انگریزکی غلامی کاذہن اور سوچ کوتبدیل کرناہوگا، کرپٹ لوگوں سے پیسہ نکلوا کر تعلیم پر خرچ کرنے کیلئے قانون سازی کا سوچ رہے ہیں-وزیراعظم

ویب ڈیسک(ہری پور): وزیراعظم عمران خان نے پاک آسٹریا فیکوچ شول انسٹیٹیوٹ کا افتتاح کر دیا

وزیراعظم عمران خان کا ہری پور میں تقریب سے خطاب، ان کا کہنا تھا کہ انگریز سائنسدان بن سکتے ہیں ہمارے لوگ کیوں نہیں،ہم کیوں کچھ نہیں کرسکتے کیونکہ ہم کاپی کرتے ہیں،انگریزکی غلامی کاذہن اور سوچ کوتبدیل کرناہوگا.

وزیراعظم نے کہا کہ کوشش اللہ نے انسان کے ہاتھ میں رکھی ہے،کامیابی اللہ دیتا ہے،علامہ اقبال نے جو خواب دیکھا تھا ہم اس راستے سے بہت دور نکل گئے ہیں،جب ہمارا ملک بنا ہمیں اسی وقت اس راستے پر چلنا چاہیے تھا،ہم کوئی غلام نہیں بننا چاہتے،ہم ایجاد کرنا چاہتے ہیں.

عمران خان نے کہا کہ ہر شعبے میں آگے بڑھنے کی صلاحیت ہے،سوچ کو بہتر کرنا ہوگا،ٹیکنالوجی اور تعلیم سے وہ راستہ آئے گا،جہاں سے بھی پیسہ بچے گا ہم اس کو بھی تعلیم میں ڈالیں گےکرپٹ لوگوں سے پیسہ نکلوا کر تعلیم پر خرچ کرنے کیلئے قانون سازی کا سوچ رہے ہیں،یہ تاثر غلط ہے کہ مغرب ترقی کر سکتا ہے ہم نہیں،دنیا ٹیکنالوجی اور ترقی کی طرف نکل چکی ہے.

ان کا کہنا تھا کہ ہم خود مختار لوگ ہیں اور خود کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں، پاکستان میں نوجوانوں کی شرح زیادہ اور ترقی بھی ممکن ہے، بگ ڈیٹا، مصنوعی انٹیلی جنس اور دیگر ٹیکنالوجی سے مدد لینی چاہیے، ہمیں اپنےذہنوں کو آزاد کر کے ترقی کا راستہ اپنانا ہوگا.

ویب ڈیسک(ہری پور): وزیراعظم عمران خان نے پاک آسٹریا فیکوچ شول انسٹیٹیوٹ کا افتتاح کر دیا

وزیراعظم عمران خان کا ہری پور میں تقریب سے خطاب، ان کا کہنا تھا کہ انگریز سائنسدان بن سکتے ہیں ہمارے لوگ کیوں نہیں،ہم کیوں کچھ نہیں کرسکتے کیونکہ ہم کاپی کرتے ہیں،انگریزکی غلامی کاذہن اور سوچ کوتبدیل کرناہوگا.

وزیراعظم نے کہا کہ کوشش اللہ نے انسان کے ہاتھ میں رکھی ہے،کامیابی اللہ دیتا ہے،علامہ اقبال نے جو خواب دیکھا تھا ہم اس راستے سے بہت دور نکل گئے ہیں،جب ہمارا ملک بنا ہمیں اسی وقت اس راستے پر چلنا چاہیے تھا،ہم کوئی غلام نہیں بننا چاہتے،ہم ایجاد کرنا چاہتے ہیں.

عمران خان نے کہا کہ ہر شعبے میں آگے بڑھنے کی صلاحیت ہے،سوچ کو بہتر کرنا ہوگا،ٹیکنالوجی اور تعلیم سے وہ راستہ آئے گا،جہاں سے بھی پیسہ بچے گا ہم اس کو بھی تعلیم میں ڈالیں گےکرپٹ لوگوں سے پیسہ نکلوا کر تعلیم پر خرچ کرنے کیلئے قانون سازی کا سوچ رہے ہیں،یہ تاثر غلط ہے کہ مغرب ترقی کر سکتا ہے ہم نہیں،دنیا ٹیکنالوجی اور ترقی کی طرف نکل چکی ہے.

ان کا کہنا تھا کہ ہم خود مختار لوگ ہیں اور خود کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں، پاکستان میں نوجوانوں کی شرح زیادہ اور ترقی بھی ممکن ہے، بگ ڈیٹا، مصنوعی انٹیلی جنس اور دیگر ٹیکنالوجی سے مدد لینی چاہیے، ہمیں اپنےذہنوں کو آزاد کر کے ترقی کا راستہ اپنانا ہوگا.