اس طرح یہ ملک کیسے چلے گا؟

فیڈرل بورڈ ریونیو(ایف بی آر) نے ٹیکس ڈائریکٹری سال 2018جاری کر دی،جس کے مطابق وفاقی کابینہ کے 5ارکان نے کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی خیبر پختونخوا اسمبلی کے ارکان کی جانب سے30جون 2018ء تک جمع کرائے گئے ٹیکس ریٹرن کی تفصیلات کے مطابق صوبے کے ارب پتی اور کروڑ پتی سیاستدانوں میں بعض نے پورے سال کے دوران ایک کوڑی کا ٹیکس بھی جمع نہیں کرایا جبکہ بعض نے چند سو روپے ٹیکس جمع کرایا ہے۔صوبائی اسمبلی میں وزراء سمیت حکومتی اور اپوزیشن کے 14ارکان نے پورے سال کے دوران ایک روپے کا ٹیکس جمع نہیں کرایا۔ ایف بی آر کے جاری کردہ معلومات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی ٹیکس ادانہیں کیا۔جاری دستاویزات کسی سیاسی جماعت یا کسی مخالف گروپ کے جاری کردہ نہیں اور نہ ہی یہ غیر سرکاری دستاویزات اور اعدادوشمار ہیں بلکہ یہ سرکاری ادارے کے جاری کردہ اعدادوشمار ہیں جن کو نہ تو جھٹلایا جا سکتا ہے نہ ہی انکار کی کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی یہ غیر مصدقہ اور اراکین اسمبلی ووزراء کو بدنام کرنے کی کسی مہم کا حصہ ہیں، ان اعداد وشمار کی روشنی میں قائم کی گئی رائے میں بھی مبالغہ اور مخالفت وپراپیگنڈہ جیسے امکانات نہیں بلکہ سب کچھ اعدادوشمار کی صورت میں واضح ہے کہ ہمارے حکمران اور سیاستدان کس معیار زندگی کے حامل ہیں ان کا شاہانہ طرز اور املاک کاروبار اور اثاثے کتنے ہیں اور وہ کتنا ٹیکس دیتے ہیں۔مشیر خزانہ کے اس جملے سے ساری صورتحال واضح ہے کہ اگر پاکستان کے صاحب حیثیت لوگ ٹیکس دینے لگیں تو ملک معاشی مسائل سے نکل آئے گا۔ جن ملکوں میں لوگ ایمانداری سے ٹیکس دیتے ہیں وہاں ان کو ملنے والی سہولیات ومراعات اور ان کے ٹیکس کی رقم کے صحیح استعمال کا معاملہ یقینا اہمیت کا حامل اور وہاں کے شہریوں کا پوری رغبت سے ٹیکس دینے کا عمل فطری امر ہے۔ ہمارے معاشرے میں ٹیکس کی رقم سے تنخواہیں پانے والے افراد اور ادارے جس طرح لوگوں کا استحصال ان کو ہراساں یہاں تک کہ مظالم تک کے مرتکب ہوتے ہیں ایسی صورتحال میں کوئی کیا ٹیکس ادا کرے، نیز ٹیکس دہندگان کی قدر اور ان کو وہ حقوق بھی حاصل نہیں یہ سب کچھ اپنی جگہ حقیقت ضرور ہے لیکن یہ ٹیکس چوری کا جوازنہیں بنتا جس طرح ٹیکس کی رقم کا غلط استعمال جرم ہے اسی طرح ٹیکس کی عدم ادائیگی، ٹیکس چوری اور کم ٹیکس دینا بھی اسی طرح جرم اورایسا کرنے والا قومی مجرم ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ہمارے سیاستدان اور حکمران جتنا ٹیکس ادا کرتے ہیں خاص طور پر بعض وزراء اور اراکین اسمبلی کے ٹیکس دینے کی شرح جس طرح غیرحقیقت پسندانہ اور بعض کا تو سرے سے ٹیکس کی ادائیگی ہی نہ کرنا وہ قومی رویہ ہے جس کے باعث ملک معاشی طور پر بدحال اور آئے روز قرضوں کے بوجھ تلے دبا جارہا ہے، یہاں نظام حکومت چلانے اور تنخواہوں کی ادائیگی بھی قرض کی رقم سے ہوتی ہے۔ جب سیاستدانوں اور حکمرانوں کا یہ عالم ہوگا صنعت کاروسرمایہ کار ٹیکس چوری میں ملوث ہوں گے تو ملک کے معاشی مشکلات میں کمی کیسے آئے گی۔وطن وعزیز میں زکوٰة کی صحیح ادائیگی ہو تو کوئی غریب نہ رہے اور ٹیکس کی ادائیگی ایمانداری سے کرے تو قرض لینے کی ضرورت نہ پڑے، ہمیں بحیثیت قوم اس امرپر غور کرنا ہی پڑے گا کہ اگر ہم نے اپنی آئندہ نسلوں کو ایک اچھا ملک چھوڑ کر جانا ہے تو ٹیکس کی ادائیگی ایمانداری سے کرنا ہوگی، ٹیکس کی عدم ادائیگی اور وصولی کے نظام کو اگر بہتر بنانا ہے تو اس کیلئے ایف بی آر کے نظام میں بھی اصلاحات اور تبدیلیاں لانی پڑیں گی۔ ٹیکس وصولی کے ذمہ دار سرکاری ملازمین کو ایمانداری اور جانفشانی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ٹیکس کے نظام کو شرفاء کی پگڑیاں اچھالنے، سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے اور اس کے غلط استعمال کو روکنا ہوگا۔ شفاف طریقے سے ٹیکس کی وصولی اور ٹیکس کی رقم کے صحیح استعمال کا عوام کو یقین آجائے تبھی لوگ ٹیکس کی ادائیگی پر راغب ہوں گے اور تبھی عوام ان سیاستدانوں کوووٹ دینے سے احتراز کریں گے جو ٹیکس چور اور بد عنوان ہوں۔