زیادتی کے مجرموں کو سخت سزادلوانےکیلئے بل کی تیاری پرکام ہورہاہے،ایف اےٹی ایف کےتناظرمیں قانون سازی ضروری تھی- وزیراعظم

ویب ڈیسک(اسلام آباد): پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس،وزیراعظم عمران خان کا خطاب

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپنےاتحادیوں اورپارٹی ارکان کاشکریہ اداکرتاہوں،اہم قانون سازی پر تمام اتحادیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں .

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ موٹروے واقعے پر پورا ملک ہل گیا، ہمیں ایسی قانون سازی کرنی چاہیے جس سے بچوں اور خواتین کو تحفظ ملے، ایسےواقعات کی روک تھام کےلیےقانون سازی ضروری ہے،بچوں سےزیادتی ہویاخواتین سےاس کوروکنےکیلئے ہمیں سخت اقدامات کرناہوں گے،متاثرہ لوگ ایسےواقعات سےگزرنےکےبعدہمیشہ تکلیف میں رہتےہیں،پولیسنگ کےنظام کوبہترکرنےکی ضرورت ہے.

ان کا کہنا تھا کہ ملزم عابدپہلےسےبھی گینگ ریپ میں ملوث رہا،پہلی بارجرم کےبعدعابدکوسخت سزانہیں ملی،نہ جانےملزم عابدنےکتنےجرائم کیےہوں جورپورٹ نہیں ہوئے،زیادتی واقعات میں مجرموں کوسزادلوانےکیلئے بل کی تیاری پرکام ہورہاہے،ایسی سزاہونی چاہیےکہ مجرم کونتائج کاخوف ہو.

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ایف اےٹی ایف گرےلسٹ میں موجودہ حکومت کی وجہ سےنہیں گیا،ایف اےٹی ایف کےتناظرمیں قانون سازی ضروری تھی،سابقہ حکومتوں کی وجہ سےپاکستان گرےلسٹ میں گیا،خدانخواستہ بلیک لسٹ میں جوملک چلاجاتاہےتوبہت مشکلات سےگزرناپڑتاہے،بلیک لسٹ ہونےسےمعیشت تباہ ہوجاتی ہے،سابقہ حکومتوں میں پاکستان گرے لسٹ میں گیا.

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں تو امید لگا رہا تھا کہ اپوزیشن آج ہماری تعریف کرے گی،جمہوری دورمیں جوعوامی مفادکی حفاظت کرتےہیں انہیں سراہاجاتاہے،اپوزیشن نے فیٹف قانون سازی کی آڑمیں ذاتی مفادکوترجیح دینےکی کوشش کی،اپوزیشن رہنماوَں اور پاکستان کے مفادات میں تضاد ہے، ملکی مفادکےلیےان کوفکرنہیں،ہمیشہ ذاتی مفادکوترجیح دی ہے،اپوزیشن کی جانب سےنیب قانون میں 34ترامیم کی تجویزکامقصدنیب کودفن کرناتھا،ایف اےٹی ایف بل کوکرپشن بچانےکےلیے استعمال کیاگیا.