اوورسیز پاکستانیوں کی واپسی میں حکومتی وزرا اور مشیر رکاوٹیں ڈالنا بند کریں۔ ایمل ولی خان

ویب ڈیسک (پشاور): عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے حکومتی وزراء اور دیگر اہلکاروں کی جانب سے اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ ناروا سلوک کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی واپسی میں حکومتی وزرا اورمشیر رکاوٹیں ڈالنا بند کریں، حکومتی وزیر کی اجارہ داری کسی بھی صورت قابل برداشت نہیں، باچاخان مرکز پشاور میںاے این پی سعودی عرب کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ ائرٹکٹس بلیک میں فروخت ہورہے ہیں جن کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، پی ٹی آئی کے امپورٹڈ معاون خصوصی زلفی بخاری کی جانب سے بھیجی گئی لسٹ کے بغیر کسی کو ٹکٹ جاری نہ کرنا شرمناک اور افسوسناک ہے، اگر کوئی پی ٹی آئی کا ورکر نہیں تو ان کا واپس جانا مشکل تر بنایا جارہا ہے، آج ائرٹکٹس کی قیمتیں غریب کے بس میں نہیں، اگر یہ کرپشن نہیں تو اور کیا ہے؟ سالانہ اربوں ڈالرز کا زرمبادلہ بھیجنے والے پاکستانیوں کے ساتھ سوتیلے ماں جیسا سلوک قابل مذمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی ممالک نے اوورسیز پاکستانیوں کو کورونا وبا کے دوران سہولیات فراہم کیں، اپنے ملک کے وزراء سفارشی افراد کو ٹکٹس فراہم کررہے ہیں لیکن مزدوراور غریبوں کا کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ،اے این پی اس طرز عمل کی نہ صرف مذمت کرتی ہے بلکہ اس کی روک تھام کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھائے گی، ایمل ولی خان نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی بیرون ملک پاکستان کے سفراء ہیں، اے این پی مشکل کی اس گھڑی میں انکے ساتھ کھڑی ہے، پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ اوورسیز پاکستانیوں نے سپورٹ کیا، آج سب سے زیادہ انہیں بے عزت اور خوار کیا جارہا ہے۔