اپوزیشن کی اکثریت اقلیت میں کیسے تبدیل ہوئی؟

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کی 224ووٹوں کیساتھ عددی اکثریت تھی لیکن اس کے 190ارکان اجلاس میں شریک ہوئے۔ حکومتی ارکان کی تعداد216تھی لیکن حاضر ارکان 200تھے۔ دس ووٹوں کی برتری سے حکومت نے قانون سازی کے اُس عمل کو مکمل کروا لیا جو قبل ازیں سینیٹ سے اس لئے مکمل نہ ہو پایا کہ حکومت کے پاس اکثریت نہیں تھی۔ ہمیں یہ نکتہ بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ ایک مرحلہ پر اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کیوں کیا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ بنا قانونی تقاضے پورے کئے کسی بھی شخص کو 6ماہ تک پولیس کی تحویل میں رکھنے اور 60دن اس کی ریکی کرنے کے قانون کا جواز کیا ہے؟۔ اپوزیشن کا یہ الزام قابل غور ہے کہ رائے شماری کے وقت ایوان میں موجود غیرمنتخب مشیروں کو بھی ووٹ تصور کرتے ہوئے گنتی میں شامل کیا گیا۔ یہ الزام درست ہے تو سارا عمل غیرقانونی ہو جائے گا۔ غیرمنتخب مشیر اجلاسوں میں شرکت کر سکتے ہیں مگر منتخب ارکان کی طرح قانون سازی کے عمل یعنی رائے دینے کا حق نہیں رکھتے۔ قومی اسمبلی کے سابق سپیکر ایاز صادق اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان نے اس حوالے سے جو کہا ہے اسے یکسر مسترد کرنے کی بجائے تحقیقات ہونی چاہئے۔ یہ الزام برائے الزام ہے تو قابل مذمت ہے اپنے موقف کے حق میں ان کے پاس شواہد ہیں تو قانون سازی کا سارا عمل غیرقانونی قرار پائیگا۔
اب بنیادی سوال اور معاملہ اپوزیشن کا ہے، اس کے پاس مشترکہ اجلاس میں 224ارکان کی اکثریت تھی۔ حزب اختلاف کے پارلیمانی گروپوں کو مشترکہ اجلاس کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا؟ تھا تو پھر اس کے 34ارکان غیرحاضر کیوں تھے؟ 34میں سے ایک رکن قومی اسمبلی سابق صدر آصف زرداری علیل ہیں۔ بجا! کیا وہ محدود سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتے۔ محدود سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں تو کچھ وقت کیلئے مشترکہ اجلاس میں بھی آجاتے، دوسرے خورشید شاہ جیل میں ہیں، پی پی پی کی سینیٹر محترمہ روبینہ خالد بھی ہسپتال میں ہیں، باقی کے21ارکان میں16نون لیگ کے3پیپلز پارٹی اور2جے یو آئی ف کے غیرحاضر تھے۔ تینوں جماعتیں عوام کو بتائیں کہ اگر بدھ کو مشترکہ اجلاس میں ہوئی قانون سازی بقول ان کے غیرقانونی ہے تو ان کے ارکان اس کا راستہ روکنے کیلئے ایوان میں کیوں موجود نہیں تھے؟ پی پی پی کے ایک رکن قومی اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کے بعض ارکان کو مشترکہ اجلاس سے قبل نامعلوم ٹیلیفون نمبروں سے فون کر کے دھمکایا گیا اور دھمکانے والوں نے انہیں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں شرکت پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ کیا دھکمائے گئے ارکان نے اجلاس سے قبل اپنی اپنی قیادت کو اس معاملے سے آگاہ کیا؟اگر اپوزیشن اپنے اس الزام کو کسی فورم پر ثابت کر دیتی ہے تو پارلیمان کا مشترکہ اجلاس ہی غیرقانونی ہو جائے گا۔ اگر اجلاس کی قانونی حیثیت متنازعہ ہوتی ہے تو اصولی طور پر بدھ کو ہوئی قانون سازی کا معاملہ دوبارہ پارلیمان میں پہنچانا لازم ہوگا۔
یہاں سوال یہ ہے کہ اس سنگین الزام کی تحقیقات کون کروائے گا؟ اصولی طور پر سینیٹ اور قومی اسمبلی کے پارلیمانی لیڈروں پر مشتمل خصوصی کمیٹی بنائی جانی چاہئے جو تین باتوں (الزامات) کی تحقیقات کرے۔ اولاً مشیروں کو رائے دہندگان میں شامل کرنا یعنی ووٹ قرار دینا۔ ثانیاً سپیکر پر گنتی میں رد وبدل اور ثالثاً اپوزیشن کے بعض ارکان کو دھمکائے جانے والے ٹیلیفونز یہ تبھی ممکن ہے جب اپوزیشن ان الزامات کے حوالے سے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں الگ الگ قرارداد جمع کروانے کیساتھ پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلوانے کی ریکوزیشن دے۔ (یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا مشترکہ اجلاس ریکوزیشن پر منعقد ہو سکتا ہے) یا پھر اپوزیشن یہ سارا معاملہ عدالت میں لے جائے۔ اپنے الزامات اور اپنائے گئے مؤقف کی بدولت گیند اپوزیشن کے کورٹ میں ہے اسے ثابت کرنا بھی اس کا کام ہے۔
یہ عرض کر دینے میں کوئی امر مانع نہیں کہ اگر اپوزیشن اپنے الزامات کے حوالے سے آنے والے دنوں میں پارلیمانی وقانونی راستہ اختیار نہیں کرتی تو یہ سمجھا جائے گا کہ اس کے 21ارکان کسی ملی بھگت کی وجہ سے اجلاس میں نہیں آئے۔ ملی بھگت (گو یہ سخت الفاظ نہیں) کے حوالے سے دو کہانیاں گردش کر رہی ہیں۔ اولاً یہ کہ نون لیگ کے جو 16ارکان اجلاس میں شریک نہیں ہوئے وہ شہباز شریف کی مصالحتی سیاست کا حصہ ہیں اور انہی کے اشارے پر غیرحاضر ہوئے، پیپلز پارٹی کے پانچ میں سے دو ارکان بیمار ہیں ایک جیل میں باقی دو کیوں نہیں آئے کیا ان ارکان کے پچھلے کچھ عرصہ سے حکومت سے رابطے ہیں، ان رابطوں نے ہی ان کے پاؤں میں زنجیر ڈالی، اب آخری بات اس حوالے سے یہ ہوئی کہ ایم ایم اے یعنی جے یو آئی (ف) کے دو ارکان کیوں غیرحاضر تھے، کیا اس غیرحاضری کیلئے ان کے پاس کوئی حقیقی جواز ہے؟ فیٹف سمیت دیگر جن امور پر بدھ کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں قانون سازی ہوئی ان میں بہت سارے معاملات پر تحفظات رائے عامہ میں بھی موجود ہیں، یہ تحفظات وزیراعظم کی خالص سیاسی تقریر (ایسی تقریر جو جلوس میں کی جاتی ہو) سے دور نہیں ہوتے۔ مکرر عرض ہے تحفظات رکھنے والے یا اس قانون کی مخالفت کرنے والے بھی اتنے ہی محب وطن ہیں جتنے قانون سازی کرنے والے۔ یہ الزامات کا بچگانہ کھیل نہیں، ملک اور عوام کے آئندہ ماہ وسال کا معاملہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن کی حکمت عملی کیا ہوگی، محض الزامات کی بارش اور خاموشی یا قانونی حق کا استعمال؟۔