتال شروع کی جائے گی، ان خیالات کا اظہار پشاور یونیورسٹی کنٹریکٹ ملازمین کے صدر الطاف خان نے آج ایڈمنسٹریشن بلاک لان یونیورسٹی آف پشاور میں احتجاجی مظاہرے سے کی انکا کہنا تھا کہ ہمارے جائز مطالبات ہیں، مگر یونیورسٹی انتظامیہ بارہ سالوں سے ٹال مٹول کررہی ہے، اگر مزید اسی طرح ہمارے جائز مطالبات نہیں مانے گئے تو تمام ملازمین بھوک ہڑتال شروع کرینگے، جس کے جو بھی نتائج سامنے آئے یونیورسٹی انتظامیہ ذمہ دار ہوگی، انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے جائز مطالبات کے لیے عدالت سے رجوع کیا جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے رہی سہی تنخواہ بھی 3 مہینوں سے بند کردی ہے، جس سے ملازمین کے گھروں میں فاقے پڑ گئے جبکہ یونیورسٹی تنخواہ کے علاوہ ہمارا کوئی چارہ نہیں، جبکہ یونیورسٹی کو ایچ ای سی سے بھاری بھرکم فنڈز بھی ملتے ہیں اور ایچ ای سی کی طرف سے سیٹیں بھی دی گئی ہیں، گزشتہ کئی سالوں سے مسلسل بین تھا جبکہ اب بین اٹھایا جا چکا ہے، اسی لیے ہم وائس چانسلر یونیورسٹی آف پشاور گورنر کے پی کے وزیر اعلیٰ کے پی کے اور وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان سے گزارش کرتے ہیں کہ بارہ اور پندرہ پندرہ سال سے کم بیش چھ سو کنٹریکٹ ملازمین کے تنخواہوں کو بحال کرکے انکو بنیادی سکیل پے پرمننٹ کیا جائے۔