قوانین مؤثر بنانے کی ضرورت

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ ملک میں ریپ اور بچوں سے جنسی زیادتی کے مجرموں کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کے حامی ہیں اور اس سلسلے میں تازہ قانون سازی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قتل کی طرح قانون میں جنسی جرائم کی بھی درجہ بندی ہونی چاہیے اور ریپ کے مجرموںکوجنسی طور پر ناکارہ بنا دیا جانا چاہیے۔ قبل ازیں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی یکم جولائی کو متفقہ طور ایک ترمیمی بل منظور کیا تھا جس میں بچوں سے ریپ کے مرتکب مجرموں کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کی سزا سمیت دیگر سخت سزائوں کی منظوری دے چکی ہے۔دریں اثناء وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا ہے کہ اگر مرد اپنے آپ کو قابو نہیں کر سکتے تو انہیں گھروں میں بند کر دیا جائے، ہمیں سزائے موت پر بھی سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔ شیریں مزار ی نے کہا کہ بہت سے ممالک میں موت کی سزا دی گئی مگر جرائم نہیں رکے۔ بعض ممالک میں کیمیائی مواد سے نامرد کر دئیے جانے کی سزا نافذ ہے، ڈیٹا نکلوا لیں دنیا میں کہاں کہاں ایسے واقعات کی کیا سزا ہے ؟ ۔ممتاز عالم دین مولانا تقی عثمانی نے بھی شریعت میں حاکم وقت کو خصوصی جرائم پر خاص قسم کی سزا دینے کی گنجائش کی بات کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اسلام میں اس طرح کی سزائوں کا تصور موجود ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ قانون کس قدر سخت اور کڑا رکھا جائے اصل بات قوانین پر عملدرآمد کی ہے۔ عمومی قوانین موجود ہیں مگر اس پر عملدرآمد کی کیا صورتحال ہے پھر عدالت کا پیچیدہ نظام اور شہادت کا طریقہ کار ہے۔ ساہیوال میں دن دیہاڑے قانون کی وردی میں ملبوس افراد نے ایک پورے خاندان کو قتل کر ڈالا، کوئٹہ میں ایک ایم پی اے نے پولیس اہلکار کو گاڑی کی ٹکر سے مارڈالا اور بھی درجنوں واقعات کی مثالیں دی جاسکتی ہیں سوال یہ ہے کہ کیا ان واقعات کے ذمہ دار عناصر کو سزا ملی؟ اگر جواب نفی میں ہے تو سخت سے سخت سزائیں تجویز کرنے سے کیا حاصل ہوگا۔ پھر ان سزائوں پر عملدرآمد میں جہاں ملکی نظام رکاوٹ ہووہاں بین الاقوامی دنیا بھی مزاحم تجارتی ومعاشی تعلقات پائوں کی بیڑیاں بنی ہوں تو قانون سازی سے بڑھ کر اس پر عملدرآمد کا سوال اُٹھتا ہے ۔ہمارے تئیں سخت قانون سازی کیساتھ ساتھ قانونی شہادت میں تبدیلی،ویڈیو کو بطور شہادت تسلیم کرنے جیسے امورضروری ہیں لیکن اس سے قبل اگر ہم مروجہ قوانین کاجائزہ لیں جزاء وسزا انصاف کے نظام اور پولیس تفتیش ومقدمات کو آگے بڑھانے کے عمل کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ملک میں سزاء وجزاء پرعملدرآمد کا نظام ہی کمزور نہیں اس پر عملدرآمد کا معاملہ بھی مایوس کن ہے۔ سخت سزائوں کی وکالت اس وقت ہی کی جاسکتی ہے جب مروجہ قوانین پر حقیقی عملدرآمد کے باوجود یہ غیر مئوثر ثابت ہوں۔حالیہ واقعہ کے ملزموں کا ریکارڈ دیکھا جائے تو ملزمان عادی وارداتئے ہیں جو بار بار پکڑے گئے اور رہا ہوتے گئے۔ اگر ان ملزمان کو ان کے کئے کی قرار واقعی سزا مل جاتی تو وہ ایک کے بعد دوسرا جرم شاید ہی کر پاتے۔وزیراعظم نے جس قسم کی سخت سزائوں کے حامی ہونے کا عندیہ دیا ہے اگر اس درجے کی سزائیں بوجوہ ممکن نہیں تو اس سے کم درجے کی سزائیں عمر قید اور جو بھی سزاء ہو اس حوالے سے قانون سازی کی جائے اس سے قبل گرفتار ملزمان کو مروجہ قانون کے تحت سخت سے سخت سزائیں دی جائیں، معاشرے میں سزائوں سے قانون کا خوف دلانے سے قبل اگر اپنے کئے کی سزا ہر حال میں پانے کو یقینی بنایا جائے تو جرائم میں کمی ممکن ہوگی صرف محفوظ قسم کے واقعات ہی قوانین پر عملدرآمد کیلئے نہ چنے جائیں بلکہ ہر خلاف قانون کام پر سزا دینے کو یقینی بنا کر ملک میں قانون کی حکمرانی کویقینی بنایا جائے تو اس طرح کے واقعات کا تدارک تو شاید نہ ہو لیکن اس میں کمی ضرور آسکتی ہے۔