کوئی اور حکم سرکار؟

کشمیر کی خوبصورت وادی کو مسلح تحریک کی آگ میں جھلستے ہوئے تین عشرے ہوگئے ہیں اور اب بھی دور دور تک یہ امکان دکھائی نہیں دیتا کہ یہ آگ ان لوگوں کیلئے ”نارِنمرود” کی صورت گل وگلزار بنے گی۔ تیس برس میں کشمیری قدم قدم پر اپنی بے چینی اور اضطراب کا اظہار کرتے رہے اور دنیا نے اس بے چینی کو ختم کرنے کی نیم دلانہ کوششیں کیں۔ ایسے مختلف حل سوچ کر تراشے گئے جن سے برصغیر کے امن کو لاحق یہ ”کورونا” قابو میں آئے۔ ایک طرف لوگوں کے جذبات اور مطالبات کی تشفی ہو تو دوسری طرف پاکستان اور بھارت دونوں جیت کے احساس کیساتھ سرفراز رہیں اور کسی کے دامن اور کلاہ پر شکست کے احسا س کا کوئی چھینٹا کوئی داغ لگنے نہ پائے۔ اس عرصے میں پاکستان اور بھارت چند قدم پیچھے ہٹتے بھی محسوس ہوئے اور ان کے درمیان جاری کشیدگی کا گراف کم بھی ہوتا گیا مگر جس ایک نکتے میں تسلسل موجود رہا وہ تھا وادیٔ کشمیر میں بلند ہونے والا نعرۂ آزادی۔ کشمیریوں کے اضطراب اور خواہش کی چنگاری بجھنے نہ پائی۔ اس سلگتی ہوئی چنگاری نے جہاں پاکستان کو کمبل سے جان چھڑا کر بھاگنے دیا نہ دونوں ملکوں کو باہم بغل گیر اور شیر وشکر ہونے دیا وہیں اس خطے کو دنیا کی نظروں سے قطعی اوجھل بھی نہ ہونے دیا۔ پاکستان کیلئے یہ ممکن نہ رہا کہ وہ کشمیریوں کی کشتی کو بیچ منجدھار میں چھوڑ کر چلا جائے کیونکہ یہ انا کا سوال تھا اور بھارت کیلئے بھی یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ اپنی انا کی قلغی یوں کاٹ کر پھینک دے۔ انا، اضطراب، کشمکش اور کشاکش کا یہ سفر مدتوں جاری رہا اور اس کے صرف تین فریق جانے مانے تھے۔ کشمیری جو وجہِ نزع تھے اور اکھاڑے کی گھاس تھے یا پھر پاکستان وبھارت جو اپنے اپنے زاویۂ نگاہ سے دنگل جاری رکھے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ آخری چارۂ کار کے طور پر نریندر مودی نے اپنی انفردایت پسندی کے زعم میں اس سارے قضئے کے حل کا آسان نسخہ ڈھونڈ لیا۔ وہ تھا کشمیر کو ہر قسم کی آزادیوں اور سہولتوں سے محروم کرکے تالہ بند کر دینا۔ اس ایک قدم اس ایک سوچ نے مسئلے کی نوعیت ہی بدل کر رکھ دی۔ یوں لگا کہ ”یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے” کے مصداق چین کو بھارت کے مدمقابل کرنے کے اسی لمحے کی خاطر کشمیریوں نے اپنے جذبات کی آگ کو دہکتا اور چنگاری کو سلگتے رکھا تھا۔ اب سال بھر سے دنیا کی اُبھرتی ہوئی عالمی طاقت چین اور بھارت آمنے سامنے ہیں اور کشمیری ”کوئی اور حکم” کے سے انداز میں اس منظر سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ وہ جنہیں ایک محدود سی گھاٹی میں بند چھوٹی سی آبادی ایک منفرد اور مخصوص زبان وکلچر اور سیلف سینٹرڈ جیسا کوئی متروکِ زمانہ مگر نادر اور نایاب ”ڈیکوریشن پیس” جان کر پنڈت نہرو نے سیکولر جمہوریہ کی الماری میں سجایا تھا تین ایٹمی طاقتوں کے درمیان ایک ”ٹائم بم” بن کر رہ گیا ہے۔ ڈیکوریشن پیس سے ٹائم بم کا یہ سفر بہت مشکل، مصیبتوں بھرا اور آبلہ پائی کا حامل رہا اور اس کی بھاری قیمت ادا کی گئی۔ چین اور بھارت کے تعلقات بہتر برس سے پیچیدہ تھے تو گزشة برس پانچ اگست کے بعد سے پیچیدہ تر ہوکر رہ گئے ہیں۔ خود چین نے تسلیم کیا بھارت کیساتھ اس کی کشیدگی کی موجودہ لہر کی وجہ چین کی سلامتی کیلئے خطرہ بننے والا پانچ اگست کا فیصلہ ہے۔ حالیہ ماسکو اجلاس میں چین اور بھارت کے تعلقات کی جس زلفِ پریشاں کے سلجھنے کی اُمید تھی اس کا ماحاصل پانچ نکات ہیں، جن میں امن کی ضرورت کے احساس، امن کی منزل تک پہنچنے کے عزم کے اظہار، سرحدوں کے احترام، کشیدگی پیدا کرنے سے اجتناب سمیت ہر بات پر بات کی گئی مگر قیام امن کیلئے ”میکینزم” موجود نہیں۔ خود بھارتی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ چین کا وعدۂ فردا ہے۔ ایسے درجنوں وعدے پچھلی دہائیوں میں بھارت پاکستان سے کرچکا ہے۔ ماسکو میں چینی وزیرخارجہ وانگ ژی اور بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے درمیان وفود کی سطح پر ہونے والی ملاقات میں پانچ نکات پر اتفاق ہوا مگر اس میں ایک بات کا ذکر نہیں کہ چین اپریل سے پہلے کی پوزیشن پر چلا جائے گا یعنی وہ ایک ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ خالی کرے گا جس پر اپریل میں پیپلزلبریشن آرمی نے قبضہ کیا تھا۔ گویا لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر ”سٹیٹس کو” کا معاملہ اس معاہدے سے غائب ہے۔ معاہدے کے نکات یوں ہیں کہ سرحدی دستے مذاکرات جاری رکھیں گے فوجی فوری طور پر سرحد سے دور ہوں گے اور مناسب فاصلہ رکھیں گے، فریقین سرحدی امور پر موجود معاہدوں اور آداب کی پاسداری کریں گے۔ سرحدی علاقوں میں امن وامان برقرار رکھیں گے ایسا عمل نہیں کرینگے جس سے اختلافات کو بڑھاوا ملے۔ اس معاہدے پر بھارت کی سابق سیکرٹری خارجہ نرومپاراؤ کا تبصرہ صائب مانا جانا چاہئے جو کہتی ہیں کہ ”اس معاہدے میں سٹیٹس کو کی بحالی کا ذکر ہی نہیں چین اپنے اس مطالبے پر قائم ہے کہ پورا اورناچل پردیش اس کا ہے ایسے میں بھارت کی قومی سلامتی کیلئے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں” ماسکو میں ایک دیرپا اور پائیدار امن معاہدے کی اُمید کا چراغ جلنے سے پہلے ہی بجھ جانے پر کشمیر وادی کے عوام بلاشبہ کہہ سکتے ہیں کہ ایشیا کے امن کیلئے کوئی اور خدمت؟ کوئی اور حکم سرکار؟۔