درندوں کے ”انسانی” حقوق؟

انسان اور درندوں میں وضع قطع سے زیادہ روئیے کی ایک باریک سا فرق ہوتا ہے۔ یہ فرق مٹ جائے تو ایک وحشی نما انسان اور ایک عام انسان کے حقوق ایک جیسے نہیں رہتے۔ البتہ انسانی حقوق کے نام پر ڈھول پیٹنا اور مسلسل پیٹتے چلے جانا اب جدید مغربی دنیا کا ایک مشغلہ ہے۔ ایسا نہیں کہ ہر شخص اور شہری کیلئے یہ ذہنی عیاشی ہو مغربی معاشروں میں بہت سے لوگ حقیقت میں انسانوں کے حقوق پر یقین بھی رکھتے ہیں اور اس کیلئے ان کے پاس دلائل کا انبار بھی ہوتا ہے مگر ایک بڑا طبقہ فیشن کے طور پر اس اصطلاح کا استعمال کرتا ہے۔بالخصوص مغربی حکمرانوں اور اداروں کے لئے یہ اصطلاح حلق سے اوپر کا معاملہ ہے۔ مشرق وسطیٰ سے افغانستان تک مغرب کی حالیہ جنگوں میں انسانی حقوق کے جو ”موتی” مغربی ملکوں نے بکھیرے ہیں وہ تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں۔ موٹروے سانحے کا شریک مرکزی ملزم گرفتار ہو چکا ہے۔ مرکزی ملزم کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے اور اس کی چار سالہ بیٹی پولیس کی تحویل میں ہے۔ مجرموں کو وحشت اور درندگی کی کیا سزا دی جائے اب یہ سوال بحث کا موضوع ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ مجرموں کو سرعام پھانسی دیکر ان کی لاشوں کو کئی روز تک لٹکتا رہنے دیا جائے۔ ایک اور رائے یہ ہے کہ انہیں نامرد کرکے زندگی بھر کیلئے اپنے ناتمام ارمانوں اور خواہشات کی آگ میں جلنے کیلئے چھوڑ دیا جائے۔ وزیراعظم عمران خان خود بھی اس سوچ کے حامی نظر آرہے ہیں۔ معاشرے کا اجتماعی ضمیر بھی اس معاملے پر یکسو ہے کہ مجرموں کو کڑی اور عبرتناک سزا دی جانی چاہئے۔ قانون کی کتابوں، دلائل اور نظائز کا معاملہ الگ ہے۔ ہمارا قانونی نظام پیچیدہ ہے اور یہاں جرم ثابت کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوتا، ثابت ہوجائے تو سزا کا مرحلہ ہی نہیں آتا یہ معجزہ ہوجائے تو ایسے مدعی اور مظلوم کی قسمت پر رشک ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس واقعے کا مرکزی ملزم بھی کچھ ہی عرصہ قبل ضمانت پر رہا ہوکر آیا ہے۔ جس نوعیت کا جرم ہوا ہے اس میں انسانیت کہیں دور کھو گئی ہے اور فقط درندگی ہی چہار سو رقصاں دکھائی دیتی ہے۔ بچوں کے سامنے ایک بیاباں میں ماں کی اجتماعی بے حرمتی میں انسانیت کا دور دور تک کوئی سراغ اور نام ونشان نہیں ملتا۔ ایسے وحشیوں کیلئے انسانی حقوق کی وکالت کرنے والوں کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ اب جب درندوں کی سزا کا معاملہ سامنے آیا ہے تو بہت سے لوگ ”اگر مگر” کیساتھ انسانی حقوق کے نام پر ان کے دفاع پر اُتر آئے ہیں۔ پوچھنے والے پوچھتے ہیں کہ بھلا درندوں کا انسانیت سے کیا تعلق اور وحشیوں کے انسانی حقوق کس کتاب میں لکھے ہیں۔ موذی درندے جب انسانیت کیلئے خطرہ بن جائیں تو ان کو بدانجام سے دوچار کیا جاتا ہے۔ اس میں یہ بات پیش نظر نہیں ہوتی کہ موذی درندے کو ایذا اور تکلیف پہنچے گی یا نہیں؟ موٹروے سانحے کے مرتکب افراد کسی پہلو اور انداز سے انسان نہیں تھے۔ اس کا یقین نہ آئے تو مظلوم خاتون سے پوچھا جائے کہ اسے وہ کسی طور پر انسان لگ رہے تھے؟ اس لئے انسانی حقوق کے نام پر مغربی این جی اوز کی ”گڈ بک” میں شامل ہونے اور وہاں سے نئے پروجیکٹ کے انتظار اور خواہش میں اس کیس میں انسانی حقوق کا نعرہ لگانے والے حقیقت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور قتل کے مرتکب ہورہے ہیں۔ اس واقعے کے دو کردار درندے اور صرف ایک کردار انسانیت کے زمرے میں آتا ہے۔ دائرۂ انسانیت میں آنے والا کردار فقط وہ خاتون تھی جو فقط اپنے بچوں کی اچھی اور اپنی تہذیبی اقدار کے مطابق تربیت کیلئے فرانس جیسا پرآسائش معاشرہ چھوڑ کر پاکستان آئی تھی اور یہاں اس کا واسطہ جنگلی درندوں سے پڑگیا۔ اس کیس میں سارے انسانی حقوق اسی خاتون کے نام ہیں جس کی مامتا کا پیمانہ اس وقت چھلک پڑا جب مجرم اس کے بچوں کو اغوا کر کے لے جا رہے تھے۔ وہ سود وزیاں سے بے نیاز ہو کر اپنے بچوں کے پیچھے چل دی اور یہی اس معاشرے کی عزت وقار اور شناخت کی بدقسمتی ثابت ہوئی۔ اس لئے حکومت اور اپوزیشن کو اس کیس کو ایک مثال بنانے کیلئے ملزموں کو حقارت بھری موت کا انعام دینا چاہئے۔ موت تو آنی ہی ہوتی ہے۔ موت کا ایک سٹائل معاشرے کیلئے کشش اور رومانوی انداز لئے ہوئے بھی ہوتا ہے جس میں معاشرہ اس مرنے والے کو آئیڈیل بناتا ہے نوجوان اس جیسی موت کی تمنا کرتے ہیں اور موت کا ایک سٹائل وہ بھی جس میں معاشرہ دم بخود ہو کر رہ جاتا ہے اور لوگ ایسی ذلت اور حقارت کی موت سے پناہ مانگتے ہیں۔ ایسی موت کا شکار ہونے والا شخص نفرت کے ایک کردار کے طور پر معاشرے میں یاد رہتا ہے۔ اس کیس کے مجرموں کو ذلت اور حقارت بھری موت کیساتھ رخصت کیا جانا چاہئے تاکہ معاشرے میں دوبارہ ایسے موذی کردار دوبارہ اُبھرنے نہ پائیں۔ ان درندوں کی ضمانتیں کرنے والے سسٹم کی طرف بھی نظر دوڑانا ضروری ہے کہ آخر ظالم کے انسانی حقوق پر اصرار کرنے والے مظلوم کو انسان کا درجہ کب دیں گے؟۔