تحریک انصاف۔۔ سب سے بڑی سیاسی جماعت

پاکستان تحریک انصاف اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے ۔2018ء کے انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والی جماعت بھی تحریک انصاف تھی، اب ملک بھر میں نئی تنظیم سازی کے نتیجے میں تحریک انصاف ایک بہت بڑے حجم کی سیاسی جماعت بننے جا رہی ہے۔ تحریک انصاف کے مخالفین نے ہمیشہ اس کو انڈراسٹیمیٹ کیا ہے چنانچہ آج بھی مخالفین کو اندازہ نہیں ہے کہ تحریک انصاف نئی تنظیم سازی کے بعد کتنی فعال ومتحرک سیاسی جماعت بن چکی ہے۔ 23فروری2020ء کو مینار پاکستان کے وسیع وعریض میدان میں تحریک انصاف نے وسطی پنجاب میں اپنی تنظیمی طاقت کا مظاہرہ کیا تھا۔ وزیراعظم عمران خان کی غیرموجودگی میں چالیس ہزار افراد کا اجتماع ایک غیرمعمولی اجتماع تھا۔ وسطی پنجاب کی تنظیم کے گیارہ ہزار عہدیداران نے اپنے عہدوں کا حلف لیا تو یہ منظر دیکھنے کے لائق تھا۔ تحریک انصاف وسطی پنجاب کے صدر اعجاز چوہدری نے جس سرعت کیساتھ وسطی پنجاب کی تنظیم مکمل کی وہ ان کی اعلیٰ تنظیمی صلاحیتوں کی مرہون منت تھی۔ وسطی پنجاب کے بعد شمالی پنجاب ریجن کی تنظیم نے حلف برداری کا اہتمام کرنا تھا لیکن کرونا کی وبا آڑھے آگئی۔ اب 23ستمبر کو لیاقت باغ راولپنڈی میں تحریک انصاف شمالی پنجاب اپنی تنظیمی طاقت کا مظاہرہ کرنے جا رہی ہے۔ پنجاب میں دوسری مرتبہ عمران خان کے بغیر تحریک انصاف کا یہ تنظیمی اجتماع ہوگا جس سے تحریک انصاف کے مخالفین کو اندازہ لگانے میں آسانی ہوگی کہ تحریک انصاف کتنی بڑی اور مضبوط سیاسی قوت بن رہی ہے۔ تحریک انصاف مرکزی تنظیم کے علاوہ 18ریجنز پر مشتمل تنظیم ہے۔ پنجاب کے تین، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے بالترتیب چار چار ریجنز ہیں جبکہ گلگت بلتستان، آزاد جموں وکشمیر اور اسلام آباد کو بھی ریجن کا درجہ دیا گیا ہے۔ ریجنز کی تنظیم کے نیچے اضلاع، میونسپل کارپوریشن، تحصیل، ٹاؤن، یونین کونسل اور وارڈ کی سطح تک تنظیم سازی کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں تحریک انصاف کی سپورٹ کیلئے 16ونگز تشکیل دئیے گئے ہیں۔ انصاف خواتین ونگ، انصاف یوتھ ونگ، انصاف سپورٹس اینڈ کلچر ونگ، انصاف ویلفیئر ونگ کی تنظیم انہی خطوط اور سطح پر بنے گی جیسے مرکزی تنظیم مکمل ہوئی ہے۔ اس اعتبار سے تحریک انصاف اوپر کی سطح سے لیکر نیچے تک تعداد کے اعتبار سے پانچ ایک جیسی تنظیمیں کھڑی کرے گی۔ دیگر ونگز تحصیل اور ٹاؤنز کی سطح تک تشکیل دئیے جائیں گے۔ یوں عہدیداران کے لحاظ سے تحریک انصاف شاید دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت قرار دی جا سکے گی۔ اس بڑے پیمانے پر تنظیم سازی کا سہرا جس شخصیت کو جاتا ہے وہ سیف اللہ خان نیازی ہیں جنہوں نے وزیراعظم عمران خان کی سوچ کے مطابق تنظیم کا زبردست خاکہ تیار کیا اور بڑی محنت سے اس میں رنگ بھرے۔عمران خان ان پر اعتبار بھی بہت کرتے ہیں کیونکہ یہ سیف اللہ خان نیازی ہی تھے جو اول دن سے ان کیساتھ تھے اور جنہوں نے تحریک انصاف کے دفتر میں کل وقتی ڈیوٹی دی اور مکمل لگن کیساتھ ہمہ وقت تحریک انصاف کی تنظیم سازی میں جُتے رہے۔ 2018ء کاانتخاب اگرچہ تحریک انصاف جیت گئی تھی لیکن اس کی تنظیم عمران خان کے ویژن کے مطابق مکمل نہ ہوپائی تھی چنانچہ آج تحریک انصاف عمران خان کی سوچ کے مطابق ایک ادارہ بننے جا رہی ہے۔ کسی دن تحریک انصاف کے آئین کو انشاء اللہ زیربحث لاؤں گا تاکہ قارئین کو اندازہ ہو سکے کہ تحریک انصاف کو ادارہ بنانے کی بات محض زبانی جمع خرچ نہیں ہے بلکہ ایک بڑی سیاسی جماعت کو درپیش تمام معاملات کو ملحوظ خاطر رکھ کر مختلف تنظیمی کمیٹیاں اور بورڈز بنائے گئے ہیں۔
ایک سیاسی جماعت یونہی ادارہ نہیں بن جاتی۔ اس کی مختلف سطح پر تشکیل اپنی جگہ اہم ہے لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ تنظیم کیسے فنکشن کرے گی، فنڈز کا حساب کتاب کیسے رکھا جائے گا، جماعت کے عہدیداران اور اراکین کا ڈیٹا کیسے مرتب ہو گا، الیکشن کیلئے امیدواروں کا انتخاب کیسے ہو گا، پارٹی کا انفارمیشن سیل کیسے کام کرے گا اور جماعت کی سطح پر اہم پالیسیاں مرتب کرنے کا کیا میکنزم ہوگا، تھنک ٹینک کی تشکیل کیسے ہو گی اور عہدیداران کی ایجوکیشن اور ٹریننگ کا ادارہ کیسے کام کرے گا۔ کالم کی تنگ دامنی اجازت نہیں دے رہی چنانچہ آخری جملہ لکھ کر اجازت چاہوں گا کہ تحریک انصاف کی بحیثیت ادارہ تشکیل کو سمجھنا درکار ہو تو تحریک انصاف کے آئین کا مطالعہ نہایت ضروری ہوگا تب جا کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف کی تنظیم کو کن خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کی تنظیم بحیثیت سیاسی جماعت تحریک انصاف کیلئے تو مضبوط اور فائدے کا سبب ضرور بنے گی لیکن تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے یہ کاوش پاکستان کے سیاسی نظام میں زبردست کنٹری بیوشن کے طور پر بھی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔