وہ سانپ ہم نے ہی پالا ہے آستینوں میں

بھارت جیسے دشمن کے ہوتے ہوئے ہمیں ہر لمحہ ہوشیار ہونا پڑتا ہے کیونکہ اس کی کوشش رہتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کو شدت پسند مذہبی ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرکے نہ صرف بدنام کیاجائے بلکہ اسے ایف اے ٹی ایف کے قانون کے تحت گرے لسٹ سے بھی نیچے دھکیل کر بلیک لسٹ میں ڈال کر اس کا ناطقہ بند کیاجائے’ اس لئے یہ جو وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جنسی زیادتی کے مرتکب افراد کیخلاف سرعام پھانسی کے قانون بنانے سے دنیا بھر میں شدید ردعمل ہوسکتا ہے تو انہوں نے بالکل درست کہا ہے اور اپنے گزشتہ کالم مطبوعہ 15ستمبر میں خود میں نے بھی اسی جانب اشارہ کرکے عالمی سطح پر رد عمل آنے کے امکانات ظاہر کئے تھے جبکہ بھارت یقینا اس قسم کے احتجاج میں سرفہرست ہوگا اور دنیا میں یہ تاثر قائم کرنے میں سر گرم کردار اداکرتے ہوئے دنیا کو اسلام اور پاکستان کیخلاف بھڑکانے کی کوشش کرے گا۔ عالمی سطح پر پہلے ہی اسلام کیخلاف نفرت کا لائو پک رہا ہے اور نہ صرف اسلامی شعائر کیخلاف نفرت انگیز مہم چلاتے رہتے ہیں بلکہ اپنے اس روئیے کو اسلاموفوبیا کا نام دیکرایک خوف میں مبتلا ہیں اور بھارت مغرب کے اسی روئیے کو کیش کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے اس لئے سرعام پھانسی کو پاکستان میں شدت پسندانہ رویوں سے جوڑنے کی ہر ممکن سعی کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم نے بعض وزراء کی جانب سے جنسی زیادتی کے مرتکب افراد کو کیمیائی یا پھر جراحی کے ذریعے تو لیدی قوت سے محروم کرنے کے حوالے سے قانون سازی کی تجویز سے اتفاق کیا ہے اور وفاقی وزیر فیصل وائوڈا قانونی بل بنانے کیلئے سرگرم بھی ہوگئے ہیں۔ اگر اس حوالے سے قانون سازی ہو جاتی ہے تو پھر اس قسم کی حرکتیں کرنے والے یہ کہنے پرمجبور ہو جائیں گے کہ
کیا حسن اتفاق ہے تیری گلی میں ہم
اک کام سے گئے کہ ” ہر کام” سے گئے
کم ازکم یہ بات تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس قسم کی قانون سازی کے بعد بھارت اس حوالے سے ایک لفظ منہ سے نہیں نکال سکے گا کیونکہ خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے موضوع پر خود بھارت میں ایک فلم بن چکی ہے’ فلم کا نام تو یاد نہیں رہا’ کہانی بھی کچھ کچھ یاد ہے کہ یہ فلم کمرشل اور روایتی مسالہ فلموں کے زمرے میں شمار نہیں ہوتی بلکہ آرٹ فلموں میں اس کا شمار کیاجاسکتا ہے’اسی لئے سوائے ڈمپل کپاڈیا جیسی مشہور اداکارہ کے باقی کے کردار غیرمعروف اداکاروں نے ادا کئے تھے۔ فلم کی کہانی میں اسی طرح کچھ افراد مختلف مواقع پر خواتین کو زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں۔ ڈمپل کپاڈیا ایک ڈاکٹر کے کردار میں ایسی خواتین کی میڈیکل رپورٹس بنا کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فراہم کرتی ہے اسے بھی اس پاداش میں زیادتی کا نشانہ بنا دیاجاتا ہے۔ اس کے بعد وہ متاثرہ خواتین کو اسی جگہ جمع کرکے ان کو اپنے ساتھ زیادتی کرنے والے مردوں سے بدلہ لینے کیلئے اکساتی ہے اور پھر وہ سب اکٹھی ہو کر ایک ایک کرکے آنے والے دنوں میں اغواء کرتی ہیں اور ڈمپل کپاڈیا بطور ڈاکٹر انہیں بے ہوش کر کے ان کو ”آپریشن” کے عمل سے گزراتی ہے، جب وہ ہوش میں آتے ہیں تو اپنی ”مردانگی” سے محروم ہوچکے ہوتے ہیں، بعد کے مناظر بڑے دلچسپ ہیں۔ بہرحال متعلقہ فلم کی یاد اس لئے آئی کہ اگر ہمارے ہاں ایسی قانون سازی ہوجاتی ہے تو دیکھنا یہ ہوگا کہ اس کیلئے طریقہ کیا اختیار کیا جائے گا۔ اگرچہ یہ حضرت انسان ہی ہے جس نے جانوروں پر اس قسم کے تجربات کر کے ایک حوالے سے کامیابی حاصل کی ہے، یعنی گھوڑی اور گدھے کے ملاپ سے جو نئی نسل پیدا کی گئی اور جسے خچر کہا جاتا ہے، وہ بے چارہ آگے تولیدی قوت سے محروم ہوتا ہے یعنی خچر اپنی نسل کو مزید آگے بڑھانے کی قوت سے عاری ہوتا ہے اور خچروں کی نسل کو آگے بڑھانے کیلئے گھوڑی اور گدھے ہی کے ملاپ کا طریقہ جاری ہے، انسان کیلئے نس بندی تو ضرور ایجاد ہوئی ہے مگر اس حوالے سے جو آپریشن کیا جاتا ہے اس سے مرد کے اندر کی حیوانیت کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ صرف اس کی تولیدی قوت متاثر ہوتی ہے اور ماہرین اسے برتھ کنٹرول یعنی خاندانی منصوبہ بندی کیلئے استعمال کرتے ہیں لیکن ایسے مردوں کی حریصانہ سرگرمیاں ختم نہیں کی جاسکتیں۔ اسلئے دیکھنا یہ ہے کہ اس نئی قانون سازی سے ان درندوں کو سزا دلوانے کا کونسا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے جس سے یہ لوگ ساری زندگی کیلئے ”محروم” ہوکر شرمندگی کا سامنا کریں۔ حبیب جالب نے بھی تو کہا تھا نا کہ
اُٹھا رہا ہے جو فتنے مری زمینوں میں
وہ سانپ ہم نے ہی پالا ہے آستینوں میں
کہیں سے زہر کا تریاق ڈھونڈنا ہوگا
جو پھیلتا ہی چلا جارہا ہے سینوں میں