گرگئے سجدے میں جب وقت قیام آیا

یہ خبر اُڑتی اُڑتی نہیں بلکہ سچی مچی واشنگٹن سے پھوٹتی ہوئی مسلم اُمہ پر نچھاور ہوگئی، خطہ عرب میں شہنائیاں گونج اُٹھیں کہ عرب دنیا کا چھٹا ملک اسرائیلی مہد میں راحت پائے گا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ حال ہی میں یہ راحت اور سکون پہلے عرب امارات کو ملی، اس کے بعد بحرین نے بھی خرید لی لیکن نہیں اس سے پہلے مصر، اُردن اور عراق اسرائیل کے پالنے میں جھول گئے ہیں، اب چھٹا اعزاز پانے کیلئے قطر نے بھی آگے بڑھنا شروع کر دیا ہے، جس کا سب سے پہلے امریکا نے موصوف قطر کا سواگت کیا ہے اور دنیا میں بھونپو پھونک دیا ہے کہ قطر بھی اسرائیل سے تعلقات کیلئے تیار کھڑا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب مسلم دنیا کی دھرتی کے ایسے لاڈلے ہیں جنہوں نے ترنت کہہ دیا کہ جب تک فلسطین پر سے صیہونیوں کا جبر بند نہیں ہوتا تب تک اسرائیل کو مانا نہ جائے گا لیکن یہ اِچھا سب سے پہلے سعودی عرب نے دی جبکہ ترکی کو اپنا رول ماڈل قرار دینے کا ادعا کر نے والے وزیراعظم پاکستان نے اس اِچھا میں پیروی سعودیہ کی کی ہے کیونکہ ملائشیا میں سربراہ کانفرنس کی تجویز دیکر اس میں جلوہ افروز ہونے سے انکار کر دیا تھا تب سے موصوف سعودیہ کی پیروی کرنے لگے، جس طرح پاکستان کے سابق صدر مرحوم ایوب خان شاہ ایران کی پیروی کرتے تھے، انہیں کس نے اس لائن میں لاکھڑا کر دیا ہے بعض کا خیال ہے کہ وہ پاکستان میں مدینہ ریاست کے بانی ہیں اور مدینہ منورہ کا تعلق سعودیہ عرب کے نقشے پر ثبت ہے اس لئے قیلولہ ملتا ہے، پہلے بات ہو جائے قطر کی، جب عرب دنیا میں صیہونیوں نے گہری سازش کرکے خلافت عثمانیہ کے صیہونی پرست لیڈر کمال اتاترک کو تابوت کے اندر ٹھوک دیا تو اس کیساتھ ہی عرب دینا کا بٹوارہ بھی کر ڈالا، اس طرح عرب دنیا کی چھوٹی چھوٹی ریاستیں وجود میں آئیں، ان میں مملکت قطر بھی معرض وجود میں آیا اور قطر کی قسمت میں نہ تو پانی کے کنوئیں اور نہ تیل کے کنوئیں آئے، صرف ریت ہی ریت آئی جس کو اہل قطر پھانک کر زندہ نہیں رہ سکتے تھے اور وہ عرب بادشاہوں کے آگے ہاتھ پھیلائے رکھتے تھے چنانچہ عرب بادشاہ بھی قطر کے بادشاہ کو بھکاری سمجھتے ہوئے کچھ ان کے کشکول میں ڈالنے سے پہلے کافی دیر بٹھائے رکھتے، جس طرح کسی ریاست کی خفیہ تنظیم کا افسر اپنے مخبر کو ہدیہ دینے سے پہلے گھنٹوں کمرے سے باہر بٹھا کر اس کی عزت افزائی کیا کرتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ جب ایسے حالات کا پتہ میاں شریف کو ہوا تو انہوں نے شاہ قطر سے بات کی اور ان کو مالی امداد کی پیشکش کی، شاہ نے کہا کہ ہمارے پاس تو سوائے ریت کے کچھ بھی نہیں تو ہم اس کے بدلے کیا لوٹائیں گے جس پر میاں محمد شریف نے کہا کہ انہیں بس یہ ریت ہی دیدیا کریں، بات پکی ہوگئی اور تب سے خوشحالی اور ترقی میاں شریف کے قدم درقدم چومتی چلی گئی۔ پھر اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ قطر بھی تیل کی دولت سے نہال ہوگیا جہاں پانی کیلئے کھدائی کی وہاں وہاں تیل ہی تیل اُچھل اُچھل کر اُبل پڑا۔ آج قطر عرب دنیا کا سب سے زیادہ مضبوط اقتصادی اور تعلیمی (جہاں سو فیصد تعلیم یافتہ افراد کی کھیپ ہے) ریاست بنی ہے۔ واشنگٹن میں جو خبر قطر کے بارے میں اُچھالی گئی اس کے بانی خلیجی امور کیلئے امریکی نائب معاون وزیرخارجہ ہیں، انہوں امریکی صدر ٹرمپ کی طرح دنیا کو یہ بھی بتا دیا کہ قطر کے علاوہ بھی عرب ریاستیں اسرائیل سے ناتا جوڑنے کیلئے تیار بیٹھی ہیں۔ اب کون جانے کہ فلسطینیوںکو اسرائیل کب حقوق سے نوازے گا، شاید امریکا کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کو باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا جبھی وہ انتظار کی گھڑیاں گن رہے ہیں اور اسی انتظارکے خواب کی تعبیر کی تکمیل کیلئے سازگار حالات کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔دولت کی ریپل کے باوجو د عرب دنیا نہ ترقی یافتہ بن پائی اور نہ مضبوط دفاع کی حامل ہوئی کیونکہ بادشاہ اپنے عوام کو ہی فتح کرنے اور اپنی عیش وعشرت کی فکرمندی میں مبتلاء رہتے ہیں۔ اسرائیل جو کبھی پانی اور تیل کے لحاظ سے قطعی مرحوم ملک تھا اب وہ عرب دنیا میں سب کو بہت پیچھے چھوڑ چلا ہے، اُردن بھی اسرائیل کے پانی کا محتاج بناہوا ہے اور صرف مصر کو اسرائیل85ملین کیوبک میٹر گیس فراہم کر رہا ہے جس سے اسرائیل کو سالانہ ساڑھے انیس بلین ڈالر آمدنی ہورہی ہے اور وہ اس وقت دنیا بھر میں زراعت کے شبعے میں سب پر سبقت لے جا چکا ہے۔ امریکا کی آشیرباد کا یہ عالم ہے کہ45مرتبہ امریکا اسرائیل کیخلاف ایکشن لینے کی قراردادیں ویٹو کر چکا ہے، امریکا نے اسرائیل کو خطرات سے محفوظ رکھنے کی غرض سے جمہوری طریقے سے کامیاب ہونے والے اسلام پسندوں کی حکومتوں کا تختہ تک اُلٹ دیا جیسا کہ الجزائر، افغانستان، مصر وغیرہ اور ایسے کئی اور ممالک بھی ہیں۔اسی طرح ٹرمپ نے ثالثی کا فریب دیکر اسرائیل کی خواہش کے مطابق مقبوظہ کشمیر بھارت کے ہتھے چڑھا دیا، اگر امریکی صدر یہ یقین رکھتے تھے کہ کشمیر ایک متنازعہ علا قہ ہے اور اسی بناء وہ ثالثی کی پیشکش بھی کر رہے ہیں تو امریکہ نے اب تک بھارت کیخلاف کیوں کوئی ایکشن نہیں لیا جس طرح انہوں نے صدر صدام کیخلاف کویت پر فوج کشی کرنے کے موقع پر لیا تھا۔