عدم ادائیگی،طلبہ کے تعلیم سے محروم رہ جانے کا خدشہ

کورونا وباء کی آمد پر تعلیمی اداروں کی طویل بندش کے بعد مرحلہ وار کلاسوں کا آغاز جن احتیاطی تدابیر کیساتھ کیا گیا اور ان پر عملدرآمد کے حوالے سے جو اقدامات وانتظامات کئے گئے ہیں مختلف سطح پر جو ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں ان پر عملدرآمد کی صورتحال فوج کے زیر انتظام تعلیمی اداروں کے علاوہ بمشکل ہی ممکن ہوگی۔ عدم تعاون اور عدم احتیاط کی جو صورتحال کورونا وباء کے دوران معاشرے میں رہی اس کا اعادہ تعلیمی اداروں میں ہونا عجب نہ ہوگا۔بہرحال ان پر عملدرآمد منتظمین وحکومت کی مشترکہ ذمہ داری ہے محکمہ تعلیم وصحت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان احتیاطی تدابیر کو اختیار کرانے میں اپنا کردار ادا کریں جملہ احتیاطی تدابیر میں ماسک کا استعمال یقینی بنانا ہی ممکن نظر آتا ہے جس کی سختی سے کلاس اور کلاس سے باہر کروائی جاسکے تو غنیمت ہوگی سکولوں اور کالجوں کے کھلنے پر چھ ماہ سے فیسیں جمع نہ کراسکنے والے والدین خاص طور پر پریشانی کا شکار ہیں، نجی سکول مالکان سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ خود متاثرہونے کے باوجود فیسوں میں ایک خاص شرح سے زیادہ کی رعایت دے سکیں بہرحال فیسوں میںجس رعایت کا عدالت نے حکم دیا ہے سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کی ذمہ داری اورامتحان ہے کہ وہ اس پر عملدرآمد کروائے یہ مالکان کی بھی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ مقررہ رعایت دینے میں تامل نہ کریں۔ ہمیں خدشہ ہے کہ فیسوں کی ادائیگی نہ ہونے سے بہت بڑی تعداد میں بچے خدانخواستہ مزید تعلیم سے محروم رہ سکتے ہیں، حکومت کو اس امر کا بطور خاص جائزہ لینے اور اس حوالے سے طلبہ کی فیسوں کی ادائیگی میں ان کی مدد کا کوئی راستہ تلاش کرنا چاہئے اس حوالے سے اگر مخیر حضرات سے اپیل کی جائے غیر سرکاری فلاحی تنظیمیں اس میں حصہ ڈالیں اور حکومت بھی اس کا انتظار کرنے کیساتھ ساتھ رقم کی فراہمی کا بندوبست کرے تو بہت سے طالب علموں کو تعلیم سے محروم ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔
فنی تعلیم کے فروغ کے سنجیدہ اقدامات
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے پشاور میں دو مختلف مقامات پر گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ اور گورنمنٹ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل سنٹر کے قیام کی طرف عملی اقدامات کی ہدایت کرکے صوبے میں فنی تعلیم کی ضرورت واہمیت اور نوجوانوں کو خود روزگار کے قابل بنانے کے ضمن میں اچھی سعی کی ہے جس کے مثبت نتائج اظہر من الشمس ہیں۔ مجوزہ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل سنٹر میں مرد و خواتین دونوں کیلئے علیٰحدہ علیٰحدہ فنی و پیشہ ورانہ تعلیم وتربیت کی سہولت میسر ہو گی۔رشکئی صنعتی زون کے قیام اور بڑھتی ہوئی صنعتی ترقی کے تناظر میں ٹیکنیکل اور پیشہ ورانہ تعلیم کے اداروں کا قیام نا گزیر ہے۔صوبے میں صنعتوں کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کر کے مقامی کارخانوں کو چلانے اور نئے لگنے والی فیکٹریوں کیلئے ہنر مندافراد کی کھیپ تیار کرنا وقت کی ضرورت ہے جس سے نہ صرف صنعتوں کی تربیت یافتہ افراد کے حوالے سے ضروریات پوری ہوں گی بلکہ صوبے میں روزگار کے فروغ میں بھی خاطر خواہ مدد ملے گی ۔
بی آرٹی کامیابی اور ناکامیاں
ایک ماہ میں تیس لاکھ مسافروں کو منزل مقصود تک پہنچانے ،ساڑھے چار لاکھ شہریوں کا زو کارڈ حاصل کرنا نئی بس سسٹم کی کامیابی ہے تو دوسری جانب ایک ماہ کے دوران چھ حادثات آتشزدگی اور بسیں خراب ہونے کے واقعات کسی بہتری کی نہیں ابتداء ہی میں ناقص معیار اور غیر محفوظ سفر کے تاثر کیلئے کافی ہیں۔ بی آرٹی کی فیڈر روٹ پر چلنے والی بس کی بریک لگنے پر آوازیں آنے لگی ہیں جو ڈرائیوروں کی مہارت پر سوال ہو نہ ہو بس کی روانگی کے وقت بھی گیئر کی آواز آنا ان کی مہارت پر سوال ضرور ہے۔بریک لیدر کے خشک ہونے سے اگر بریک لگنے کی آوازیں پہلے ہی مہینے آنے لگیں تو سال بعد کیا ہوگا اور بسیں اگر کاریڈور پر آئے روز خراب ہونے لگیں تو بعد میں کیا عالم ہوگا، یہ سب کچھ خدشات ہو سکتی ہیں لیکن یہ خدشات بے سبب نہیں بلکہ کمپنی کو ان وجوہات کا جائزہ لیکر نہ صرف ان کو دور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ مسافروں کو بھی اس سے آگاہ کر کے اعتماد کی فضا پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔بی آرٹی میں تل دھرنے کو جگہ نہ ہونے کے باوجود مسافروں کی دلچسپی میں کمی نہ آنے کی بڑی وجہ وہ تلخ تجربات ہیں جو پشاور کی پبلک ٹرانسپورٹ کے مسافروں نے برداشت کئے اور اب تک وہ ان کے حافظہ پر موجود ہیں، جب دھیرے دھیرے ان تلخ تجربات کی تلخی دھندلی ہوتی جائے گی تو پھر بی آرٹی کی کارکردگی پر بھی سوالات اُٹھنا شروع ہو جائیں گی۔ محاسن ہی محاسن بیان کرنے کی کیفیت نہیں رہے گی ٹرانس پشاور کے دعوے کی روشنی میں سوال کیا جا سکتا ہے کہ جب مسافروں نے اتنی دلچسپی دکھائی تو کمپنی اپنے صارفین کی سہولت کیلئے بسوں کی تعداد میں اضافہ کیوں نہیں کررہی ہے، بہت سے نقائص بار بار سامنے آنے کے باوجود کمپنی کا اس حوالے سے سردمہری کا رویہ اسے روایتی ٹرانسپورٹ سروس میں تبدیل کر دے گی جس سے بچنے کیلئے کمپنی بروقت قدم اُٹھائے اور ایسی فضا پیدا نہ ہونے دے کہ لوگ بی آرٹی کو بھی پہلے کی پبلک ٹرانسپورٹ کے مماثل گرداننے لگیں۔