جذباتی قوم سستے مشورے وقتی علاج

عجیب جذباتی قوم ہے، مذہب وعقیدے، سیاست وسماجیات اور قانون کی بالادستی سمیت ہر معاملے میں سنجیدگی سے طویل المدتی حکمت عملی اپنانے اور اصلاح معاشرہ کے بنیادی تقاضوں کو نظرانداز کر کے وقتی طور پر اقدام اُٹھانے کو ہی حل سمجھتی ہے۔ ارے بھائی! سماج جذباتی فیصلوں، نعروں اور سنگین سزاؤں سے نہیں حسن اخلاق عصری تقاضوں سے عبارت نصاب تعلیم، قانون کی بلاامتیازبالادستی اور سزا وجزا کیساتھ اصلاح معاشرہ کے اس عمل سے آگے بڑھتا پھلتا پھولتا ہے، ورنہ تو جنگل بھی پھل پھول رہے ہوتے ہیں اور جھاڑ جھنکار بھی۔ کسی سنگین واقعہ کے بعد سرعام پھانسی لگادو کا سستا نعرہ ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوتا ہے، لاہور سیالکوٹ موٹروے پر ہوئے حالیہ افسوسناک واقعہ کے بعد نئی تجویز آگئی ”زیادتی کے مرتکب مجرم کو جنسی صلاحیت سے محروم کر دیا جائے” فیصل واوڈا یہ دور کی کوڑی لائے تھے، وزیراعظم بھی اس تجویز کے حامی ہیں۔ بسم اللہ کیجئے اس وقت ملک بھر میں زیادتی کے جتنے کیسز ہیں ان میں سے نصف کے قریب مجرموں کو سرعام پھانسی لگا دیں اور نصف کو نئی تجویز کے مطابق جنسی صلاحیت سے محروم کردیں، دیکھتے ہیں جرم رُک جائے گا۔ آپ اس معاملے کو یوں سمجھنے کی کوشش کیجئے، لاہور سیالکوٹ موٹروے کے افسوسناک واقعہ کے بعد جب پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا، عوامی حلقے سبھی ہم آواز اور احتجاج کر رہے تھے تب کیا افسوسناک واقعات رُک گئے؟ جی نہیں چاروں صوبوں میں سے کسی ایک کے آئی جی پولیس سے دریافت کر لیجئے کہ پچھلے ایک ہفتہ کے دوران اس جرم کے کتنے مقدمات درج ہوئے جو جواب ملے اس کی بنیاد پر رائے قائم کیجئے گا۔
آپ پچھلے 8ماہ کے دوران چاروں صوبوں میں زیادتی کے درج ہونے والے مقدمات میں نامزد ملزمان اور موقع پر پکڑے گئے مجرموں کے اعداد وشمار ترتیب دے کر دیکھ لیجئے یہ لادین لادین کا شور مچانے والے نہ صرف اس جرم کو کچھ نہیں سمجھتے بلکہ مجرموں کی پشت پناہی بھی کرتے ہیں۔ مسئلہ دین اور لادینت نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ حکومتوں اور سماج سدھاروں نے اصلاح معاشرہ کیلئے پچھلے 73 برسوں کے دوران منظم انداز میں کام کیا نہ ایسے اقدامات کئے جن سے اصلاح احوال میں مدد ملتی۔ ہماری دانست میں اب ان کاموں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ نظام تفتیش کو جدید انداز میں منظم کیا جائے، نصاب تعلیم میں جنسی ہراسگی کا مضمون شامل کیا جائے، معاشرہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے فرائض ادا کرے، تمہید طویل ہوگئی لیکن یہ معروضات آپ کی خدمت میں اس لئے پیش کرنا ضروری تھیں کہ جذباتیت اصلاح احوال کی ضمانت ہوتی ہے نا دوررس نتائج دیتی ہے۔ حکمت عملی فرض کی ادائیگی گھریلوں ودر سگاہوں کی تربیت اور دیگر ضروری امور کو نظرانداز کر کے آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ پاکستان میں چار مارشل لاء لگے ان میں سے تین میں باقاعدہ فوجی عدالتیں تھیں، سخت سزاؤں کے قوانین تھے یہاں تک کہ سرعام پھانسیوں (پپوکیس میں) اور کوڑے مارے گئے تو کیا اصلاح ہوگئی؟ جی نہیں یہ سب درشنی اقدامات تھے، وقتی خوف تو ممکن ہے پیدا ہو لیکن چونکہ حکمت عملی اور اصلاح کا جذبہ نہیں تھا اس لئے طویل المدتی نتائج نہیں ملے۔
ہمیں یہ بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ لاہور کے حالیہ واقعہ کے بعد پنجاب پولیس نے جہاں کچھ مؤثر کام کئے وہیں روایتی حماقتیں بھی سرزد ہوئیں۔ مثلاً پولیس نے ابتدائی طور پر جن دو افراد کو مجرم ٹھہرایا ان کے کوائف کی تشہیر درست نہیں تھی۔ ایک مبینہ ملزم کا قصور صرف اتنا نکلا کہ اس کے نام پر جاری فون سم اس کا برادر نسبتی استعمال کرتا تھا۔ گرفتاری (اس ملزم نے خود گرفتاری دی) سے قبل کیوں اسے مرکزی ملزم بتا دیا گیا؟ سی سی پی او لاہور اپنے متنازعہ بیان پر معذرت کر چکے لیکن کیا معذرت کافی ہے۔ پنجاب پولیس نے پچھلے پانچ سات دنوں کے دوران اسی نوعیت کے درج ہونے والے چند دیگر مقدمات میں فرض شناسی کا مظاہرہ کیوں نہیں کیا۔ اب تک اس سوال کو کیوں نظرانداز کیا جارہا ہے کہ موٹروے لنک روڈ پر اور پھر خود موٹروے کے ٹال پلازہ سے آگے محفوظ سفر کیلئے ضروری اقدامات کیوں نہیں تھے؟ محض یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ مجرم واردات والے علاقے میں جرم کی نیت سے موجود تھے۔ سوال یہ ہے کہ اگر بقول پولیس وہ دو تین مقامات پر رکشہ کر کے پہنچے تو جائے واردات پر کیسے پہنچ پائے کیونکہ موٹروے پر موٹر سائیکل اور رکشہ دونوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ مرکزی ملزم عابد تک پولیس کے چھاپے کی اطلاع قبل ازوقت کیسے پہنچی؟ کیا وزیراعلیٰ یا کوئی دوسرا ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کیلئے خصوصی انکوائری کمیٹی بنانے کا ارادہ رکھتا ہے؟ یہ طے ہے کہ جرم ہوا اور یہ سنگین بلکہ بدترین جرم تھا، اب آگے کیا کرنا ہے جذباتی نعروں اور مطالبات کی پذیرائی یا مستقل بنیادوں پر ایسے اقدامات جو ان واقعات کی روک تھام میں معاون بن سکیں۔ بہت احترام کیساتھ مکرر عرض ہے کہ جذباتیت مسائل کا حل ہے ناانصاف کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے۔ قانون کی حاکمیت نصاب تعلیم اور اصلاح معاشرہ کے دیگر تقاضوں پر عمل کیلئے مؤثر حکمت عملی وضح کیجئے۔ جن مقدمات میں متاثرہ فریق کمزور ہو ریاست اس کی وارث بن کر ساتھ کھڑی ہو تاکہ مجرم سزا سے نہ بچ سکیں، اُمید ہے ان نکات پر بھی توجہ دی جائے گی۔